×
Menu
Follow
Label
Education Hakim Asif Arain Health News Report Religion
About Us Privacy Policy Cognitive Profile Platforms

Monday, 21 September 2026

پیٹرن کے مطابق سوال کرنے کا مطلب کیا ہے؟ پیٹرن کے مطابق جواب

سوالوں کے پیٹرن کسے کہتے ہیں ؟ آج ہم اس موضوع پر تفصیلی ہمہ وقت بات کریں گے اور آپ کو بتائیں گے کے باتوں میں پیٹرن کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ جیسے سوالوں کا پیٹرن،، ہر چیز کے پیٹرن ہوتے ہیں، مثال کے طور پر موبائل کا سکرین لاک کھولنے کے لیے پیٹرن کا ضرورت ہوتا ہے ( یہاں پیٹرن کا مطلب کوڈ ہے ) کچھ دروازے ایسے ہوتے ہیں جس میں صحیح پیٹرن ملاتے ہیں تو دروازہ کھل جاتا ہے، جیسے سم سم دروازہ کھل جا ( علی بابا چالیس چور کا ڈرامہ دیکھا ہوگا یا قصہ سنا ہوگا۔ یہاں پیٹرن کا مطلب جادو ہے۔ سوشل اکاؤنٹس/ ای میلز / بینک اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کے لیے ایک مخصوص قسم کا پیٹرن ہوتا ہے جیسے نمبروں میں یا کچھ انگلش کے ورڈ رکھ لیے جاتے ہیں یا انکرپشن کی بنایا جاتا ہے تو یہ سب مختلف الگ الگ قسموں کے پیٹرن ہوتے ہیں۔ مگر ہم یہاں وضاحت کریں گے کے باتوں کا بمعنی سوالوں کا پیٹرن کسے کہتے ہیں ؟ یہ کوئی موبائل فون کے لاک کھولنے کی طرح پیٹرن نہیں ہے، کیونکہ موبائل فون کا پیٹرن سینکڑوں یا ہزار طرح کا ہوسکتا ہے، اور باقی کروڑوں لوگ انہی میں سے کوئی بھی طرح کا پیٹرن رکھ سکتے ہیں، بمعنی موبائل فون کا ایک ہی پیٹرن دنیا میں ہزار لوگوں نے رکھا ہوگا۔ اور دوسری طرح کا پیٹرن بھی دنیا میں ہزاروں لوگوں نے رکھا ہوگا، کیونکہ موبائل فون کا پیٹرن ہی سینکڑوں سے ہزار تک ہے جسے کروڑوں لوگ استعمال کر رہے ہیں تو ہر کوئی اپنی مرضی کا پیٹرن رکھ لیتے ہیں۔ اور یہاں ہم سوالوں کے پیٹرن کی بات کریں گے۔ سوالوں کا پیٹرن ایسا ہوتا ہے جیسے کیو آر کوڈ کو لے لیجئے یہ پوری دنیا کا ہر فرد بھی کیو آر کوڈ استعمال کرتا ہے تو ہر کسی کا کیو آر کوڈ مختلف ہوتا ہے، اسی طرح ہر سوالوں کے جواب اسی کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔ اور ہم سوالوں کا پیٹرن کا تشبیہ انگوٹھوں کے نشان سے بھی دے سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں جتنے بھی انسان ہیں اور ہر انسان کا انگوٹھے کا نشان مختلف ہوتا ہے ، جس سے متعلقہ انسان پہچانا جاتا ہے کے اس کا انگوٹھے کا نشان کیسا ہے۔ غرض اسی طرح سوالوں کے پیٹرن ہوتے ہیں، بظاہر یہ پیٹرن ایسے نظر آتے ہیں کے جیسے کوئی پیٹرن نہیں ہے مگر حقیقت میں یہ سب پیٹرن ہوتے ہیں یہ پیٹرن ہزاروں لاکھوں یا کروڑوں میں نہیں ہوتے ہیں بمعنی انکی تعداد مقرر نہیں ہوتا ہے بلکہ حکیم آصف آرائیں کہتے ہیں کے انکی تعداد کا اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا مگر اتنا کہا جاسکتا ہے کے یہ کروڑوں سے بھی ذیادہ ہیں مگر کتنا ذیادہ ہیں تو یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ۔ - - اگر مثال کے طور پر حکیم آصف آرائیں کے پاس کوئی بھی حق انصاف کا سوال رکھ دیا جائے تو حکیم آصف آرائیں اس سوال کا جواب کتنی دیر میں سمجھ سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب ہے کے صرف دو سے تین سیکنڈ اور ذیادہ سے ذیادہ پانچ سیکنڈ ۔ پانچ سیکنڈ کا مطلب ہے کے حکیم آصف آرائیں کا اپنا منہ بھی بولنے کے لیے شروع ہوچکا ہوگا۔ مثال کے طور پر حکیم آصف آرائیں فرماتے ہیں کے سوالوں کے پیٹرن لاکھوں کروڑوں سے بھی ذیادہ ہوتے ہیں مگر یہ نہیں پتا کے کتنا ذیادہ ہوتے ہیں۔ اگر حکیم آصف آرائیں کہیں کے پورا آسمان بھر جائے سوالوں کے پیٹرن سے تب بھی حکیم آصف آرائیں سوالوں کے جواب رکھتے ہیں مگر یہ جواب نہیں رکھتے ہیں کے کتنے حد تک جواب رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی حق انصاف کے مطابق کسی بھی سوال کا پیٹرن حکیم آصف آرائیں کو دیا جانے اور اگر کسی لوگوں کے گمان میں ہو کے فلاں سوال کا پیٹرن لاکھوں کروڑوں کے بیچ میں کہیں چھپا ہوا ہے تو دو سے تین سیکنڈ میں اس کو کیسے ڈھونڈ لیا جاتا ہے ؟ اگر ایسا کوئی سوچتے ہیں تو حکیم آصف آرائیں کہتے ہیں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے سوچنا نہیں پڑتا یا انتظار بھی نہیں کرنا پڑتا کے ابھی فلاں سوال کا جواب فلاں فہرستوں کے بیچ میں پھسا ہوا ہے تو اسکا نکلنے کا انتظار کیا جائے۔ بلکہ جب سوال کا پیٹرن حکیم آصف آرائیں کی ذات کو مل جاتا ہے تو حکیم آصف آرائیں اس متعلقہ پیٹرن کو سکین کرلیتے ہیں اور جب سکین کرلیتے ہیں تو برقی مقناطیس کی طرح اسکا جواب جو کے اسی پیٹرن کا حصہ ہے تو وہ آٹو میٹک اپنے پیٹرن سے مل جاتا ہے۔ بمعنی سوالیہ پیٹرن سے اسکا گمشدہ جوابی حصہ آٹو میٹک مل جاتا ہے۔ اگرچہ متعلقہ جواب لاکھوں کی فہرستوں کے اندر ہو مگر وہ جواب آٹومیٹک اس صورت میں فوراً باہر آجاتا ہے کیونکہ اسی جواب کا سوالیہ حصہ پیٹرن سامنے آچکا ہے، تو بس جو بھی اسکا پیٹرن جواب ہوگا تو وہ آٹو میٹک اپنے پیٹرن سے مل جائے گا ۔ جیسے اگر کوئی سوالیہ پیٹرن خود سامنے رکھ دیا جائے تو پھر سامنے مشین کے اندر لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں جتنے بھی پیٹرن ہونگے تو وہ سب اپنا آرام کریں گے مگر جو پیٹرن جواب مشین کے کسی بھی تہے میں ہوگا مگر اسکا سوالیہ پیٹرن مشین کو دے دیا گیا ہے تو اسی کا جوابی پیٹرن خودبخود برقی مقناطیس کی طرح اپنے سوالیہ پیٹرن سے مل جاتا ہے جسے یہ سب خودکار نظام کہتے ہیں ۔ اور سوالیہ پیٹرن سے جوابی پیٹرن کا آپس میں ملنے کا سفر منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈوں میں ہوتا ہے، کیونکہ منٹوں میں ہونے سے زندگی گزارنا مشکل ہوتا ہے اور سیکنڈوں میں ہونے سے یہ نظام چلتا رہتا ہے۔ دنیا میں ایسے بھی سائنسدان ہیں کے جو پیٹرن سے مسئلہ حل کرتے ہیں تو وہ منٹوں میں یا گھنٹوں میں کرتے ہیں اور کوئی سائنسدان ایسے بھی ہوتے ہیں کے جو اگرچہ پیٹرن سے مسئلہ حل کرتے ہو مگر کوئی حد ایسی بھی ہوتی ہے کے جہاں پر پہنچ کر کنفیوژن ہو جاتے ہیں اور پیٹرن سے بھی مسئلہ حل نہیں کرسکتے ہیں۔ بمعنی ہر کسی کا اپنا سطح ہوتا ہے اور ہر سائنسدان اپنے سطح کے مطابق پیٹرن سے کام کرتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں سوالیہ پیٹرن کو دو چیزوں سے تشبیہ دیتے ہیں کے جو بظاہر ایک ہی ہوتا ہے مگر انکے سسٹم میں تبدیلی ہوتا ہے جسے سکین کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کے یہ ایک نہیں بلکہ مختلف ہیں۔ جیسے کیو آر کوڈ/ بار کوڈ یا انگوٹھے کے نشان تو بالکل ایسے ہی سوالیہ پیٹرن ہوتے ہیں اور جیسے پیٹرن ہوتے ہیں تو اسکا وہی جواب ہوتا ہے کے جو سوالیہ پیٹرن سے جوابی پیٹرن کے جو اسی کا حصہ ہوتا ہے تو وہ خودبخود باہر آجاتا ہے۔ سوال اگر پیٹرن کے مطابق ہو تو اسکا جواب بھی پیٹرن کے مطابق ہوتا ہے اور اسے حق کہتے ہیں۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Thursday, 17 September 2026

Neoralink brain chip پر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا فتوی

Neuralink حکیم آصف آرائیں (سائنٹسٹ) رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے جاری کردہ بیان ہے کے یہ چیز کوئی بھی انسان اپنے دماغ پر نہیں لگائے، دماغ سے سگنل نہیں کرے، دماغ سے نہیں ملائے، ایسے چپ دماغ میں نہیں لگائے۔ اگر کوئی یہ چپ اپنے دماغ میں لگانے کے لیے راضی ہوجاتا ہے اور وہ لگوا لیتا ہے تو وہ شخص ایسا ہے کے اس نے کفر کیا۔ Neuralink ایک chip ہے جو دماغ میں لگایا جاتا ہے، حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس معاملے پر کفر بتاتے ہیں۔ ,

Labels: , , , ,

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Monday, 14 September 2026

جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو وہ زنا ، مباشرت ایکٹنگ میں کیوں عام ہیں ؟

دنیا میں مباشرت ایکٹنگ کیوں عام ہے یا جو لوگ مسلم نہیں ہیں تو وہ مباشرت ایکٹنگ کیوں کرتے ہیں ؟ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے یہ بات مکمل طور پر تصدیق شدہ ہے۔ سن عیسوی 2022 سال کو پاکستان آرمی و پولیس عورتوں کو ایک جادو ملا۔ یہ جادو کے بارے میں رپورٹ ہے کے یہ جادو قرآن سے کرتی ہیں۔ شروعات 2022 سال سے ہوا۔ پاکستان آرمی و پولیس کی مسلم عورتوں نے کے جو ایک ہی آپس کی اپنی تنظیم بنائی ہوئی تھی تو وہ عورتیں قرآن سے جادو کرتی ہیں کے جو بھی عورت مسلم نہیں ہے تو وہ مباشرت کرے، زنا کرے، اور گندے گندے نام بھی مسلم عورتوں نے قرآن کے ذریعے جادو کرکے یہ عام کیا ہے۔ حکیم آصف آرائیں کو یہ خبر اللّٰہ جل جلالہ نے بتایا تھا کے پاکستان آرمی کی پولیس و آرمی عورتیں قرآن سے عمل جادو کرتی ہیں تاکے جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو وہ زنا کرہں۔ یہ رپورٹ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا اپنا ذاتی ہے ، اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے یہ رپورٹ جاری کیا گیا ہے۔ اور اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا تھا کے یہ مسلم آرمی و پولیس عورتیں چھپ کر جادو کرتی ہیں مگر اگر جو لوگ مسلم نہیں ہیں اور اگر ان کو پتا چل جائے گا کے پاکستان آرمی کی مسلم عورتیں و پولیس عورتیں جادو کرتی ہیں تو وہ جو مسلم نہیں ہیں تو وہ لوگ ان جادو کرنے والی عورتوں کو اور ان کی فوج ، پولیس کو سب کو چن چن کر مار دیں گے ۔ بس یہ رپورٹ میں سائنسی طور پر تصدیق شدہ رپورٹ کے طور پر شائع کر رہا ہوں تاکے دنیا میں کوئی مباشرت کرنے والی عورتوں کو برا نہیں سمجھیں کے جو مسلم نہیں ہیں اور وہ مباشرت کرتی ہیں تو برا نہیں سمجھیں بلکہ حقیقت جانیں اور انہیں مظلوم ہی سمجھیں ، اور اپنی عورتوں کی عزت بچائیں، جادو کا خاتمہ کریں۔ اللہ جل جلالہ نے جادو کا خاتمہ کرنے کا صرف ایک طریقہ فرمایا ہے کے جادو کرنے والی عورتیں جیسے ہی قتل ہو جائیں گی تو انکی طرف سے جتنا بھی عمل ہوگا اور انہوں نے جتنا بھی عمل کیا ہوگا تو وہ سب ختم ہو جائے گا۔ اللہ جل جلالہ نے یہ بھی فرمایا ہے کے دنیا میں دوسری مسلم عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں کے جو اس پاکستان کی مسلم آرمی و پولیس عورتوں کی اپنی خفیہ تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں کے جو جادو کرتی ہیں۔ دنیا میں قتل و غارت ، طلاق ، میاں بیوی کے جھگڑے ، اور تقریباً 90 فیصد برائی یہ جادو کی طرف سے ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر جادو نہیں ہوگا تو اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے جو عورت مسلم نہیں ہوتی ہے تو وہ زنا کر ہی نہیں سکتی ، کیونکہ وہ زنا سے اتنا نفرت کرتی ہے کے مسلم عورتوں کو بھی نہیں پتا کے جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو وہ زنا سے کتنا نفرت کرتی ہیں ۔ اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے مسلم عورتیں زنا کرسکتی ہیں اور تبھی مسلم عورتوں پر پردہ کرنا لازم ٹہرایا گیا ہے اور تنہائی میں ملنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے جو عورتیں مسلم نہیں ہوتی ہیں تو وہ زنا نہیں کرسکتی ہیں اور تبھی وہ تنہائی میں مل بھی سکتی ہیں بمعنی اکیلی میں بات کرسکتی ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کے وہ زنا نہیں کرتی اور وہ زنا سے اتنا سخت نفرت کرتی ہیں - - اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے اگر کوئی عورت مسلم نہیں ہو اور وہ زنا کرے تو سمجھ لو کے اس پر عمل جادو ہوا ہے کیونکہ وہ جادو کے ذریعے ہی زنا کرسکتی ہیں اور اگر جادو نہیں ہو تو پھر جو مسلم عورت ہوتی ہے تو وہ زنا نہیں کرسکتی ہے۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے مسلم عورتیں دوسری عورتوں سے نفرت کرتی ہیں اور تبھی مسلم عورتیں چاہتی ہیں کے دوسری عورتیں زنا کریں اور تبھی مسلم عورتیں اس کام کے لیے جادو کا سہارا لیتی ہیں ۔ یہ رپورٹ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا مستند رپورٹ ہے۔ اور کوئی بھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے رپورٹ کو رد نہیں کرسکتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا یہی کہنا ہے کے دنیا میں ایسی عورتوں کو برا نہیں سمجھو کے جو زنا میں ملوث ہیں اور انکے سر کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ ان پر جادو کا اثر ہے، اور جو اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے دنیا میں دوسری مسلم عورتیں بھی ایسی ہیں کے جو چاہتی ہیں کے جو عورتیں مسلم نہین ہیں تو وہ زنا کریں۔ مگر ان عورتوں کی سربراہ پاکستان آرمی کی مسلم عورتیں و پولیس والی عورتیں ہیں۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کے اللہ جل جلالہ نے فرمایا کے دیکھ یہ مسلم عورتیں کیسے دوسری عورتوں سے نفرت کرتی ہیں، اور اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا کے مسلم عورتیں ایسے فرق کرتی ہیں۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے یہ مسلم عورتیں جو زنا پھیلاتی ہیں تو انکا ذمے دار اللّٰہ جل جلالہ خود نہیں ہے ، اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف یہ مسلم عورتیں تجھ پر بھی جادو کرتی ہیں تاکے تجھے گندا کریں ، اور چائنا سمجھتے ہیں کے جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو انکے لیے توں خود زنا پھیلا رہا ہے۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اللّٰہ جل جلالہ سے فرمایا کے اگرچہ یہ مسلم عورتیں مجھے گندا کرنے کے لیے جادو کرتی ہیں مگر میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کے جادو کرنے والی عورتوں کی سزا موت ہے، اور یہ شریعت کا فیصلہ ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے اوپر جادو ہونے کا مطکب یہ نہیں ہے کے حکیم آصف آرائیں جادو کا اثر ختم ہونے پر بھی ایسی مسلم عورتوں کی حمایت کرے گا۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایسے انسان ہیں کے جو برائی نہ تو مسلموں کے لیے چاہتا ہے اور جو تورات کے ماننے والوں کے لیے چاہتا ہے اور نہ انجیل کے ماننے والوں کے لیے چاہتا ہے اور نہ ہندوؤں، سکھوں کے لیے برائی چاہتا ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے اپنا موقف بالکل واضح پیش کردیا ہے اور اللّٰہ جل جلالہ کا پیغام دنیا تک پہنچا دیا ہے اور سائنسی تحقیق کے مطابق۔ میرے ذات کا حق ایمانداری خلوص بھی گواہ ہے اور اللّٰہ جل جلالہ بھی گواہ ہے اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے یہودی تیری عزت کریں گے کیونکہ یہودی اللّٰہ جل جلالہ کو اپنا خدا سمجھتے ہیں اور اللّٰہ جل جلالہ کی بہت عزت کرتے ہیں۔

Labels: , ,

Follow
Facebook X WhatsApp Email