حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اور اللہ جل جلالہ کی ذات
حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا ایک سند بطور کتاب اللّٰہ و ذات خدا جل جلالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے معاملات میں اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان۔ اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا ہے کے آصف جو اصول بھی بیان فرماتا ہے تو آصف کا ہر اصول شریعت ہے۔ اس معاملے پر اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے اگر کوئی اللّٰہ جل جلالہ کی ذات سے کسی بھی قسم معاملے میں انصاف کروانا چاہے تو وہ آصف سے کروا لے اور آصف جو انصاف بھی کرے گا تو وہی انصاف اللّٰہ جل جلالہ کا اپنا انصاف ہے۔ اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا کے آصف تیری بات پوری دنیا میں کوئی ایک بھی ولی رد نہیں کریں گے کے جس سے اللّٰہ جل جلالہ بات کرتا ہے اور توں کہے کے اللّٰہ جل جلالہ تجھسے بات کرتا ہے۔ اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے دنیا میں کوئی بھی دوسرا انسان صرف تیرے علاوہ اگر کوئی دعویٰ کرے گا تو اسکے دعوے کو اللّٰہ جل جلالہ کے ولی کے جو دنیا میں پیر ہیں تو وہ رد کر دیں گے اور صرف تیرے کہے کو رد نہیں کریں گے۔ اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف توں جو چاہے کہے گا مگر کوئی علماء بھی تیرے کہے کو رد نہیں کریں گے اور اگر کسی علماء کو تیرے کہے پر شک ہوگا تو وہ چپ کر کے قرآن سے تیری بات کو رد کریں گے ۔ اور ہر طرح سے جس طریقے سے بھی رد کریں گے مگر قرآن تیرے کہے کو پھر بھی رد نہیں کرے گا۔ اور پھر اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے جب قرآن پھر بھی تیرے کہے کو رد نہیں کرے گا تو پھر اس پر بھی لازم ہے کے وہ بھی تیرے کہے کو مانے ۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف میں تجھے صرف ایک ہی کتاب دیتا ہوں اور بہت ساری کتابیں نہیں دیتا ہوں کے کوئی بھی کتاب تیرے کہے کو رد کردے ، اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے میں تجھ پر وزن نہیں ڈالتا ہوں، اور صرف ایک ہی کتاب قرآن دیتا ہوں اور قرآن تیرے کہے کو رد نہیں کرے گا۔ اس معاملے پر اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے کوئی بھی آصف کے کسی بھی کہے کو حدیث سے رد نہیں کریں گے کیونکہ اللّٰہ جل جلالہ خود حدیث کو اہمیت نہیں دیتا ہے بلکہ صرف قرآن کو اہمیت دیتا ہے اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے میں تجھ پر صرف ایک کتاب رکھتا ہوں تاکے جو کوئی بھی تیرے کسی بھی کہے کو رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ صرف قرآن سے رد کریں ، اور اللّٰہ جل جلالہ نے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو خودمختار فرما دیا کیونکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ دنیا کے سکول یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نہیں ہے اور تبھی اللّٰہ جل جلالہ نے خود اپنی طرف سے ایک کتاب بطور سند دے کر دنیا کے پاس بھیج دیا۔ اور فرمایا کے توں جو کچھ بھی کہے گا تو تیرا کوئی بھی کہنا اللّٰہ جل جلالہ کے ولی کے جو بھی اللّٰہ جل جلالہ سے بات کرتے ہیں تو وہ رد نہیں کریں گے ۔ اور انکا ذمہ اللّٰہ جل جلالہ نے خود اپنے اوپر لیا ہے۔ اور جو ایسے حقیقی علماء ہیں مگر وہ اللّٰہ جل جلالہ سے بات نہیں کرتے ہیں تو ان علماء کے لیے اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے وہ تجھسے الجھیں گے بلکہ وہ چپ کر کے قرآن سے تیرے کہے کو رد کریں ، اور جب وہ رد کسی بھی طریقے سے رد نہیں کرسکیں گے تو پھر ان پر بھی لازم ہے کے وہ بھی تیرا کہنا مانیں۔ اللّٰہ جل جلالہ نے جب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو ایک کتاب دیا تب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے قبول کرلیا، مگر دنیا کے مردود علماء حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف ہوگئے کے اللّٰہ جل جلالہ نے حکیم آصف آرائیں کو دنیا میں اس طریقے سے بھیج دیا ہے تو مردود علماء کا اپنا عزت ختم ہو جائے گا۔ اس وقت حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو معلوم نہیں تھا کے یہ مردود علماء ہیں مستند طور پر ، جبکہ گمراہ سمجھتا تھا، مگر جب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے دیکھا کے یہ مردود علماء اپنی ذات کو اہمیت ایسا دیتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ سے مقابلہ کرتے ہیں اور الجھتے ہیں اور رد کرتے ہیں اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایسے بدترین علماء کو سمجھاتا رہا کے ایسا نہیں کرو ، مگر ان مردود علماء کو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا کوئی بات اثر نہیں ہوتا ہے اور وہ بدترین علماء حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے آگے چوڑے ہو جاتے ہیں کے اللّٰہ جل جلالہ نے انہیں قرآن دیا ہے کے قرآن سے حکیم آصف آرائیں کی بات کو رد کرسکتے ہو تو کرلو، مگر پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے اگر قرآن کا استعمال کرتے ہو تو جب قرآن رد نہیں کرتا ہے تو پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے عاجز آجاؤ۔ کیونکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو الجھنے والے بالکل بھی پسند نہیں ہے۔ مگر مردود علماء حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی بات کو رد کر دیتے اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ سے مقابلہ لگاتے ، اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف رہتے ۔ آخر کار حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنے جلال میں آگئے اور فرمایا کے اے مردود علماؤں تم یہ نہیں سمجھو کے اللّٰہ جل جلالہ نے صرف میرے لیے فرمایا ہے کے میرے کہے کو قرآن سے رد کر کے دکھا دو اور تم حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کیساتھ چوڑے ہوکر مقابلہ لگاتے ہو۔ بلکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتا ہے کے جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے معاملے میں قرآن ہے تو ویسے بدترین مردود علماؤں کے بھی معاملے میں قرآن ہے ، اور انکی باتوں کو بھی قرآن سے دیکھو کے قرآن رد کرتا ہے یا نہیں ۔ اور اگر مردود علماء کچھ بھی کہتے ہیں تو انکے کہے کو بھی قرآن سے دیکھو اور ویسے ہی نہیں مانو ، کیونکہ یہ دنیا میں مردود علماء کوئی آسمان سے نہیں آئے ہیں کے یہ خود قرآن سے برتر ہیں۔ اور بس پھر مردود علماؤں کے چہرے پر پسینے آگئے کے یہ کیا ہوگیا ، پہلے تو حکیم آصف آرائیں کو گرانے کا کوشش کرتے تھے اور حکیم آصف آرائیں کیساتھ الجھتے تھے ، نفرت پھیلاتے تھے مگر اب انہی کے اپنے اوپر بھی قرآن لازم کردیا گیا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ان مردود علماؤں سے فرمایا کے تمہارے معاملے میں بھی قرآن اہم ہے کے تمہارا کہا قرآن سے دیکھو، اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے خود فرما دیا کے تمہیں قرآن رد کرتا ہے۔ اور یہ وہ مردود علماء خود بھی جانتے ہیں کے انہیں قرآن رد کرتا ہے مگر وہ خوش فہمی میں ہیں کے وہ خود علماء ہیں اور تبھی ان پر قرآن لاگو نہیں ہوتا۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے انکو مردود قرار دے دیا، خبیث، فسادی۔ اور بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے جس کسی کو بھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا کوئی بھی اقوال شریعت سے متصادم لگے تو وہ صرف قرآن سے رد کر کے دکھا دے ۔ حالانکہ قرآن میں تیس سپارے ہیں اور تیس سپاروں میں کسی ایک سپارے سے بھی اور ایک آیت سے بھی رد کر کے دکھا دے۔ بہ دیگر اللّٰہ جل جلالہ خود فرماتا ہے کے دیگر کتابوں اور حدیث سے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے بات کو رد نہیں کیا جائے گا، اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ جس حدیث کو بھی رد کردے گا تو وہ حدیث بھی رد ہو جائے گا مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے لیے صرف قرآن ہے کے اگر کسی کو شک ہو تو وہ صرف قرآن سے رد کر کے دکھا دے۔ اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ دیگر اللّٰہ جل جلالہ کی کتابوں کو بھی اہمیت دیتا ہے مگر انکا اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف میں تجھ پر وزن نہیں دیتا ہوں کے اللّٰہ جل جلالہ نے مجھ پر اتنی ساری کتابیں ڈال دی ہیں، جبکہ اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے تیرے کہے کو اللّٰہ جل جلالہ کا دوسرا کوئی بھی کتابیں بھی رد نہیں کرتی کیونکہ توں کہے رہا ہے۔ ، ، آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔
Labels: Hakim Asif Arain
.png)

0 Comments:
Post a Comment
اپنا پیغام یا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے:
اگر آپ کا کوئی بھی سوال یا درخواست ہے، تو براہ کرم اسے مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر بھیجیے۔ آپ کا ہر پیغام ہمارے پاس محفوظ رہتا ہے۔
عمل درآمد کا طریقہ: جیسے ہی ہم آپ کی درخواست پر کام کرنا شروع کریں گے، آپ کو ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا جائے گا اور آپ کا پیغام بلاگ پر پبلک کر دیا جائے گا۔
تکمیل کا ثبوت: اگر آپ کا میسج پبلک ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی درخواست پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور آپ کے متعلقہ سوال کا جواب دے دیا گیا ہے۔
اہم شرط: آپ کے سوال یا درخواست کا جواب دینا تبھی قابلِ قبول اور ممکن ہوگا جب آپ نے ہمارے بلاگ کو فالو کیا ہو۔ اگر آپ نے ابھی تک ہمارے بلاگ کو فالو نہیں کیا، تو براہ کرم ہمارے بلاگ کے ہوم پیج پر جائیے اور وہاں سائیڈ بار یا نیچے موجود 'Follow / Subscribe' کے بٹن پر کلک کر کے ہمارے بلاگ کے ممبر بنیے، تاکہ ہم آپ کی بہترین رہنمائی کر سکیں۔
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home