پیٹرن کے مطابق سوال کرنے کا مطلب کیا ہے؟ پیٹرن کے مطابق جواب
سوالوں کے پیٹرن کسے کہتے ہیں ؟ آج ہم اس موضوع پر تفصیلی ہمہ وقت بات کریں گے اور آپ کو بتائیں گے کے باتوں میں پیٹرن کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ جیسے سوالوں کا پیٹرن،، ہر چیز کے پیٹرن ہوتے ہیں، مثال کے طور پر موبائل کا سکرین لاک کھولنے کے لیے پیٹرن کا ضرورت ہوتا ہے ( یہاں پیٹرن کا مطلب کوڈ ہے ) کچھ دروازے ایسے ہوتے ہیں جس میں صحیح پیٹرن ملاتے ہیں تو دروازہ کھل جاتا ہے، جیسے سم سم دروازہ کھل جا ( علی بابا چالیس چور کا ڈرامہ دیکھا ہوگا یا قصہ سنا ہوگا۔ یہاں پیٹرن کا مطلب جادو ہے۔ سوشل اکاؤنٹس/ ای میلز / بینک اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کے لیے ایک مخصوص قسم کا پیٹرن ہوتا ہے جیسے نمبروں میں یا کچھ انگلش کے ورڈ رکھ لیے جاتے ہیں یا انکرپشن کی بنایا جاتا ہے تو یہ سب مختلف الگ الگ قسموں کے پیٹرن ہوتے ہیں۔ مگر ہم یہاں وضاحت کریں گے کے باتوں کا بمعنی سوالوں کا پیٹرن کسے کہتے ہیں ؟ یہ کوئی موبائل فون کے لاک کھولنے کی طرح پیٹرن نہیں ہے، کیونکہ موبائل فون کا پیٹرن سینکڑوں یا ہزار طرح کا ہوسکتا ہے، اور باقی کروڑوں لوگ انہی میں سے کوئی بھی طرح کا پیٹرن رکھ سکتے ہیں، بمعنی موبائل فون کا ایک ہی پیٹرن دنیا میں ہزار لوگوں نے رکھا ہوگا۔ اور دوسری طرح کا پیٹرن بھی دنیا میں ہزاروں لوگوں نے رکھا ہوگا، کیونکہ موبائل فون کا پیٹرن ہی سینکڑوں سے ہزار تک ہے جسے کروڑوں لوگ استعمال کر رہے ہیں تو ہر کوئی اپنی مرضی کا پیٹرن رکھ لیتے ہیں۔ اور یہاں ہم سوالوں کے پیٹرن کی بات کریں گے۔ سوالوں کا پیٹرن ایسا ہوتا ہے جیسے کیو آر کوڈ کو لے لیجئے یہ پوری دنیا کا ہر فرد بھی کیو آر کوڈ استعمال کرتا ہے تو ہر کسی کا کیو آر کوڈ مختلف ہوتا ہے، اسی طرح ہر سوالوں کے جواب اسی کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ اور ہم سوالوں کا پیٹرن کا تشبیہ انگوٹھوں کے نشان سے بھی دے سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں اور ہر انسان کا انگوٹھے کا نشان مختلف ہوتا ہے ، جس سے متعلقہ انسان پہچانا جاتا ہے کے اس کا انگوٹھے کا نشان کیسا ہے۔ غرض اسی طرح سوالوں کے پیٹرن ہوتے ہیں، بظاہر یہ پیٹرن ایسے نظر آتے ہیں کے جیسے کوئی پیٹرن نہیں ہے مگر حقیقت میں یہ سب پیٹرن ہوتے ہیں یہ پیٹرن ہزاروں لاکھوں یا کروڑوں میں نہیں ہوتے ہیں بمعنی انکی تعداد مقرر نہیں ہوتا ہے بلکہ حکیم آصف آرائیں کہتے ہیں کے انکی تعداد کا اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا مگر اتنا کہا جاسکتا ہے کے یہ کروڑوں سے بھی ذیادہ ہیں مگر کتنا ذیادہ ہیں تو یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔ - - اگر مثال کے طور پر حکیم آصف آرائیں کے پاس کوئی بھی حق انصاف کا سوال رکھ دیا جائے تو حکیم آصف آرائیں اس سوال کا جواب کتنی دیر میں سمجھ سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب ہے کے صرف دو سے تین سیکنڈ اور ذیادہ سے ذیادہ پانچ سیکنڈ ۔ پانچ سیکنڈ کا مطلب ہے کے حکیم آصف آرائیں کا اپنا منہ بھی بولنے کے لیے شروع ہوچکا ہوگا۔ مثال کے طور پر حکیم آصف آرائیں فرماتے ہیں کے سوالوں کے پیٹرن لاکھوں کروڑوں سے بھی ذیادہ ہوتے ہیں مگر یہ نہیں پتا کے کتنا ذیادہ ہوتے ہیں۔ اگر حکیم آصف آرائیں کہیں کے پورا آسمان بھر جائے سوالوں کے پیٹرن سے تب بھی حکیم آصف آرائیں سوالوں کے جواب رکھتے ہیں مگر یہ جواب نہیں رکھتے ہیں کے کتنے حد تک جواب رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی حق انصاف کے مطابق کسی بھی سوال کا پیٹرن حکیم آصف آرائیں کو دیا جانے اور اگر کسی لوگوں کے گمان میں ہو کے فلاں سوال کا پیٹرن لاکھوں کروڑوں کے بیچ میں کہیں چھپا ہوا ہے تو دو سے تین سیکنڈ میں اس کو کیسے ڈھونڈ لیا جاتا ہے ؟ اگر ایسا کوئی سوچتے ہیں تو حکیم آصف آرائیں کہتے ہیں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے سوچنا نہیں پڑتا یا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا کے ابھی فلاں سوال کا جواب فلاں فہرستوں کے بیچ میں پھسا ہوا ہے تو اسکا نکلنے کا انتظار کیا جائے۔ بلکہ جب سوال کا پیٹرن حکیم آصف آرائیں کی ذات کو مل جاتا ہے تو حکیم آصف آرائیں اس متعلقہ پیٹرن کو سکین کرلیتے ہیں اور جب سکین کرلیتے ہیں تو برقی مقناطیس کی طرح اسکا جواب جو کے اسی پیٹرن کا حصہ ہے تو وہ آٹو میٹک اپنے پیٹرن سے مل جاتا ہے۔ بمعنی سوالیہ پیٹرن سے اسکا گمشدہ جوابی حصہ آٹو میٹک مل جاتا ہے۔ اگرچہ متعلقہ جواب لاکھوں کی فہرستوں کے اندر ہو مگر وہ جواب آٹومیٹک اس صورت میں فوراً باہر آجاتا ہے کیونکہ اسی جواب کا سوالیہ حصہ پیٹرن سامنے آچکا ہے، تو بس جو بھی اسکا پیٹرن جواب ہوگا تو وہ آٹو میٹک اپنے پیٹرن سے مل جائے گا ۔ جیسے اگر کوئی سوالیہ پیٹرن خود سامنے رکھ دیا جائے تو پھر سامنے مشین کے اندر لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں جتنے بھی پیٹرن ہونگے تو وہ سب اپنا آرام کریں گے مگر جو پیٹرن جواب مشین کے کسی بھی تہے میں ہوگا مگر اسکا سوالیہ پیٹرن مشین کو دے دیا گیا ہے تو اسی کا جوابی پیٹرن خودبخود برقی مقناطیس کی طرح اپنے سوالیہ پیٹرن سے مل جاتا ہے جسے یہ سب خودکار نظام کہتے ہیں ۔ اور سوالیہ پیٹرن سے جوابی پیٹرن کا آپس میں ملنے کا سفر منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں ہوتا ہے، کیونکہ منٹوں میں ہونے سے زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے اور سیکنڈوں میں ہونے سے یہ نظام چلتا رہتا ہے۔ دنیا میں ایسے بھی سائنسدان ہیں کے جو پیٹرن سے مسئلہ حل کرتے ہیں تو وہ منٹوں میں یا گھنٹوں میں کرتے ہیں اور کوئی سائنسدان ایسے بھی ہوتے ہیں کے جو اگرچہ پیٹرن سے مسئلہ حل کرتے ہو مگر کوئی حد ایسی بھی ہوتی ہے کے جہاں پر پہنچ کر کنفیوژن ہو جاتے ہیں اور پیٹرن سے بھی مسئلہ حل نہیں کرسکتے ہیں۔ بمعنی ہر کسی کا اپنا سطح ہوتا ہے اور ہر سائنسدان اپنے سطح کے مطابق پیٹرن سے کام کرتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں سوالیہ پیٹرن کو دو چیزوں سے تشبیہ دیتے ہیں کے جو بظاہر ایک ہی ہوتا ہے مگر انکے سسٹم میں تبدیلی ہوتا ہے جسے سکین کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کے یہ ایک نہیں بلکہ مختلف ہیں۔ جیسے کیو آر کوڈ/ بار کوڈ یا انگوٹھے کے نشان تو بالکل ایسے ہی سوالیہ پیٹرن ہوتے ہیں اور جیسے پیٹرن ہوتے ہیں تو اسکا وہی جواب ہوتا ہے کے جو سوالیہ پیٹرن سے جوابی پیٹرن کے جو اسی کا حصہ ہوتا ہے تو وہ خودبخود باہر آجاتا ہے۔ سوال اگر پیٹرن کے مطابق ہو تو اسکا جواب بھی پیٹرن کے مطابق ہوتا ہے اور اسے حق کہتے ہیں۔
Labels: Education
.png)

0 Comments:
Post a Comment
اپنا پیغام یا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے:
اگر آپ کا کوئی بھی سوال یا درخواست ہے، تو براہ کرم اسے مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر بھیجیے۔ آپ کا ہر پیغام ہمارے پاس محفوظ رہتا ہے۔
عمل درآمد کا طریقہ: جیسے ہی ہم آپ کی درخواست پر کام کرنا شروع کریں گے، آپ کو ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا جائے گا اور آپ کا پیغام بلاگ پر پبلک کر دیا جائے گا۔
تکمیل کا ثبوت: اگر آپ کا میسج پبلک ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی درخواست پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور آپ کے متعلقہ سوال کا جواب دے دیا گیا ہے۔
اہم شرط: آپ کے سوال یا درخواست کا جواب دینا تبھی قابلِ قبول اور ممکن ہوگا جب آپ نے ہمارے بلاگ کو فالو کیا ہو۔ اگر آپ نے ابھی تک ہمارے بلاگ کو فالو نہیں کیا، تو براہ کرم ہمارے بلاگ کے ہوم پیج پر جائیے اور وہاں سائیڈ بار یا نیچے موجود 'Follow / Subscribe' کے بٹن پر کلک کر کے ہمارے بلاگ کے ممبر بنیے، تاکہ ہم آپ کی بہترین رہنمائی کر سکیں۔
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home