×
Menu
Follow
Label
Education Hakim Asif Arain Health News Report Religion
About Us Privacy Policy Cognitive Profile Platforms

Thursday, 1 October 2026

اولیائے کرام کی کیا قسم ہے؟ جانیے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں

اولیاء کتنے قسم کے ہوتے ہیں ؟ اولیاء کی کیا قسمیں ہیں ؟ اولیائے کرام کی دو قسمیں ہوتی ہیں ، ایک قسم اسے کہتے ہیں کے جو اپنی محنت سے ولی بنتے ہیں زہد و تقوی اختیار کرنے کے بعد ایک عرصہ گزارتے ہیں اور پھر ولایت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں اور یہ طریقہ عام دنیا والوں کے لیے ہے۔ اور دوسرا قسم وہ ہوتے ہیں کے جو پہلے ولی ہوتے ہیں اور بعد میں زہد و تقوی اختیار کرتے ہیں بمعنی وہ پیدائشی طور پر ولی ہوتے ہیں اور اس قسم کے ولیوں کو کہا جاتا ہے چنے ہوئے ولی کے جسے اللّٰہ جل جلالہ خود چن لیتا ہے تو اسے ولی بنا دیتا ہے اور وہ ولی ہی بن کر دنیا میں آتے ہیں۔ جیسے حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ یہ زہد و تقوی اختیار کرنے کے بعد ولی نہیں بنے ہیں بلکہ یہ پیدائشی ولی ہیں اور جب یہ دنیا میں بچے تھے تب یہ بھی بچوں کی طرح کھیلتے تھے اور بچپن کی عمر میں اپنے گھر سے دور دین کی خدمت کرنے نکل گئے تھے ۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جو کے بچپن کے پیدائشی ولی ہیں تو یہ اس قسم کے ولیوں میں شمار ہوتے ہیں کے جو پہلے سے چنے گئے ہیں بمعنی پیدا ہونے سے پہلے ولی بنا دیا گیا ہے۔ اور جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ایک بار دوسرے طالب علموں کیساتھ اپنے استاد کے ہمراہ کشتی میں سفر میں تھے تو آپ لوگوں نے سنا ہوگا کے استاد یا پیر اپنے مریدوں / شاگردوں کا امتحان بھی لیتے ہیں۔ تو اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے استاد جو کے اپنے شاگردوں کو آزماتے بھی تھے مگر جب اسی استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو کشتی سے نیچے پھینک دیا بمعنی دھکا دے دیا کے دیکھتے ہیں شیخ عبد القادر جیلانی کیا کرتے ہیں اپنے استاد کے آگے امتحان پاس کرتے ہیں یا فیل ہوتے ہیں۔ بس جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو کشتی سے نیچے دکھا دے دیا تو شیخ عبد القادر جیلانی بچے کی عمر میں پانی میں گر گئے اور تیرتے ہوئے واپس کشتی میں آکر بیٹھ گئے اور اس استاد کا وہی ہاتھ ٹوٹ گیا۔ کیونکہ استاد دنیا میں محنت کر کے ولی بنا تھا اور شیخ عبد القادر جیلانی پیدا ہونے سے پہلے ولی بن کر دنیا میں آئے تھے ۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کے دنیا میں دو طرح کے قسم ہوتے ہیں ، ایک وہ جسے استاد ، پیر اس طریقے سے آزما سکتے ہیں اور دوسرے ایسے قسم ہوتے ہیں کے جسے اس کے استاد یا پیر بھی نہیں آزما سکتے ہیں۔ بس اس استاد کو یہ نہیں پتا تھا کے یہ پیدائشی ولی ہے۔ اور پھر اس استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے معافی مانگا اور پھر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے استاد کو معاف کردیا تو یہاں سے استاد کو بھی پتا چل گیا کے شیخ عبد القادر جیلانی دوسرے طالب علم کی طرح نہیں ہے جبکہ دوسرے طالب علم بھی ولی ہیں مگر شیخ عبد القادر جیلانی پیدائشی ولی ہے۔ اور پھر جب شیخ عبد القادر جیلانی بڑے ہوئے تب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے پوری دنیا میں عام اعلان کردیا کے جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اعلان عام کیا کے اللّٰہ جل جلالہ مجھ سے بات کرتا ہے تو ویسے ہی شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے زندگی میں عام اعلان کردیا کے دنیا میں جتنے بھی اللّٰہ جل جلالہ کے ولی ہیں تو ان سب کے کندھوں پر میرا قدم یے، اور جو میرا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول کرے گا تو وہ ولی ہوگا اور جو میرا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول نہیں کرے گا تو اگرچہ وہ بڑے سے بڑا ولی ہوگا تو وہ ولی بھی نہیں رہے گا۔ کون ہے وہ جو شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے آگے کہے کے ہم تمہارا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول نہیں کریں گے، ہم سر تسلیم نہیں ہونگے، مگر جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے عام اعلان فرمایا تب پوری دنیا کے ولیوں نے اعلان کیا کے ،، ہاں ،، ہم آپکا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول کرتے ہیں ، بمعنی زبان سے اقرار ہے ، کوئی حقیقت کندھوں پر قدم رکھنا نہیں ہے، بس تسلیم کر لینے کو عاجز آنا کہتے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں شیخ عبد القادر جیلانی کا اپنا استاد بھی ہو اگرچہ کوئی بھی بڑے سے بڑا پیر ولی ہو مگر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا واضح اعلان کے میرا قدم مبارک دنیا کے چھپے چھپے میں جتنے بھی ولی ہیں تو سب کے کندھوں پر ہے۔ اور سب ولیوں نے تسلیم کیا کے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا قدم ہمارے کندھوں پر ہے۔ اور صرف ایک ولی نے ماننے سے انکار کردیا اور کہا کے نہیں ، میں اپنے کندھوں پر تمہارا قدم قبول نہیں کرتا ہوں تو پھر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے ٹھیک ہے اگر تمہارے کندھوں پر میرا قدم نہیں ہے تو خنزیر کا قدم ہے۔ اور پھر اسی ولی نے اپنے کندھوں پر خنزیر کو اٹھایا اور پھر اس ولی نے بھی شیخ عبد القادر جیلانی کے آگے جھک گیا اور کہا کے میں تسلیم کرتا ہوں کے آپکا قدم میرے کندھوں پر بھی ہے، اور پھر وہ ولی بن گیا، کیونکہ وہ بھی ولی خاص تھا مگر بس عارضی طور پر اسے سبق سکھانے کے لیے ایسا قدم اٹھایا گیا۔ اور وہ ولی کوئی مرتد یا بد تر نہیں تھا ، بس ولی سے نکل گیا تھا اور بعد میں پھر ولی بن گیا۔ اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری والے جب انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا عام اعلان سنا کے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عام دنیا میں کے میرا قدم تمام ولیوں کے کندھوں پر ہے تو صرف خواجہ معین الدین چشتی اجمیری صاحب اپنے اجمیر سے فرماتے ہیں کے آپ کا قدم مبارک میرے صرف کندھوں پر نہیں بلکہ میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ اس بات سے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جواباً فرماتے ہیں کے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کو پورے اجمیر کا سربراہ ولی بنایا جاتا ہے اور دنیا میں کوئی بھی ولی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے مقابلہ نہیں کرے گا۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے پیر مرشد عثمان ہارونی ہے، اور خواجہ صاحب اپنے مرشد کی خدمت کرتے تھے تب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ صاحب کے پیر عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا کے اپنے مرید خواجہ معین الدین کو آزاد کر دو اور اس سے مذید خدمت نہیں لو، تب عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے پاس سے آزاد کر دیا۔ اور پھر خواجہ صاحب کا مرید بختیار کاکی ہے اور بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا مرید فرید الدین عرف گنج شکر ہے۔ اور گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ خود خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے بھانجے بھی ہیں ، تب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مرید بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا کے تم اپنے مرید گنج شکر کو آزاد کر دو، بمعنی ان سے خدمت نہیں لو، تب بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پیر کے کہنے پر اپنے مرید گنج شکر کو اپنے پاس سے آزاد کر دیا ۔ اور پھر گنج شکر کا بھانجہ صابر کلیری ہے کے جو خود اپنے ماموں گنج شکر کے پاس رہتا ہے۔ بس کہنے کا مطلب ہے کے ولی دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو خود محنت سے بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو پہلے سے چن لیے گئے ہیں۔ مگر جو محنت سے بنتے ہیں تو ان پر بھی حق پر قائم رہنا لازم ہے اور جو پیدائشی ولی ہوتے ہیں تو وہ پہلے سے ہی حق پر قائم رہتے ہیں۔ اور پھر اس میں بھی ولایت کی مذید دو قسمیں ہیں کے جو اللّٰہ جل جلالہ کے خاص ولی جانتے ہیں مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے جتنا وضاحت دے دیا ہے تو یہ وضاحت عام طور پر مشہور نہیں ہوگا اور تبھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ایسا وضاحت دے کر فرما دیا کے ولی دو قسموں کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو محنت سے ولی بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو پہلے سے چن لیے گئے ہو اور جسے آزمایا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھ کر آزمایا جاتا ہے کے آزمانے والا خود کون ہے اور جسے آزمایا جا رہا ہے تو وہ خود کون ہے۔ ولیوں کی قسمیں ، پیدائشی ولی اور محمت کر کے ولی کے موضوع اور تاریخی واقعے پر اہم نظر کرم بحوالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ، ، آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

Labels: ,

Follow
Facebook X WhatsApp Email

حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اور اللہ جل جلالہ کی ذات

حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا ایک سند بطور کتاب اللّٰہ و ذات خدا جل جلالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے معاملات میں اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان۔ اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا ہے کے آصف جو اصول بھی بیان فرماتا ہے تو آصف کا ہر اصول شریعت ہے۔ اس معاملے پر اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے اگر کوئی اللّٰہ جل جلالہ کی ذات سے کسی بھی قسم معاملے میں انصاف کروانا چاہے تو وہ آصف سے کروا لے اور آصف جو انصاف بھی کرے گا تو وہی انصاف اللّٰہ جل جلالہ کا اپنا انصاف ہے۔ اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا کے آصف تیری بات پوری دنیا میں کوئی ایک بھی ولی رد نہیں کریں گے کے جس سے اللّٰہ جل جلالہ بات کرتا ہے اور توں کہے کے اللّٰہ جل جلالہ تجھسے بات کرتا ہے۔ اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے دنیا میں کوئی بھی دوسرا انسان صرف تیرے علاوہ اگر کوئی دعویٰ کرے گا تو اسکے دعوے کو اللّٰہ جل جلالہ کے ولی کے جو دنیا میں پیر ہیں تو وہ رد کر دیں گے اور صرف تیرے کہے کو رد نہیں کریں گے۔ اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف توں جو چاہے کہے گا مگر کوئی علماء بھی تیرے کہے کو رد نہیں کریں گے اور اگر کسی علماء کو تیرے کہے پر شک ہوگا تو وہ چپ کر کے قرآن سے تیری بات کو رد کریں گے ۔ اور ہر طرح سے جس طریقے سے بھی رد کریں گے مگر قرآن تیرے کہے کو پھر بھی رد نہیں کرے گا۔ اور پھر اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے جب قرآن پھر بھی تیرے کہے کو رد نہیں کرے گا تو پھر اس پر بھی لازم ہے کے وہ بھی تیرے کہے کو مانے ۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف میں تجھے صرف ایک ہی کتاب دیتا ہوں اور بہت ساری کتابیں نہیں دیتا ہوں کے کوئی بھی کتاب تیرے کہے کو رد کردے ، اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے میں تجھ پر وزن نہیں ڈالتا ہوں، اور صرف ایک ہی کتاب قرآن دیتا ہوں اور قرآن تیرے کہے کو رد نہیں کرے گا۔ اس معاملے پر اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے کوئی بھی آصف کے کسی بھی کہے کو حدیث سے رد نہیں کریں گے کیونکہ اللّٰہ جل جلالہ خود حدیث کو اہمیت نہیں دیتا ہے بلکہ صرف قرآن کو اہمیت دیتا ہے اور اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے میں تجھ پر صرف ایک کتاب رکھتا ہوں تاکے جو کوئی بھی تیرے کسی بھی کہے کو رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ صرف قرآن سے رد کریں ، اور اللّٰہ جل جلالہ نے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو خودمختار فرما دیا کیونکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ دنیا کے سکول یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نہیں ہے اور تبھی اللّٰہ جل جلالہ نے خود اپنی طرف سے ایک کتاب بطور سند دے کر دنیا کے پاس بھیج دیا۔ اور فرمایا کے توں جو کچھ بھی کہے گا تو تیرا کوئی بھی کہنا اللّٰہ جل جلالہ کے ولی کے جو بھی اللّٰہ جل جلالہ سے بات کرتے ہیں تو وہ رد نہیں کریں گے ۔ اور انکا ذمہ اللّٰہ جل جلالہ نے خود اپنے اوپر لیا ہے۔ اور جو ایسے حقیقی علماء ہیں مگر وہ اللّٰہ جل جلالہ سے بات نہیں کرتے ہیں تو ان علماء کے لیے اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے وہ تجھسے الجھیں گے بلکہ وہ چپ کر کے قرآن سے تیرے کہے کو رد کریں ، اور جب وہ رد کسی بھی طریقے سے رد نہیں کرسکیں گے تو پھر ان پر بھی لازم ہے کے وہ بھی تیرا کہنا مانیں۔ اللّٰہ جل جلالہ نے جب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو ایک کتاب دیا تب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے قبول کرلیا، مگر دنیا کے مردود علماء حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف ہوگئے کے اللّٰہ جل جلالہ نے حکیم آصف آرائیں کو دنیا میں اس طریقے سے بھیج دیا ہے تو مردود علماء کا اپنا عزت ختم ہو جائے گا۔ اس وقت حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو معلوم نہیں تھا کے یہ مردود علماء ہیں مستند طور پر ، جبکہ گمراہ سمجھتا تھا، مگر جب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے دیکھا کے یہ مردود علماء اپنی ذات کو اہمیت ایسا دیتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ سے مقابلہ کرتے ہیں اور الجھتے ہیں اور رد کرتے ہیں اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایسے بدترین علماء کو سمجھاتا رہا کے ایسا نہیں کرو ، مگر ان مردود علماء کو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا کوئی بات اثر نہیں ہوتا ہے اور وہ بدترین علماء حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے آگے چوڑے ہو جاتے ہیں کے اللّٰہ جل جلالہ نے انہیں قرآن دیا ہے کے قرآن سے حکیم آصف آرائیں کی بات کو رد کرسکتے ہو تو کرلو، مگر پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے اگر قرآن کا استعمال کرتے ہو تو جب قرآن رد نہیں کرتا ہے تو پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے عاجز آجاؤ۔ کیونکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو الجھنے والے بالکل بھی پسند نہیں ہے۔ مگر مردود علماء حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی بات کو رد کر دیتے اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ سے مقابلہ لگاتے ، اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف رہتے ۔ آخر کار حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنے جلال میں آگئے اور فرمایا کے اے مردود علماؤں تم یہ نہیں سمجھو کے اللّٰہ جل جلالہ نے صرف میرے لیے فرمایا ہے کے میرے کہے کو قرآن سے رد کر کے دکھا دو اور تم حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کیساتھ چوڑے ہوکر مقابلہ لگاتے ہو۔ بلکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتا ہے کے جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے معاملے میں قرآن ہے تو ویسے بدترین مردود علماؤں کے بھی معاملے میں قرآن ہے ، اور انکی باتوں کو بھی قرآن سے دیکھو کے قرآن رد کرتا ہے یا نہیں ۔ اور اگر مردود علماء کچھ بھی کہتے ہیں تو انکے کہے کو بھی قرآن سے دیکھو اور ویسے ہی نہیں مانو ، کیونکہ یہ دنیا میں مردود علماء کوئی آسمان سے نہیں آئے ہیں کے یہ خود قرآن سے برتر ہیں۔ اور بس پھر مردود علماؤں کے چہرے پر پسینے آگئے کے یہ کیا ہوگیا ، پہلے تو حکیم آصف آرائیں کو گرانے کا کوشش کرتے تھے اور حکیم آصف آرائیں کیساتھ الجھتے تھے ، نفرت پھیلاتے تھے مگر اب انہی کے اپنے اوپر بھی قرآن لازم کردیا گیا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ان مردود علماؤں سے فرمایا کے تمہارے معاملے میں بھی قرآن اہم ہے کے تمہارا کہا قرآن سے دیکھو، اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے خود فرما دیا کے تمہیں قرآن رد کرتا ہے۔ اور یہ وہ مردود علماء خود بھی جانتے ہیں کے انہیں قرآن رد کرتا ہے مگر وہ خوش فہمی میں ہیں کے وہ خود علماء ہیں اور تبھی ان پر قرآن لاگو نہیں ہوتا۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے انکو مردود قرار دے دیا، خبیث، فسادی۔ اور بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے جس کسی کو بھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا کوئی بھی اقوال شریعت سے متصادم لگے تو وہ صرف قرآن سے رد کر کے دکھا دے ۔ حالانکہ قرآن میں تیس سپارے ہیں اور تیس سپاروں میں کسی ایک سپارے سے بھی اور ایک آیت سے بھی رد کر کے دکھا دے۔ بہ دیگر اللّٰہ جل جلالہ خود فرماتا ہے کے دیگر کتابوں اور حدیث سے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے بات کو رد نہیں کیا جائے گا، اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ جس حدیث کو بھی رد کردے گا تو وہ حدیث بھی رد ہو جائے گا مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے لیے صرف قرآن ہے کے اگر کسی کو شک ہو تو وہ صرف قرآن سے رد کر کے دکھا دے۔ اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ دیگر اللّٰہ جل جلالہ کی کتابوں کو بھی اہمیت دیتا ہے مگر انکا اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف میں تجھ پر وزن نہیں دیتا ہوں کے اللّٰہ جل جلالہ نے مجھ پر اتنی ساری کتابیں ڈال دی ہیں، جبکہ اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے تیرے کہے کو اللّٰہ جل جلالہ کا دوسرا کوئی بھی کتابیں بھی رد نہیں کرتی کیونکہ توں کہے رہا ہے۔ ، ، آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Tuesday, 29 September 2026

حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے مختلف القابات

حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے مختلف القابات اور ان کی روحانی حقیقت حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو ان کی علمی، فکری اور سماجی خدمات کی بنیاد پر مختلف متعلقہ ذاتوں کی طرف سے عظیم القابات عطا کیے گئے ہیں۔ آپ خود حق کے سچے علمبردار ہیں۔ اپنی حقیقی زندگی میں اگرچہ آپ تمام اہم کردار (Roles) ادا کرتے ہیں، لیکن اپنی ذات کی پہچان کے لیے آپ نے "حکیم" کا نام چنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حکیم کا تعلق نہ صرف جسمانی و روحانی علاج معالجہ سے ہے، بلکہ یہ حکمت، شعورِ حق اور مضبوط دلیل سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ دیگر القابات بھی آپ کی شخصیت کا حصہ ہیں، جنہیں آپ وقت اور ضرورت کے تحت استعمال فرماتے ہیں۔ یہاں ان تمام مبارک اور متعلقہ القابات کی تفصیل دی جا رہی ہے جو آپ کو مختلف برگزیدہ ہستیوں کی طرف سے عطا ہوئے: ## ⚔️ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے عطا کردہ القابات: * * مجاہد: حق اور انصاف کی خاطر فکری و سماجی میدان میں جدوجہد کرنے پر عطا ہوا۔ * وکیل: مظلوموں کی آواز بننے اور سچائی کا مقدمہ لڑنے کی بنیاد پر عطا ہوا۔ * ## 🕌 انبیاء اور اہل بیت کی طرف سے عطا کردہ القابات: * * ابراہیم علیہ السلام: حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے (خصوصی روحانی نسبت کے طور پر) عطا کردہ۔ * اسداللہ (اللہ کا شیر): حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی طرف سے شجاعت اور بے باکی پر عطا کردہ۔ * ## 👑 غوثِ اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رحمتہ اللہ علیہ) کی طرف سے عطا کردہ القابات: سلسلہ قادرية کے بانی اور پیروں کے پیر، حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے آپ کو درج ذیل القابات سے نوازا گیا: * غوث: روحانی مددگار اور بلند مرتبہ فکری مقام۔ [حکیم]: حکمت و شعور اور دانشمندی کا علمبردار۔ *[رحمتہ اللہ علیہ] : اللہ کی رحمتوں کے سائے میں رہنے والی شخصیت۔ * ملنگ: دنیا کی فانی عیش و عشرت سے بے نیاز اور حق میں مست رہنے والا کردار۔ * مفسر: یہ لقب آپ کو حضرت غوثِ اعظم اور خود [اللہ جل جلالہ] کی طرف سے عطا کیا گیا، جو قرآن و حدیث کے سچے مفہوم کو بیان کرنے کی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ * , , ------------------------------ 🌐 حکیم آصف آرائیں صاحب کے دینی، سماجی اور سائنسی تجزیوں پر مبنی مزید بلاگ پوسٹس پڑھنے اور ان کی آفیشل کمیونٹی کا حصہ بننے کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل اور واٹس ایپ (03351254866) پر رابطہ کریں۔ ------------------------------

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Saturday, 19 September 2026

حکیم آصف آرائیں کا بیان تیار کرنے کا طریقہ و مراحل

اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں کے اپنے بیانات ، تحریر کن کن مراحلوں سے گزر کر تیار ہوتے ہیں تو ہم آپکو بتاتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں کے بیانات تیار ہونے میں کم از کم ان مراحلوں سے گزرنا ضروری ہوتا ہے، جو کے سائنسی نقطہ نظر سے بھی مستند ہے۔ 🧠 Cognitive Profile & Analytical Framework 🎯 1 (Core Mindset) 🔬 Scientific & Empirical Mindset >This way of thinking is based on direct observation, solid evidence, and impartial analysis, rather than mere assumptions, emotional thoughts, or hearsay." 📌 2. (Introduction) 🌐 All analytical and investigative evaluations, fact-checking of news, and reports published on this channel are prepared under a specific, transparent, and impartial cognitive and principled framework. Many viewers often ask why my perspective and style of analysis differ from mainstream news outlets or traditional commentators. The fundamental reason lies in my **Cognitive Profile**, which, instead of relying on conventional rote memorization or emotional reasoning, operates strictly on **empirical data, hard facts, truth, and clear patterns. ⚙️ 3. The scientific, logical, and intellectual principles of my analytical system and cognitive processing, which operate under a fully scientific and transparent framework, are as follows: 📥 1. Data & Input Processing System * Input-based Processing * Information Gathering * Principled Realism / Literal Cognition * Focused Mental Clarity 🧩 2. Pattern Recognition & Algorithmic Cognition * Pattern Recognition Engine * Fast Pattern Recognition * Analytical Pattern Matching * Complete Pattern Matching * Pattern-Based Algorithmic Cognition * Structured Algorithmic Intelligence ⚡ **3. Rapid & Instant Processing Systems** * System 1 Processing * Flash Processing * Instant Processing * Rapid Cognitive Processing * Parallel Neural Processing * Neuronal Synchronization 💡 **4. Intuition, Compression & Problem Solving** * Pattern-Based Intuition * Intuitive Insight * Cognitive Compression * Holistic Processing * Structured Problem-Solving Framework * Pure Deterministic Intelligence 🔍 **5. Analytical Thinking & Investigation** * Critical Reasoning (Logical Chain) * Context Mapping * Hypothesis & Verification * Comparative Analysis * Cross-Referencing in Investigation 📚 **6. Memory, Filtration & Assimilation** * Information Storage * Episodic & Pattern Memory * Implicit Memory Retrieval * Data Expansion * Filtration System / Quality Filtration * Validated Knowledge Integration * Principled Knowledge Assimilation * Selective Experiential Assimilation / Selective Empirical Growth * Curated Experiential Memory / Curated Knowledge Bank * Principled Empirical Growth * Error-Free Experiential Building 🎓 **7. Non-Traditional & Academic Cognition** * Rote Memorization Deficit * Academic Mismatch / Academic Incompatibility * Non-Traditional Cognition * Non-Academic Intelligence * Selective Auditory / Textual Memory - - اس کے علاوہ حکیم آصف آرائیں کسی مخصوص بیانات جہاں ضرورت پڑے دوسروں سے بھی معلومات یا مشورے لیتے ہیں۔ اور ان معلومات/ مشوروں کو بھی سائنسی نقطہ نظر سے گزارتے ہیں۔ یوٹیوب یا بلاگ میں بیانات تیار ہونے کے لیے حکیم آصف آرائیں کو بہت ذیادہ محنت کرنا ہوتا ہے۔ وڈیوز بنانے کے لیے اپنی صحت، جگہ، روشنی، کیمرا سب کچھ بالکل ٹھیک ہونا ضروری ہے۔ اور پھر بھی اگر سب کچھ یہ ٹھیک رہے تب بھی حکیم آصف آرائیں ذیادہ دیر تک ایک ہی جگہ بیٹھ کر کیمرے میں دیکھ کر یا کیمرا کے سامنے ذیادہ دیر وڈیو نہیں بناسکتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں کی اپنی کوشش ہوتی ہے کے کم از کم 15 منٹ یا 20 سے 25 منٹ کا وڈیو ہونا چاہیے اور اگر ذیادہ تفصیلی ہو تو پھر 30 سے 35 منٹ تک وڈیو ہونا چاہیے۔ اور اگر اس میں بھی پورا نہ ہوسکے تو ذیادہ سے ذیادہ 1 گھنٹہ حکیم آصف آرائیں نے رکھا ہے اور ایک گھنٹہ سے ذیادہ نہیں رکھتے ہیں اور اگر تفصیل پھر بھی ختم نہیں ہوتا ہے تو حکیم آصف آرائیں اسی وڈیو کا دوسرا حصہ بھی بناسکتے ہیں مگر ایک ہی وڈیو میں ایک گھنٹہ سے ذیادہ وڈیو بنانا بہتر نہیں سمجھتے ہیں۔ بمعنی وڈیو بنانے میں بہت محنت لاحق ہوتا ہے۔ اور جب وڈیو بن جاتا ہے تب اس وڈیو کو یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا ہوتا ہے جس کے لیے انٹرنیٹ کا بھی ہونا ضروری ہے۔ اور پھر اس وڈیو کا ٹائٹل و ڈسکرپشن اور کمنٹ پن اور سرچ ٹیگ اور تھمب نیل سب کچھ مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر ایک گھنٹے کی وڈیو میں سب کچھ اسی دن میں مکمل ہو جائے تو پھر ایسی وڈیو ایک دن کا ایک وڈیو ہی کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ حکیم آصف آرائیں وڈیو کے معاملے میں اے آئی سے بھی تاثرات لیتے ہیں۔ اور سب سے اہم بنیادی طور پر حکیم آصف آرائیں کو وڈیو تیار ہونے کے لیے مخصوص قسم کے اجزاء سیلز استعمال کرنے ہوتے ہیں تاکے ہر کچھ اپنے پایہ تکمیل تک جاپہنچے۔ اور بلاگ پر پوسٹ کرنا یوٹیوب کے مقابل سستہ ترین ہے مگر یوٹیوب وڈیو پلیٹ فارم ہے اور بلاگ تحریری پلیٹ فارم ہے۔ اگر آپ تحریری پڑہنا اچھا سمجھتے ہیں تو ہمارے بلاگ کو جوائن کیجیے اور وڈیو دیکھنا اچھا سمجھتے ہیں تو ہمارے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیجیے ۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Thursday, 17 September 2026

Neoralink brain chip پر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا فتوی

Neuralink حکیم آصف آرائیں (سائنٹسٹ) رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے جاری کردہ بیان ہے کے یہ چیز کوئی بھی انسان اپنے دماغ پر نہیں لگائے، دماغ سے سگنل نہیں کرے، دماغ سے نہیں ملائے، ایسے چپ دماغ میں نہیں لگائے۔ اگر کوئی یہ چپ اپنے دماغ میں لگانے کے لیے راضی ہوجاتا ہے اور وہ لگوا لیتا ہے تو وہ شخص ایسا ہے کے اس نے کفر کیا۔ Neuralink ایک chip ہے جو دماغ میں لگایا جاتا ہے، حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس معاملے پر کفر بتاتے ہیں۔ ,

Labels: , , , ,

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Wednesday, 16 September 2026

Hakim Asif Arain Biography

حکیم آصف آرائیں 8 جنوری 1991 کو شہر کراچی میں پیدا ہوا ہے۔ حکیم آصف آرائیں اپنے بچپن پیدائش سے بہت بیمار رہتے تھے، اور اپنا پورا بچپن کمزوری لاغر اور بیماری میں گزارا ہے۔ حکیم آصف آرائیں دنیا میں ایسے بچے پہچانے جاتے تھے جسے دنیا کوئی پاگل کہتے اور کوئی باؤلہ کہتے اور کوئی بہت ذیادہ شریف کہتے اور کوئی بالکل نکما نالائق کہتے تھے۔ حکیم آصف آرائیں کا دماغ ایسا تھا کے حکیم آصف آرائیں نے سکول میں داخلہ لیا مگر حکیم آصف آرائیں پورے سکول کے بچوں میں سب سے نیچے نالائق کمزور دماغ سمجھے جاتے تھے ۔ اور سکول میں بھی حکیم آصف آرائیں کو کوئی پاگل کہتے اور کوئی باؤلہ کہتے اور مذاق اڑاتے اور حکیم آصف آرائیں سکول میں پڑہنے میں بالکل ناکارہ سمجھے جاتے تھے، مگر بس حکیم آصف آرائیں کو سچا انسان سمجھتے تھے کے اگر حکیم آصف آرائیں نے خود اپنی زبان سے کچھ بھی کہے دیا تو وہ یقین کرنے کے 100 فیصد مترادف تھا۔ مگر حکیم آصف آرائیں کا دماغ پڑہنے میں بالکل ناکارہ سمجھا جاتا تھا۔ حکیم آصف آرائیں نے سکول میں کبھی بھی پاس نہیں ہوسکے ہیں اور کوئی ٹیچرز بھی حکیم آصف آرائیں کو پڑھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ حکیم آصف آرائیں سکول کی تعلیم پڑہنے میں بالکل دماغی طور پر کمزور سمجھے جاتے تھے مگر صرف ڈرائنگ کے معاملے میں حکیم آصف آرائیں ڈرائنگ بنا لیتے تھے۔ اک بار کا ذکر ہے کے حکیم آصف آرائیں دوسری کلاس میں ڈرائنگ کا پیپر دے رہے تھے مگر حکیم آصف آرائیں کو یہ نہیں پتا تھا کے ڈرائنگ میں بنانا کیا ہے، حکیم آصف آرائیں نے اپنے پاس موجود قریبی ٹیچر سے پوچھا کے ڈرائنگ میں بنانا کیا ہے کیونکہ میں ڈرائنگ بنا لوں گا بمعنی ڈرائنگ میں مجھے ناکارہ نہیں سمجھا جائے گا۔ مگر اس وقت ٹیچر نے حکیم آصف آرائیں کو وہ کچھ بتایا کے جو پہلی کلاس کے بچے بنا رہے تھے، بس حکیم آصف آرائیں کو ٹیچر نے بتایا کے ڈرائنگ میں یہ چیزیں بنانی ہیں۔ حکیم آصف آرائیں نے اچھے سے کرکے ڈرائنگ بنایا، چونکہ ڈرائنگ بالکل صحیح تھا مگر جب سب بچوں سے پیپر لے لیا گیا تب حکیم آصف آرائیں کے ڈرائنگ پیپر کو دیکھ کر بڑی ٹیچروں سے سب نے ٹہرا دیا کے حکیم آصف آرائیں نے جو کے دوسری کلاس کے بچے تھے انہوں نے پہلی کلاس کے بچے کی نقل کی ہے اور پہلی کلاس کے بچے کا نقل کرکے ڈرائنگ بنایا ہے، بس اسی وجہ سے حکیم آصف آرائیں کو دوسری کلاس میں ڈرائنگ کے پیپر میں بھی فیل کردیا گیا۔ جب یہ بات حکیم آصف آرائیں کو پتا چلا کے حکیم آصف آرائیں کے ڈرائنگ پیپر کو بھی فیل کردیا گیا ہے صرف اس وجہ سے کے حکیم آصف آرائیں نے پہلی کلاس کے بچے کا نقل اتارا ہے۔ تب حکیم آصف آرائیں کو اس ٹیچر پر غصہ آگیا کے جس ٹیچر نے حکیم آصف آرائیں کو کہا تھا کے ڈرائنگ میں یہ یہ چیزیں بنانی ہیں۔ حکیم آصف آرائیں کو اس ٹیچر پر اتنا غصہ آیا مگر حکیم آصف آرائیں سمجھے کے میری بات کوئی نہیں مانیں گے کے اسی ٹیچر نے مجھے ایسا بنانے کو کہا تھا اور جب چیک ہوا تو اس ٹیچر نے بھی ٹہرا دیا کے حکیم آصف آرائیں نے پہلی کلاس کے بچے کا نقل اتارا ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں ڈرائنگ کے پیپر میں بھی فیل ہوگئے۔ اور اردو، انگلش ، میتھ دیگر سب پیپر میں ویسے ہی فیل تھے ۔ مگر صرف ایک اسلامیات کا پیپر حکیم آصف آرائیں پورا کر لیتے تھے کیونکہ یہ چیزیں حکیم آصف آرائیں کو یاد کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔اور ایک ڈرائنگ کا پیپر کر لیتے تھے مگر ڈرائنگ میں بھی فیل ہوگئے۔ جس کی وجہ سے حکیم آصف آرائیں کو دوسری کلاس سے کچی دوسری کلاس میں شفٹ کر دیا گیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں کو ایک ایسی ٹیچر ملی کے جس نے حکیم آصف آرائیں سے عہد کیا کے تمہیں میں پڑھاؤں گی اور دوسرے کوئی بھی نہیں پڑھاتے ہیں اور تمہیں فیل بھی نہیں کروں گی ۔ بس وہ ٹیچر حکیم آصف آرائیں کیساتھ بہت اچھے طریقے سے رہتی تھی، اردو ہو، انگلش ہو، سائنس ہو، میتھ ہو کوئی بھی پیپر ہوتے تھے تو وہ ٹیچر خود اپنے ہاتھوں سے حکیم آصف آرائیں سے پیپر فل کرواتی تھی ۔ اور حکیم آصف آرائیں کو کبھی بھی پاس نہیں کیا بلکہ کبھی تھرڈ بناتی اور کبھی سیکنڈ پر لیکر آتی۔ حکیم آصف آرائیں نے بھی سمجھ لیا کے مجھے بہت اچھی ٹیچر ملی ہے کے جس کے ذریعے میں آرام سے پاس ہوجاتا ہوں۔ مگر یک بار اسی ٹیچر نے حکیم آصف آرائیں کو بار بار چھوٹی چھوٹی باتوں پر مارتی تھی ، بمعنی مارنے کی وجہ بھی نہ ہو مگر پھر بھی وجہ بناکر مارتی تھی ۔ تب اچانک سے حکیم آصف آرائیں نے سمجھ لیا کے اب حکیم آصف آرائیں اس ٹیچر کے بھی دل سے اتر گیا ہے۔ اور تبھی حکیم آصف آرائیں کو مارتی ہے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اس ٹیچر سے بات کرنا بھی چھوڑ دیا ۔ ایسے پہلا دن گزرا، دوسرا دن گزرا اور پھر تیسرا دن گزرا ، اور پھر وہ ٹیچر سمجھ گئی کے حکیم آصف آرائیں اب مجھسے بات کر ہی نہیں رہا ہے، بس حکیم آصف آرائیں نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ تب وہی ٹیچر حکیم آصف آرائیں کے پاس آئی اور کہنے لگی کے کیا مجھسے ناراض ہو ؟ مگر حکیم آصف آرائیں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور پھر ٹیچر نے حکیم آصف آرائیں سے پیار سے کہا کے میں نے تمہیں مارتی ہوں تو میں تمہیں پیار بھی کرتی ہوں۔ یہاں حکیم آصف آرائیں نے ٹیچر کی یہ بات رد کردیا کیونکہ حکیم آصف آرائیں ایسے پیار کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ہے۔ مگر جب ٹیچر نے کہا کے دیکھو میں نے تمہیں ایک بار بھی فیل نہیں کیا ہے اور تمہیں ہر بار کبھی سیکنڈ لیکر آتی ہوں اور کبھی تھرڈ لیکر آتی ہوں، اور تمہارا خیال بھی کرتی ہوں، خود سے پیپر فل کرواتی ہوں ۔ بس جب ٹیچر نے ایسا کہا کے میں نے ایک بار بھی فیل نہیں کیا اور کبھی تھرڈ لیکر آتی ہوں اور کبھی سیکنڈ لیکر آتی ہوں، پلس پیار بھی کرتی ہے تب حکیم آصف آرائیں نے ٹیچر کو معاف کردیا، اور پھر حکیم آصف آرائیں واپس ٹیچر کیساتھ مل گیا اور پھر ٹیچر حکیم آصف آرائیں کو نہیں مارتی تھی۔ حکیم آصف آرائیں کو جب اس ٹیچر نے مارا تھا تب حکیم آصف آرائیں یہ سمجھ گیا تھا کے ٹیچر اس لیے مار رہی ہے تاکے حکیم آصف آرائیں ٹیچر کو چھوڑنا چاہے تو چھوڑ دے۔ مگر حکیم آصف آرائیں ٹیچر کو نہیں چھوڑ رہا تھا اور ٹیچر ماری جا رہی تھی بمعنی بہانے بہانے سے۔ اور آخر کار حکیم آصف آرائیں نے ٹیچر کو چھوڑ دیا تھا، مگر جب حکیم آصف آرائیں نے ٹیچر کو چھوڑ دیا تب وہی ٹیچر دوبارہ حکیم آصف آرائیں کیساتھ مل گئی۔ اور پھر ٹیچر نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے آصف میں تمہارے لیے ہی سکول میں پڑھاتی ہوں، اور اگر تم نہیں ہوتے تو میں سکول چھوڑ کر چلی جاتی، مگر تم سکول میں پڑہتے ہو اور تبھی میں تمہاری وجہ سے سکول میں ٹیچر بنی ہوں ، اور تم کچی دوسری کلاس سے پکی پہلی کلاس میں بھی چلے جاؤ گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پکی پہلی کلاس کی ٹیچر بن جاؤں گی ۔ اور تم پھر پکی دوسری کلاس میں چلے جاؤ گے تو میں بھی پکی دوسری کلاس کی ٹیچر بن جاؤں گی۔ اور تم جب تک سکول میں پڑہتے رہو گے اور جس کلاس میں بھی جاؤ گے تو میں بھی تمہارے ساتھ اسی کلاس کی ٹیچر بنتی رہوں گی۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں سمجھا کے ٹیچر حکیم آصف آرائیں سے بہت محبت کرتی ہے، اور پھر حکیم آصف آرائیں اسی ٹیچر کیساتھ ہوگیا۔ - - اس طریقے سے حکیم آصف آرائیں نے اسی ٹیچر کے ذریعے کچی دوسری کلاس پڑھی، اور پھر پکی پہلی کلاس پڑھی، اور پھر پکی دوسری کلاس پڑھی۔ آخرکار حکیم آصف آرائیں نے سکول چھوڑ دیا۔ حکیم آصف آرائیں یہ جانتے تھے کے حکیم آصف آرائیں اس لائق نہیں تھے کے جو سکول میں پاس آتا ، مگر حکیم آصف آرائیں سکول میں پاس سے بھی اوپر کبھی تھرڈ آتا اور کبھی سیکنڈ آتا، اور وہی ٹیچر بہت خوش ہوتی کے حکیم آصف آرائیں تھرڈ آیا ہے اور کبھی سیکنڈ آیا ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں کا یہی ریکارڈ ہے کے حکیم آصف آرائیں نے صرف دو کلاس تک ہی پڑھا ہے۔ حکیم آصف آرائیں اپنے بچپن میں بہت ڈرپوک، نازک، کمزور ، لاغر اور تنہاء بچے تھے۔ اور کوئی بھی حکیم آصف آرائیں سے دوستی نہیں کرتے تھے، دوسرے چھوٹے بچے بھی حکیم آصف آرائیں سے دوری اختیار کرتے تھے اور حکیم آصف آرائیں کو یہی ٹہراتے کے حکیم آصف آرائیں پاگل ہے، کوئی باؤلہ کہتے ، بمعنی بچے بھی ایسا ہی کرتے۔ اور بڑے بھی ایسا ہی ہوتے۔ اور بہت کم لوگ ایسا ہوتے کے جو حکیم آصف آرائیں کو بہت شریف سمجھتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں کو مکمل اردو پڑہنا سن عیسوی 2004 یا 2005 میں ایک چھوٹی سی بچی نے سکھایا ہے، وہ چھوٹی بچی کے جو خود حکیم آصف آرائیں سے بھی عمر میں چھوٹی تھی اور اب چونکہ حکیم آصف آرائیں سن عیسوی 2026 میں موضوع لکھ رہا ہے۔ حکیم آصف آرائیں کسی کا بھی پرائیویسی ذاتی معیارات کو نام لیکر ظاہر نہیں کرتے ہیں، اور چونکہ صرف اپنے ذات کا مضمون لکھتے ہیں تو صرف اپنا نام ہی لکھتے ہیں ، اور ایسے کسی کا بھی نام لیکر اسکی پہچان نہیں کرواتے ہیں کے اسکی شناخت ہوسکے۔ بس صرف یہی کہے دینا کافی ہے ٹیچر، چھوٹی بچی، اور نام لیکر پہچان نہیں کرواتے ہیں کیونکہ یہ حکیم آصف آرائیں کا اپنا پرائیویسی ہے۔ حکیم آصف آرائیں اپنے بچپن میں بہت بار چوری ، ڈکیتی کے کیس میں بھی پھنس چکے ہیں ۔ اور حکیم آصف آرائیں کو دنیا والے خود گواہ بنتے کے انہوں نے خود دیکھا ہے کے حکیم آصف آرائیں نے فلاں چیز چوری کر رہے ہیں، یا گھر میں گھس رہے ہیں، ایسا بھی واقعہ ہے کے حکیم آصف آرائیں پکڑے گئے ہیں اور جو حکیم آصف آرائیں کیساتھ دوسرے ڈکیت ہوتے تھے تو وہ بھاگنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ بس جب حکیم آصف آرائیں لوگوں کے منہ سے ایسا بیان سنتے تھے تو حکیم آصف آرائیں نے تہیہ کرلیا کے یہ لوگ سب فسادی ہیں، اور حکیم آصف آرائیں کیساتھ ایسا کرتے ہیں ۔ حکیم آصف آرائیں نے اپنے بچپن میں یہ تجربہ کیا ہے کے حکیم آصف آرائیں کبھی بھی پٹھانوں کے علاقے سے بھی گزرتا تھا تو کسی پٹھان نے کبھی بھی حکیم آصف آرائیں پر یہ تہمت نہیں لگایا ہے کے حکیم آصف آرائیں نے چوری کیا ہے یا حکیم آصف آرائیں کیساتھ اتنے بندے تھے اور وہ بھاگ گئے ہیں اور حکیم آصف آرائیں پکڑا گیا ہے۔ مگر حکیم آصف آرائیں مہاجروں کے علاقے سے گزرتا تھا تو اکثریت میں مہاجر لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں کے جو خود سے اپنی آنکھوں دیکھا گواہ بنتے ہیں ، اور خود سے بیان بناتے ہیں اور پچاس پچاس لوگ ملکر ایسے کسی بھی راہ گزر کو مارتے تھے۔ تو اسی طرح حکیم آصف آرائیں بھی انہی لوگوں میں شمار ہوگیا کے حکیم آصف آرائیں راستے سے گزرتا تھا تو لوگ خود سے بیان بناتے اور پچاس پچاس لوگ ملکر اکیلے حکیم آصف آرائیں کو مارتے تھے ۔ حکیم آصف آرائیں ایسے متعدد کئی بار ایسے حملوں کا شکار ہوا ہے، مگر چونکہ حکیم آصف آرائیں کا جسم اتنا لاغر تھا کے چہرے میں پوری ہڈی ہوتی تھی، سینے ، کمر اور ہاتھ پاؤں سب ہڈی ہوتے تھے، اسی وجہ سے حکیم آصف آرائیں کو ذیادہ تکلیف نہیں ہوتا تھا ۔ مگر مارنے والے بہت سے لوگ یکساتھ حکیم آصف آرائیں پر حملہ کرتے تھے۔ حکیم آصف آرائیں نے اس نتیجے سے یہ بات نکال لیا کے مہاجر لوگ پٹھانوں کے معاملے میں بھی جو بھی ثبوت بناتے ہیں تو وہ بھی جھوٹ پر مبنی ثبوت ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات حکیم آصف آرائیں کیساتھ آخر تک سن عیسوی 2018 تک جاری رہے تھے۔ حکیم آصف آرائیں اپنی زندگی بچپن اکیلا گزارتے اور مٹی میں کھیلتے اور ایسے کھیلتے تھے کے جیسے دوسری دنیا میں کھیل رہے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں دنیا لوگوں کی طرح کرکٹ اور ہاکی و کبڈی وغیرہ وغیرہ کھیلوں سے خود کھیلنے سے نفرت کرتے ہیں ، اگرچہ دوسرے لوگ کھیلتے ہیں تو وہ دوسروں کا اپنا معاملہ سمجھتے ہیں مگر خود ایسا نہیں کھیلتے ہیں اور ایسے کھیل سے نفرت کرتے ہیں، کیونکہ حکیم آصف آرائیں اپنے بچپن میں بہت شریف ، ڈرپوک، نازک ، معصوم اور کمزور لاغر بچے تھے اور جسے دنیا پاگل یا کوئی باؤلہ کہتے تو وہ کرکٹ یا ہاکی وغیرہ کیسے کھیل سکتا ہے ؟ حکیم آصف آرائیں نے اردو میں مہارت حاصل کیا اور اپنے بچپن میں مختلف لائبریریوں میں کافی کتابیں پڑھی ہیں، چونکہ حکیم آصف آرائیں کا مشغلہ ہی یہی ہوتا تھا کے بچپن میں یا مٹی میں کھیلتے مگر یہ کسی مخصوص وقت کھیلتے ، دو گھنٹے کھیلتے یا چار گھنٹے کھیلتے ، مگر کتابیں ایسے پڑہتے کے دن اور رات کتابیں پڑہتے، اور کوئی کام گھومنا پھرنا نہیں کرتے۔ اور جب گھومتے پھرتے تو بہت ذیادہ گھومتے تھے، دور دراز کا سفر کرتے تھے۔ کبھی چوبیس گھنٹے فلمیں ڈرامے دیکھتے ، اور نیند سے اٹھ کر فلم دیکھتے اور پوری رات تک فلم دیکھتے ، ناشتہ، کھانا پینا سب فلم کے سامنے ہوتا تھا۔ اور رات فلم دیکھتے دیکھتے سو جاتے۔ اور صبح اٹھتے تو فلم دیکھتے دیکھتے پورا دن گزارتے، کھانا پینا سب اسی میں ہوتا۔ صرف ضروری حاجت کے لیے تھوڑی سی دیر کے لیے فلم چھوڑ کر جانا پڑتا، اور حاجت سے فارغ ہوکر واپس فلم دیکھتے۔ یہی وجہ ہے کے حکیم آصف آرائیں نے اپنا بچپن کتابیں پڑہنے اور فلم ، ڈرامے دیکھنے اور مٹی میں کھیلنے اور اکیلے گھومنے میں لگایا ہے۔ حکیم آصف آرائیں اپنے بچپن سے خلائی مخلوق سے دلچسپی رکھتے تھے ، جیسے روح، جنات، فرشتے۔ بس حکیم آصف آرائیں کا اپنا رہن سہن دنیا کے طور طریقے سے بالکل مختلف تھا۔ حکیم آصف آرائیں نے دو کلاس سکول کے بعد اپنی زندگی تنہاء گزارا ہے اور حکیم آصف آرائیں کے کوئی بھی دوست نہیں ہوتے تھے، بلکہ سب لوگ حکیم آصف آرائیں سے دور دور رہتے تھے ۔ حکیم آصف آرائیں نے دو کلاس سکول کے بعد سن عیسوی 2005 یا 2006 میں ایک کارخانہ میں کام کیا ہے جس میں ایک دن کا دیاڑھی 50 روپے اور الگ سے اوور ٹائم ملا کر 30 روپے بنتے تھے۔ بمعنی 8 گھنٹے کے 50 روپے اور مذید 4 گھنٹوں کے 30 روپے بنتے تھے۔ جس میں حکیم آصف آرائیں نے خود فیصلہ کیا کے 50 روپے گھر میں دیں گے اور 30 روپے اپنا اوور ٹائم لگا کر وہ پیسہ خود اپنے اوپر خرچ کریں گے ۔ حکیم آصف آرائیں نے 50 روپے اپنے گھر میں دیتا تھا اور 30 روپے خود اپنے لیے رکھتا تھا۔ چونکہ حکیم آصف آرائیں کی امی جو تھی تو وہ ایسی تھی کے وہ بھی حکیم آصف آرائیں سے دوری رکھتی تھی۔ جب حکیم آصف آرائیں کی امی کو پتا چلا کے حکیم آصف آرائیں 50 روپے دیتا ہے اور 30 روپے خود اپنے لیے رکھ لیتا ہے، تب حکیم آصف آرائیں کی امی نے اعتراض کیا کے حکیم آصف آرائیں کی امی پورے پیسے لے گی اور حکیم آصف آرائیں کو کوئی پیسے نہیں ملیں گے اور حکیم آصف آرائیں کی اپنی مرضی ہے کے اوور ٹائم کرے یا نہ کرے مگر اگر کرے گا تو پھر حکیم آصف آرائیں کی امی پورے پیسے لے گی۔ - - اور حکیم آصف آرائیں کو یہ فیصلہ قبول نہیں تھا، اور حکیم آصف آرائیں خود اپنے لیے بھی استعمال ہونا ضروری سمجھتے تھے ۔ حکیم آصف آرائیں کام پر بھی میلوں کا سفر طے کرتے تو پیدل سفر کرتے اور واپس گھر بھی آتے تو پیدل آتے، اور کرائے کے پیسوں سے اپنی صحت پر خرچ کرتے تھے۔ بس حکیم آصف آرائیں کی امی کو حکیم آصف آرائیں کا طریقہ ٹھیک نہیں لگا اور حکیم آصف آرائیں کی امی نے اعتراض کیا اور پھر حکیم آصف آرائیں نے بھی اپنی امی کا کہنا ماننے سے انکار کردیا۔ حکیم آصف آرائیں کی امی نے کہا کے مجھے پھر 50 روپے بھی نہیں چاہیے، تب حکیم آصف آرائیں نے کہا کے کوئی بات نہیں 50 روپے بھی حکیم آصف آرائیں ہی لے لے گا۔ مرضی ہوگی تو 50 روپے لے گی، مرضی نہیں ہوگی تو 50 روپے بھی نہیں لے گی۔ اس وقت حکیم آصف آرائیں کے ابو نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے توں پورے پیسے ہی رکھ لیا کر اور پیدل سفر نہیں کیا کر، مگر حکیم آصف آرائیں نے اپنے ابو کا بھی کہنا نہیں مانا، اور پیدل ہی سفر کرتا تھا، کبھی ارجنٹ پہنچنا ہوتا تو صرف تبھی گاڑی پر سفر کرتا تھا اور اگر ارجنٹ نہیں پہنچنا ہوتا تو صبح و شام پیدل ہی سفر کرتا تھا ۔ کرائے کے پیسوں سے حکیم آصف آرائیں کیلے کا جوس پی لیا کرتا تھا۔ چونکہ وہ دور زمانہ ایسا تھا کے اس وقت اصلی اشیاء مل جاتے تھے۔ بس حکیم آصف آرائیں نے اپنے ابو سے کہا کے آپ پیسے لے لیا کرنا اور امی کو پیسے لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ کبھی امی پیسے لے لیتی تو وہ الگ بات ہوتا مگر امی عام طور پر پیسے نہیں لیتی تھی۔ حکیم آصف آرائیں کا اس کارخانہ میں بھی کسی سے نہیں بنتا تھا اور یہاں تک کے اس کارخانہ کا سپر وائزر خود حکیم آصف آرائیں کے خلاف ہوگیا تھا کیونکہ اس سپر وائزر کو گھمنڈ تھا کے سیٹھ نے سپر وائزر کو اپنا بیٹا بنایا ہوا ہے۔ اور تبھی وہ سپر وائزر حکیم آصف آرائیں سے لڑتا تھا اور یہ اندیشہ ظاہر کرتا تھا کے کہیں سیٹھ حکیم آصف آرائیں کو بھی اپنا بیٹا نہ بنا لے۔ کیونکہ دوسرے کام کرنے والے مزدوروں کا دعویٰ تھا کے سیٹھ حکیم آصف آرائیں کو بھی اپنا بیٹا بنا لے گا۔ اور اس کارخانہ کا سپر وائزر حکیم آصف آرائیں کو کام کرنے کے پیسے بھی نہیں دیتا تھا کے جیسے کوئی بدمعاشی ہو۔ اور حکیم آصف آرائیں پر اتنا سختی کرتا تھا کے ایک منٹ بھی کام پر پہنچنے پر دیر ہوتا تو واپس گھر بھیج دیتا اور کام کرتے تو آدھی دیاڑھی کاٹ دیتا۔ چونکہ حکیم آصف آرائیں کو اس وجہ سے اس سپر وائزر سے ہٹ گئی تھی۔ بمعنی پھر حکیم آصف آرائیں کا اور اس کارخانہ سپر وائزر کا آپس میں conflict ہوگیا۔ سپر وائزر نے حکیم آصف آرائیں سے چیلنج لگایا کے سپر وائزر حکیم آصف آرائیں کو کارخانہ سے بھگا دے گا۔ اور کارخانہ میں کام کرنے نہیں دے گا۔ چونکہ یہ بات سیٹھ کی غیر موجودگی میں مزدوروں کے سامنے تھی، اور مزدور بھی سب حکیم آصف آرائیں سے یہی کہتے کے سپر وائزر سیٹھ کا بیٹا بنا ہوا ہے اور تمہیں بھی سیٹھ بنا سکتا ہے مگر سپر وائزر تمہیں کارخانہ میں رہنے نہیں دے گا۔ حکیم آصف آرائیں نے مزدوروں سے کہا کے تم سب لوگ سپر وائزر کو بہت اہمیت دیتے ہو مگر میری نظر میں سپر وائزر کی کوئی اہمیت نہیں ہے اگرچہ یہ سپر وائزر سیٹھ کا بیٹا بنا ہوا ہو، میں اس سپر وائزر کو ایسے گراؤں گا کے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔ اور سپر وائزر میرے ساتھ مقابلہ لگاتا ہے تو لگائے، اور بس مزدور سپر وائزر کا اور میرا آپس کا مقابلہ دیکھیں۔ مزدور چونکہ حکیم آصف آرائیں سے نہیں الجھتے تھے اور مزدور حکیم آصف آرائیں کی بات مان گئے، کے ہم چپ کر کے دیکھیں گے کے کونسا کرشمہ چمتکار ہوتا ہے۔ بس سپر وائزر کی بات اور حکیم آصف آرائیں کی بات مزدوروں کے سامنے تھا مگر سیٹھ کے غیر موجودگی میں تھا۔ سپر وائزر نے حکیم آصف آرائیں کیساتھ ایسا گیم کھیلا کے جب سیٹھ کارخانہ میں حساب کتاب کرنے چکر لگانے آتا ہے تو سپر وائزر حکیم آصف آرائیں کو کارخانہ سے باہر دور چائے لینے بھیج دیتا اور جب حکیم آصف آرائیں چائے لیکر آتے تو دیکھتے کے سپر وائزر سیٹھ کو حکیم آصف آرائیں کا شکایت کرتا ہے کے یہ کارخانہ سے باہر ہی رہتا ہے اور گھنٹے گھنٹے باہر رہتا ہے اور ابھی آیا ہے۔ کام نہیں کرتا ہے اور ٹائم پاس کرتا رہتا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں سیٹھ کے سامنے کچھ بھی نہیں کہتا تاکے سپر وائزر جی بھر کر ہر طرح سے جیسا چاہے سیٹھ کو کچھ بھی کہے اور حکیم آصف آرائیں کی طرف سے سپر وائزر کو فل آزادی تھا ۔ حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ کے غیر موجودگی میں سپر وائزر سے صاف کہے دیا کے تم میرے بارے میں سیٹھ کو جیسا بھی کچھ بھی لگا دو، اور تمہیں فل آزادی ہے اور حکیم آصف آرائیں تمہیں منع نہیں کرے گا اور تمہیں جھوٹا بھی ثابت نہیں کرے گا، تاکے تم جی بھر کر سیٹھ کو کچھ بھی کہنا چاہو تو کہے دو، مگر جب تمہاری آزادی ڈھیل ختم ہوگا تب تم کچھ بھی نہیں کرسکو گے۔ بس حکیم آصف آرائیں نے ایسا نہیں کہا کے میں ہمیشہ کچھ نہیں کروں گا مگر فل آزادی دیا تاکے جب تک تمہیں ڈھیل آزادی ہے جو چاہے کہو۔ اور حکیم آصف آرائیں ایک بار بھی منع بھی نہیں کرے گا۔ بس سپر وائزر کا اور حکیم آصف آرائیں کا اپنا ذاتی اختلاف یہ شدت اختیار کرگیا تھا مگر یہ سب سیٹھ سے بالکل چھپا ہوا تھا کے حکیم آصف آرائیں نے بھی سپر وائزر سے اختلاف رکھتا ہے مگر کچھ کہتا نہیں ہے۔ بس جب سپر وائزر نے سیٹھ کو حکیم آصف آرائیں کے بارے میں طرح طرح سے کچھ بھی کہتا رہتا تو حکیم آصف آرائیں چپ رہتا، اور کچھ بھی نہیں کہتا۔ مگر جب سپر وائزر نے پہلی بار حکیم آصف آرائیں کو کام کرنے کا پیسہ نہیں دیا اور اگلی بار جب پیسہ لینے کا دوبارہ وقت آیا تب حکیم آصف آرائیں نے سپر وائزر سے کہے دیا کے اب میں ڈائریکٹ سیٹھ سے پیسہ لوں گا۔ اور سیٹھ کو منع کر دوں گا کے میرے حصے کا پیسہ سپر وائزر کو نہیں دیا کرو کے سپر وائزر مجھے پیسہ دے گا۔ باقی میرے اور سیٹھ کے معاملے میں بیچ میں سپر وائزر نے اپنی زبان اگر کھول دیا تو سپر وائزر کا وقت ختم ہو جائے گا کے جتنا بھی ڈھیل آزادی تھا۔ اور یہ حکیم آصف آرائیں کی طرف سے سپر وائزر کو وارننگ تھا ۔ سپر وائزر اپنے سیٹھ کا بیٹا ہونے پر فخر کرتا تھا مگر جب سپر وائزر نے حکیم آصف آرائیں کے دیئے گئے وارننگ کو توڑ دیا۔ تب حکیم آصف آرائیں غصے میں آگیا۔ اور حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ پر شدت سے غصہ کیا۔ اور سپر وائزر کو اسی وقت سیٹھ کے بیٹا ہونے سے نکال دیا۔ بس پھر سیٹھ بھی حکیم آصف آرائیں کی حمایت میں آگیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ کو کہے دیا کے آج کے بعد سپر وائزر کو کسی کا بھی پیسہ نہیں دینا ہے اور جس کو بھی دو گے تو خود اپنے ہاتھوں سے دینا ہے۔ اور سب مزدوروں نے بھی دیکھ لیا کے حکیم آصف آرائیں نے کس طرح سیٹھ کو سنایا ہے، اور سپر وائزر کو بیٹے سے بھی نکال دیا ۔ اور پھر سیٹھ نے حکیم آصف آرائیں کو اپنا بیٹا بنا لیا بس پھر حکیم آصف آرائیں نے سپر وائزر کو سیٹھ کے غیر موجودگی میں کہا کے میں نے کہا تھا ناں کے جب میں خود اپنے پیسے لینے کی ڈائریکٹ سیٹھ سے بات کروں تو بیچ میں نہیں بولنا ہے۔ مگر تم نے کہا تو اس نتیجے کے ذمے دار بھی تم ہی ہو۔ - - اور حکیم آصف آرائیں نے سپر وائزر سے کہا کے ابھی تو تم نے صرف ایک جھلک دیکھا ہے، اور اب دوسرا جھلک بھی دیکھنا اور اس جھلک میں تمہیں پوری عزت ختم ہو جائے گی اور تم سے اوپر مزدوروں کی عزت ہوگی۔ اور تمہیں سپر وائزر سے بھی ختم کردیا جائے گا۔ اور سیٹھ نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے تم سپر وائزر کے کہنے پر نہیں چلنا اور سیٹھ ہی حکیم آصف آرائیں کو خود پیسہ دے گا اور حکیم آصف آرائیں خود اپنی مرضی سے کارخانہ میں آئے گا اور اپنی مرضی سے کام کرے گا۔ بس یہ نظارا دیکھ کر سپر وائزر اور مزدور سب دیکھتے رہے گئے، جبکہ حکیم آصف آرائیں خود ایک ہیلپر تھا اور کوئی کاریگر نہیں تھا۔ بمعنی حکیم آصف آرائیں کے پاس دنیا کا کوئی بھی ہنر نہیں تھا، بس حکیم آصف آرائیں صرف حق ایمانداری خلوص سچائی میں مکمل تھا اور ہے۔ اور دنیا کا کوئی ہنر نہیں رکھتے ہیں ، یہاں تک کے موٹر سائیکل بھی چلانا نہیں آتا ہے ۔ اور حکیم آصف آرائیں نے صرف سائیکل چلانا سیکھا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں حکمت منصوبے بنانے والا اور انصاف کرنے والا اور انصاف میں تحقیق کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ اسی کارخانہ میں ایک ریٹائرڈ فوجی مزدور تھا کے جو بوڑھا تھا مگر وہ حکیم آصف آرائیں سے کھار کھاتا تھا اور نفرت کرتا تھا کے جیسے وہ یہ سمجھتا ہو کے حکیم آصف آرائیں بچہ ہے۔ اور اس ریٹائرڈ فوجی نے اسی کارخانہ میں ایک بندے کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ چونکہ جس بندے کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا تو وہ بیٹا اور وہ ریٹائرڈ بوڑھا مزدور فوجی حکیم آصف آرائیں کے خلاف تھے کیونکہ حکیم آصف آرائیں بچہ تھا۔ بس جب حکیم آصف آرائیں نے دوسرے مزدوروں سے سنا یہ فلاں بوڑھا آدمی ریٹائرڈ فوجی ہے اور یہ تم سے اختلاف کرتا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں نے جب اس ریٹائرڈ فوجی کا کردار رویہ دیکھا تو حکیم آصف آرائیں نے ذیادہ عرصہ برداشت نہیں کیا۔ بلکہ حکیم آصف آرائیں نے اس ریٹائرڈ بوڑھے فوجی کو بھی رد کردیا اور اس سے بات کرنا بالکل ختم کردیا۔ بس ایسے دن گزرتے رہے، وہ ریٹائرڈ فوجی اپنے کام سے کام رکھتا اور حکیم آصف آرائیں اپنے کام سے کام رکھتا۔ اور بس کچھ عرصہ وہ نفرت کرتا رہا مگر پھر اچانک سے بدل گیا اور وہ بھی حکیم آصف آرائیں کیساتھ مل گیا اور حکیم آصف آرائیں کو تحفے میں چیزیں لاکر دیتا تھا۔ مگر حکیم آصف آرائیں نے اس ریٹائرڈ فوجی کو تحفے لانے سے منع کردیا اور کہا کے ہمیں تحفے کی ضرورت نہیں ہے، مگر بس وہ ریٹائرڈ فوجی پھر بھی تحفے لاتا اور مجھسے پوچھتا کے تمہیں کیا تحفہ چاہیے تو میں وہی تحفہ لاکر دوں گا ۔ حکیم آصف آرائیں نے اس سے قلم مانگ لیا کے ٹھیک ہے، میرے لیے قلم لیکر آجانا، اور وہ ریٹائرڈ فوجی قلم لیکر آجاتا اور ہری مرچیں بھی لیکر آجاتا۔ اور کھانا بھی حکیم آصف آرائیں کے لیے رکھتا۔ آخر کار حکیم آصف آرائیں اس ریٹائرڈ فوجی کیساتھ ہم آہنگ ہو گیا۔ حکیم آصف آرائیں نے اس ریٹائرڈ فوجی سے کہا کے آپ ریٹائرڈ فوجی ہو تو ایسا کرو کے مجھے بندوق کا نشانہ بنانا سکھاؤ۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اس ریٹائرڈ فوجی سے بندوق کا نشانہ بنانا سیکھا۔ تب حکیم آصف آرائیں نے تصدیق کرلیا کے وہ ریٹائرڈ فوجی حقیقت میں حکیم آصف آرائیں کیساتھ مل گیا ہے اور حکیم آصف آرائیں کو اچھا سمجھتا ہے۔ اور پھر اس ریٹائرڈ فوجی نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے حکیم آصف آرائیں فوج میں چلا جائے، مگر حکیم آصف آرائیں فوج میں جانے کے خواہشمند نہیں تھے ۔ کیونکہ فوج کی نوکری گھر سے دور کر دیتا ہے۔ مگر ریٹائرڈ فوجی ضد کر رہا تھا کے حکیم آصف آرائیں کو فوج میں جانا چاہیے۔ تب حکیم آصف آرائیں نے کہا کے میں سول پولیس میں چلا جاؤں گا مگر فوج میں نہیں جاؤں گا کیونکہ فوجی ادارہ میرے ذات کے لیے مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ مگر ریٹائرڈ فوجی فوج میں جانے کو ذیادہ اہمیت دیتا ، اور مجھے اس کے ذیادہ اہمیت دینا اس لیے برا نہیں لگتا کیونکہ وہ خود ریٹائرڈ فوجی ہے ۔ بس ریٹائرڈ فوجی نے حکیم آصف آرائیں سے سوال پوچھا کے حکیم آصف آرائیں نے سکول کتنے کلاس پڑھا ہے ، تب حکیم آصف آرائیں نے جواب دیا کے میں نے صرف دو کلاس سکول پڑھا ہے اور آگے کا پڑہنے کا شوق بھی نہیں ہے کیونکہ مجھ حکیم آصف آرائیں کو سکول کے ریکارڈ کے مطابق نالائق بچہ سمجھتے ہیں۔ اور حکیم آصف آرائیں کو سکول کی تعلیم حاصل کرنے سے نفرت بھی تھا، چڑھ تھا کیونکہ سکول کی تعلیم یاد ہی نہیں ہوتا ہے۔ اگرچہ چھ چھ گھنٹے لیکر پڑہتے رہو، مگر کام کی چیز ایک بار بھی پڑہتے ہیں تو وہ یاد ہوجاتا ہے، اور سکول کی تعلیم یاد ہی نہیں ہوتا ہے اور ساری محنت ضائع ہو جاتی ہے ۔ اور پھر اس ریٹائرڈ فوجی نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے تم آٹھ جماعت بھی کرلو گے تو پھر سول پولیس بھی ہو جائے گا۔ حکیم آصف آرائیں جو کے سکول کی تعلیم حاصل کرنے سے ویسے ہی بچتے ہیں اور آٹھ کلاس پڑھنا بھی بہت بڑی بات ہے۔ مگر چونکہ پھر حکیم آصف آرائیں سے کہا گیا کے پانچ کلاس بھی پڑھ لیں گے تب بھی ہو جائے گا۔ تب حکیم آصف آرائیں نے سمجھا کے ٹھیک ہے ، پانچ کلاس جیسے کیسے وقت لگا کر پڑھ لیتے ہیں اور ذمے داری اس ریٹائرڈ فوجی کی ہے کے حکیم آصف آرائیں کا کام ہو جائے گا۔ حکیم آصف آرائیں نے پھر کارخانہ سے نکلنے کے بعد ڈائریکٹ پانچویں کلاس میں داخل ہوگیا۔ اور تین سے چار مہینے پڑھے ہونگے اور امتحان دیکر رپورٹ کارڈ بنوا لیا۔ اب چونکہ اس ریٹائرڈ فوجی کا انتقال ہوچکا ہے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں اپنے کام سے رہے گیا۔ حکیم آصف آرائیں نے اس ریٹائرڈ فوجی کے بارے میں اللّٰہ جل جلالہ، بڑے پیر عبد القادر جیلانی سے کہا کے اس ریٹائرڈ فوجی کو دنیا سے اٹھانے کا کیا مطلب ہے اور اسے کیوں اٹھایا ؟ کے جبکہ یہ پتا تھا کے یہ میرا کام کرے گا اور اس کو نہیں اٹھانا چاہیے تھا، میرے ذات کے زندگی کا یہ ایک اہم نقصان ہوا ہے۔ تب عبد القادر جیلانی نے کہا کے اس ریٹائرڈ فوجی کے قسمت میں یہ نہیں ہے کے وہ تیرا کام کرسکے، اور تبھی اسے جلدی اٹھا لیا گیا ہے۔ بس عبد القادر جیلانی کی طرف سے یہ جواب تو تھا مگر آئندہ کے لیے حکیم آصف آرائیں نے کہا کے ایسے کسی کو بھی دنیا سے نہیں اٹھانا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں نے اس ریٹائرڈ فوجی کے بارے میں کہا کے اس ریٹائرڈ فوجی کو جنت میں ڈال دینا کیونکہ اس ریٹائرڈ فوجی کی غلطی نہیں ہے کے وہ میرا کام نہیں کرسکا ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں کا اپنا پانچویں تک کا سکول ریکارڈ بیکار ہوگیا ۔ اور پھر اسی کارخانہ میں دوسرا شخص بھی تھا کے جو ریٹائرڈ فوجی تو نہیں تھا مگر فوج سے نکال دیا گیا تھا۔ وہ شخص بھی کارخانہ میں مزدور تھا اور اس مزدور نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے تم آٹھ کلاس پڑھ لوگے تو پھر وہی شخص حکیم آصف آرائیں کو فوج میں لگائے گا مگر حکیم آصف آرائیں کا فوج ادارے سے کوئی تعلق نہیں تھا بمعنی لگنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ اس شخص کی بات کو حکیم آصف آرائیں نے اس لیے سیریس لیا کیونکہ اس شخص کا بھائی اور رشتےدار بھی فوج میں ہی ہیں ، مگر اس کو بھائی نے ہی فوج سے نکال دیا ہے مگر پھر بھی اسکا خیال رکھتا ہے۔ بس پھر اس شخص کے کہنے پر اور وعدہ طے ہونے پر حکیم آصف آرائیں نے کہا کے میں آٹھ کلاس کا سرٹیفیکیٹ لے لوں گا - - مگر مجھے سول پولیس میں لگنا چاہیے کیونکہ یونیفارم پہننا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ اور وہ شخص حکیم آصف آرائیں کی بات مان گیا کے ٹھیک ہے ، آٹھویں کا سرٹیفیکیٹ لے آنا اور سول پولیس میں ہو جائے گا۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے ڈائریکٹ ساتویں کلاس سے داخلہ لیا اور ساتویں کلاس کو بھی نقل کرکے پاس ہوگیا، اور پھر آٹھویں کلاس پڑھا اور یہ بھی نقل کر کے پاس ہوگیا ۔ بمعنی حکیم آصف آرائیں کا سکول کے پڑہنے میں کچھ بھی دماغ نہیں ہے اور یہی حکیم آصف آرائیں کا اپنے ذات کی شخصیت کی پہچان ہے ۔ مگر حکیم آصف آرائیں پانچویں میں یا ساتویں میں یا آٹھویں میں کوئی حقیقت میں پاس بھی نہیں ہوا ہے بلکہ پاس سے بھی نیچے رکھا گیا ہے کے بس فیل نہیں ہے۔ اور پاس سے اوپر تھرڈ یا سیکنڈ صرف حکیم آصف آرائیں کی اپنی پسندیدہ ٹیچر ہی کرتی تھی کے جو دو کلاس تک ساتھ رہے اور پھر حکیم آصف آرائیں اور متعلقہ ٹیچر پھر جدا ہوگئے اور پھر ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکے ہیں۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے آٹھویں کا ٹی سی لیکر اس متعلقہ فوجی کے پاس پہنچ گیا مگر اس فوجی کو اسی کے دوست نے کہا کے حکیم آصف آرائیں کو نوکری میں نہیں لگانا ہے، مگر وہ فوجی اپنے دوست کا کہنا نہیں مان رہا تھا، جس کی وجہ سے اس فوجی کا اپنے دوست کیساتھ دونوں میں اختلاف ہوگیا اور دونوں کی دوستی ختم ہوگیا۔ اور پھر فوجی نے حکیم آصف آرائیں کو بھی چھوڑ دیا کے جب وہ دوست نہیں رہا تو پھر حکیم آصف آرائیں کا بھی کام نہیں کیا جائے گا۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں سخت غصے میں آگیا کے کوئی بھی منع کرتے ہیں تو انکے کہنے پر کیسے آتے ہو مگر بس فوجی کی اپنی مرضی تھی اور فوجی نے صاف منع کردیا کے اب کام نہیں کیا جائے گا ، اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اس فوجی کے لیے کہا کے یہ فوجی بھی مر جائے، کیونکہ اس کی وجہ سے حکیم آصف آرائیں نے آٹھ کلاس تک محنت کیا ہے ۔ اور پھر اس فوجی کو دنیا سے اٹھا لیا گیا۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے سمجھا کے اب خود مختلف جگہ پر جاکر نوکری کا کرتے ہیں کیونکہ آٹھ کلاس تک تو ویسے ہی محنت کر چکے ہیں۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے سی آئی اے میں لگنے کا درخواست دیا، اور سی آئی اے کا نمائندے نے حکیم آصف آرائیں کو ایک پیپر دیا اور کہا کے اپنے علاقے کے تھانے سے صرف مہر لگا کر لے آنا تاکے تصدیق ہوسکے کے تم سی آئی اے میں کام کرنے کے لیے بالکل ٹھیک ہو ۔ حکیم آصف آرائیں کو کچھ نہیں پتا تھا کے کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے تبھی مجھے جیسا پیپر دیا گیا تو میں اپنے علاقے کے تھانے میں چلا گیا اور وہاں ایک پولیس شخص تھا کے جو بہت نیک تھا۔ میرے ساتھ بھی ٹھیک رہتا تھا ۔ مگر جب حکیم آصف آرائیں نے اس پولیس والے شخص سے کہا کے یہ پیپر ہے اور اس میں کہا جاتا ہے کے تھانے کا مہر لگے گا اور مجھے نہیں پتا کے کیا کرنا ہے، بس جیسا سی آئی اے والے کہتے ہیں تو ویسا کر دو۔ بمعنی مہر لگا دو ۔ اس پولیس والے شخص نے حکیم آصف آرائیں سے وہ پیپر لیا اور اس میں اپنے قلم سے لکھنے لگا تب حکیم آصف آرائیں نے منع کردیا کے قلم سے نہیں لکھنا ہے بلکہ مہر لگانا ہے۔ مگر اس پولیس والے نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے یہ پولیس والوں کا آپس میں ایک کوڈ ہے جسے وہ مان لیں گے اور سی آئی اے میں رکھ لیں گے۔ تب حکیم آصف آرائیں نے اس پولیس والے کی بات پر یقین کرلیا۔ حکیم آصف آرائیں نے کہا کے ٹھیک ہے تم جیسا جانتے ہو ویسا کر دو۔ اور پھر اس پولیس والے نے پیپر میں لکھا۔ Akar bakar bumbay bol اور پھر حکیم آصف آرائیں نے جب یہ لکھا دیکھا تو کہا کے یہ کیا لکھ دیا اور یہ تو کوئی کھیل لگ رہا ہے کے جیسے تم کھیل رہے ہو۔ مگر اس پولیس والے نے کہا کے بس یہ پیپر لیجا کر اس سی آئی اے والوں کو دے دینا تو وہ خود سمجھ جائیں گے ۔ حکیم آصف آرائیں بہت حیران وہ ششدر رہے گیا کے کہا گیا تھا کے مہر لگانا مگر اس نے کوڈ لکھ دیا ۔ بس حکیم آصف آرائیں نے اس پولیس والے پر بھروسہ کرتے ہوئے وہی پیپر سی آئی اے لے گیا۔ جب سی آئی اے والوں نے یہ پیپر دیکھا تو گھور کر حکیم آصف آرائیں کو دیکھنے لگے۔ حکیم آصف آرائیں نے ان سی آئی اے والوں سے کہا کے میں نے تو مہر کا ہی کہا تھا مگر پولیس نے کہا کے کوڈ لکھ دیتے ہیں تو اس سے بھی کام ہو جائے گا۔ تو بس میں نے انکی بات یقین کرتے ہوئے آپ کے پاس پیپر لے آیا ہوں۔ اب آپ دیکھ لیجیے کے کیا کرنا ہے۔ بس پھر اس سی آئی اے والے نے حکیم آصف آرائیں کو بعد میں بلانے کا کہے دیا اور پھر بعد میں کہا کے جگہ نہیں ہے۔ یہ واقعہ کراچی صدر سی آئی اے کا ہے۔ اس کے بعد حکیم آصف آرائیں اپنا آٹھویں کا سرٹیفیکیٹ لیکر کراچی نیو ٹاؤن ڈی آئی جی آفس پہنچ گیا مگر ادھر بھی کام نہیں بنا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں کراچی میں نیول آفس میں پہنچ گیا مگر ادھر نیول شخص نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے صرف میٹرک تک ہونا ضروری ہے ، اور چونکہ میٹرک نہیں تھا ۔ اس پھر حکیم آصف آرائیں ڈی سی میں پہنچ گیا ، ڈی سی کے بارے میں حکیم آصف آرائیں نے سنا تھا کے نوکری نہیں بھی کھلتی ہے مگر ڈی سی رکھ لیتا ہے بمعنی نوکری آنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بس ڈی سی مہر لگاتا ہے تو کام ہوجاتا ہے۔ حکیم آصف آرائیں ڈی سی پہنچ گئے مگر ڈی سی نے بھی حکیم آصف آرائیں کو نوکری میں نہیں رکھا۔ اور ڈی سی کے دوسرے خانے میں حکیم آصف آرائیں کو بلایا گیا اور وہاں پر ایک شخص حکیم آصف آرائیں سے الجھ گیا کے تم یہاں ڈی سی پہنچ کیسے گئے ، تب حکیم آصف آرائیں اور اس شخص کے بیچ میں آپسی غصہ ہوگیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں سندھ سیکریٹریٹ میں سیکٹری کے پاس پہنچ گیا۔ سیکرٹری نے حکیم آصف آرائیں کو پانی پلایا اور بس پھر گھر بھیج دیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں سندھ کے وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں پہنچ گیا مگر وزیر اعلی ہاؤس میں کمرے کے دروازے پر بھیجنے والا نے حکیم آصف آرائیں کو روک دیا، وہاں موجود دیگر پولیس و نمائندگان سے حکیم آصف آرائیں نے الگ الگ نظریات وصول کیے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں کو ایک شخص اے جی سندھ لیکر گیا اور وہاں سے کراچی سینٹرل کے سی آئی اے دفتر میں بھیجا گیا اور وہاں بھی کام نہیں بنا ۔ چونکہ حکیم آصف آرائیں جہاں کہیں بھی جاتے تھے تو کہیں بھی کام نہیں بنتا تھا ، اور پھر حکیم آصف آرائیں نے عبد القادر جیلانی سے کہا کے اگر آپکا کوئی شخص ہے تو اسے کہو ، چونکہ عبد القادر جیلانی کی طرف سے کوئی بھی بڑے عہدے پر نہیں تھے۔ عبد القادر جیلانی جس جگہ کا بھی کہتا ہے تو وہ سب چھوٹے چھوٹے نمائندگان تھے۔ اور بس اس جگہ کام نہیں بنتا ہے۔ تب محمد نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے عبد القادر کی طرف سے کام نہیں ہوتا ہے تو اب میرا نام لینا کے محمد نے کہا ہے کے آصف کو نوکری میں رکھ لو۔ تب عبد القادر جیلانی نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے اب توں محمد کا نام لینا ۔ بس حکیم آصف آرائیں کو اپنے کام سے مطلب تھا، اور حکیم آصف آرائیں نے کہے دیا کے مجھے محمد نے بھیجا ہے اور فرمایا ہے کے مجھے نوکری میں رکھ لو، - - مگر پھر حکیم آصف آرائیں سے ایک لاکھ روپے مانگنے کی بات کہی گئی کے ایک لاکھ روپے ہو تو بس کام ہو جائے گا اور اگر ایک لاکھ نہیں بھی ہیں تو کم کرکے 50 ہزار میں کر دیں گے کیونکہ مجھے محمد نے بھیجا ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے کہے دیا کے میرے پاس پیسے نہیں ہیں، 500 یا 1000, 2000 دے دوں تو یہ سمجھ میں آتا ہے مگر 50 ہزار بھی بہت ذیادہ ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں اس جگہ سے بھی نکل گیا ۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے عبد القادر جیلانی سے کہا کے ارے یہ لوگ تو تیرا کہنا بھی نہیں مانتے ہیں اور محمد بھی اتنے یقین سے کہتا ہے تب بھی محمد کا کہنا بھی نہیں مانتے ہیں جبکہ لوگ نمازی پرہیزگار ہوتے ہیں۔ بس پھر محمد نے ایک بار مجھے غصے میں ایف آئی اے جانے کو کہا اور کہا کے جاکر کہنا کے مجھے محمد نے بھیجا ہے اور مجھے ایف آئی اے میں لگاؤ، اور اگر نہیں لگایا تو تم سب ایف آئی اے والے مر جاؤ گے۔ بس یہ اعلان عام رکھنا ہے بمعنی ایف آئی اے میں۔ حکیم آصف آرائیں ایف آئی اے میں پہنچ گیا اور سب سے کہے دیا کے مجھے محمد نے بھیجا ہے اور یہ پیغام ہے کے مجھے ایف آئی اے میں لگاؤ، اور اگر نہیں لگایا تو تم سب مر جاؤ گے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں کو اندر لیجایا گیا کے جہاں پر پبلک کوئی بھی نہیں جاتے ہیں، اور وہاں بھی ترتیب سے ٹیبل کے سامنے سب بیٹھے تھے اور حکیم آصف آرائیں سے سب نے پوچھا کے اب بتاؤ کے تمہیں محمد نے بھیجا ہے اور کیا کہا ہے ؟ تب حکیم آصف آرائیں نے سب کے سامنے کہے دیا کے مجھے محمد نے بھیجا ہے اور کہا گیا ہے کے مجھے ایف آئی اے میں لگاؤ، ورنہ تم سب مر جاؤ گے۔ تب ایک شخص نے فوراً کھڑے ہوکر کہا کے ٹھیک ہے ہم مر جائیں گے۔ میں نے بھی کہا کے ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی ۔ باقی سب لائن سے بیٹھے ہوئے شخص حکیم آصف آرائیں کی بات سن کر ڈر گئے کے جیسے کندھے اور آنکھوں کو جھٹکا پڑ گیا ہو۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں ایف آئی اے سے نکل گیا اور پھر محمد سے کہا کے دیکھ ایف آئی اے والے تو مرنے کو تیار ہیں کے وہ مر جائیں گے مگر تیری بات نہیں مانیں گے۔ بس حکیم آصف آرائیں نے اپنے آٹھویں کا ریکارڈ ختم کردیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں کے پاس اسرائیل کی طرف سے ایک فارم آگیا کے اسے فل کیا جائے ، تب حکیم آصف آرائیں نے اپنا ریکارڈ اسرائیل حکومت میں بھی جمع کروایا ۔ اس کے علاوہ حکیم آصف آرائیں نے سیاسی پارٹی میں بھی شمولیت کا ذہن بنا لیا اور سیاسی پارٹی میں نون لیگ کو چنا تھا مگر چونکہ ن لیگ حکیم آصف آرائیں کے گھر کے پاس میسر نہیں تھے۔ اور دوسرے نمبر پر حکیم آصف آرائیں نے اے این پی کو چنا مگر چونکہ اے این پی بھی قریب میں نہیں تھے، تو تیسرے نمبر پر حکیم آصف آرائیں نے پیپلز پارٹی کو چنا، کیونکہ پیپلز پارٹی حکیم آصف آرائیں کے گھر کے پاس موجود تھا۔ حکیم آصف آرائیں ایم کیو ایم میں نہیں لگے کیونکہ ایم کیو ایم میں حکیم آصف آرائیں کا بڑا بھائی خود ایم کیو ایم میں شامل تھا اور دوسری وجہ یہ تھا کے مہاجر لوگ خود حکیم آصف آرائیں کے بھرپور خلاف تھے۔ اور تیسری بات یہ تھا کے جو حکیم آصف آرائیں کا اپنا بڑا بھائی تھا تو وہ بھی حکیم آصف آرائیں کے خلاف تھا ، اور یہ بڑا بھائی سگھا نہیں تھا، حکیم آصف آرائیں کو لگا کے ایم کیو ایم بڑے بھائی کو دیکھیں گے اور مہاجروں کو دیکھیں گے تبھی میرے ذات کا ایسے پارٹی میں جانا اچھا نہیں ہے۔ اور تبھی حکیم آصف آرائیں پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ عبد القادر جیلانی کی طرف سے کہا گیا تھا کے یوسف رضا گیلانی حکیم آصف آرائیں کا کہنا مانے گا اور حکیم آصف آرائیں پیپلز پارٹی میں جاتا ہے تو ڈائریکٹ بلاول ہاؤس میں جائے اور اس کے لیے کوٹ پینٹ پہننا پڑے گا۔ مگر چونکہ بلاول ہاؤس گھر سے بہت دور تھا اور تبھی حکیم آصف آرائیں نے کہا کے حکیم آصف آرائیں ڈسٹرکٹ میں شامل ہو جائے گا اور ڈسٹرکٹ کے ذریعے جب عمر بنے گا تو بلاول ہاؤس بھی پہنچ جائے گا۔ اور حکیم آصف آرائیں سے کہا گیا کے آصف علی زرداری جب تجھسے ملے گا تو پھر تیرا کہنا مانے گا اور توں اپنا تعلق آصف علی زرداری سے رکھنا۔ چونکہ حکیم آصف آرائیں پیپلز پارٹی میں شامل ہوچکے تھے اور پیپلز پارٹی میں حکیم آصف آرائیں سے اسد علی صاحب کا اچھا بات چیت ہوگیا تھا ۔ مگر ڈسٹرکٹ کے دوسرے عہدیدار نے اعتراض کیا کے حکیم آصف آرائیں کو پیپلز پارٹی میں بالخصوص ڈسٹرکٹ میں نہیں ہونا چاہیے ، اور اسد علی کبھی کبھی آتا تھا جیسے ہفتے میں ایک بار۔ مگر حکیم آصف آرائیں سے پوچھا گیا کے آپکا مشن کیا ہے ، تب حکیم آصف آرائیں نے کہا کے میرا مشن پوری دنیا میں حق انصاف کو پھیلانا ہے، اور میرا آغاز پیپلز پارٹی ہے ، اور یہ میرا کام ہے کے میں کس طریقے سے آگے بڑھوں گا۔ بس پیپلز پارٹی کے عہدیداران نے حکیم آصف آرائیں کو پیپلز پارٹی سے نکل جانے کو کہا۔ اور بس حکیم آصف آرائیں پیپلز پارٹی سے نکل گیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے شادی ہال ، ہوٹل میں بھی کام کیے ہیں، اور کام سیکھنے کے لیے صوبہ سندھ سے پنجاب بھی جا چکے ہیں۔ پنجاب میں جس کے پاس کام سیکھنے گیا تو اس کاریگر نے بھی حکیم آصف آرائیں سے ایسی شرط لگائی کے جو بھیک مانگنے شخص آیا ہے تو اسکو دھکے دیکر بھگاؤ۔ حکیم آصف آرائیں نے ایسی شرط ماننے سے انکار کردیا کے ایسے بلا وجہ کسی کو بھی دھکے دیکر نہیں بھگایا جائے گا اور کام سکھانا ہے تو ویسے ہی سکھاؤ ۔ بس کاریگر نے حکیم آصف آرائیں کو کام سکھانے سے منع کردیا، اور حکیم آصف آرائیں نے ادھر بھی کام نہیں سیکھا ہے۔ اور جس پولیس والے نے حکیم آصف آرائیں کے پیپر میں اپنے ہاتھوں سے لکھا تھا Akar bakar bumbay bol چونکہ حکیم آصف آرائیں ایسا شخصیت ہے کے جو اپنی ہر بات تنظیمی نمائندے سے شیئر کرتا ہے۔ جب یہ والا قصہ تنظیمی نمائندے سے شیئر کیا کے سی آئی اے والے نے ایسا ایسا کیا اور پولیس تھانے میں پہنچا تو اس پولیس کیساتھ ایسی ایسی بات ہوا تھا اور اس نے یہ کوڈ لکھ دیا۔ اور اس کے بعد سی آئی اے والا گھور کر دیکھنے لگا، بتاؤ کے اس سارے ماجرے کا کیا وجہ ہے ۔ تنظیمی نمائندے نے ہنس کر کہا کے اس کوڈ کا مطلب ہے کے اس پولیس والے نے یہ لکھا ہے کے تم پاگل ہو۔ تب حکیم آصف آرائیں نے پوچھا کے اگر ایسا لکھنا تھا تو صاف لکھ دیتے کے یہ لڑکا پاگل ہے تو ایسا کیوں لکھا کے Akar bakar bumbay bol تب تنظیمی نمائندے نے کہا کے اگر صاف الفاظوں میں لکھ دیتے کے یہ لڑکا پاگل ہے تو پھر تمہیں سمجھ آجاتا، اور تبھی اس پولیس والے نے اس طرح سے لکھا ہے کے تمہیں سمجھ نہیں آئے مگر سی آئی اے والے نے دیکھا ہے تو وہ سمجھ گئے ہیں ۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں کو شدت کیساتھ غصہ آگیا۔ اور حکیم آصف آرائیں نے فرمان سنا دیا کے وہ پولیس والا کوئی ولی نہیں ہے کیونکہ اس نے حکیم آصف آرائیں کیساتھ ایسا کیا ہے اور وہ پولیس والا بھی مر جائے ۔ اور پھر وہ پولیس والا مر گیا جو کے یہ قانونی کاروائی تھا۔ بس دنیا میں حکیم آصف آرائیں بالکل تنہاء رہتے تھے اور کوئی بھی حکیم آصف آرائیں کا دوست نہیں تھے اور کوئی بھی دوست نہیں بنتے تھے، - - کوئی عارضی دوست بن جاتے تھے مگر ایسا صرف ایک ہی دوست ہے کے جو حکیم آصف آرائیں کے پورے بچپن میں دوست رہا ہو اور حکیم آصف آرائیں کیساتھ بھی رہا ہو۔ حکیم آصف آرائیں، چونکہ اپنے بچپن سے بہت طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا رہے ہیں اور ہر طرح کی بیماریوں کا سامنا کرچکے ہیں اور ہر طرح کی بیماری کا تجربہ کرچکے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں ایسا شخصیت ہے کے جو کچھ بھی نہیں بھولتا، اگرچہ حکیم آصف آرائیں دو سال کا بچہ ہو۔ اگر کسی نے بھی بیس یا پچیس سال بعد بھی آکر حکیم آصف آرائیں سے پرانی سے پرانی بات کا بھی ذکر کر دیا اور ساتھ میں وہ بات بھی یاد دلا دی اور کہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے اور حکیم آصف آرائیں نے کیا کام کیا تھا، بس یہ بنیادی بات کہیں گے تو حکیم آصف آرائیں سب کچھ پرانے سے پرانی ہسٹری میں فورآ پہنچ جائیں گے۔ مگر واقعہ ایسے ثابت کریں کے جو پوری زندگی کے ہر واقعے سے الگ ہو اور صرف وہی ایک واقعہ ہو، تو حکیم آصف آرائیں بہت آسانی کیساتھ اس واقعے پر پہنچ جائیں گے۔ بمعنی حکیم آصف آرائیں پیٹرن کے حساب سے واقعے کو فوراً سرچ کرلیتے ہیں، اگرچہ وہ کسی بھی دور کی بات ہو یا کسی بھی جگہ کی بات ہو، یا راہ گزر میں ایسا واقعہ ہو کے جو انسان بھول جاتا ہے مگر اگر اس واقعے کو بھی پیٹرن کے مطابق پیش کریں گے تو حکیم آصف آرائیں سیکنڈوں میں اس واقعے تک پہنچ جائے گا ۔ حکیم آصف آرائیں اپنے بچپن میں زمینوں پر سیکورٹی کا کام بھی کر چکا ہے، اور تجارت کا کام بھی کرچکا ہے۔ ایک بار حکیم آصف آرائیں کو دوسرے کارخانہ میں لگایا گیا۔ وہ کارخانہ ایسا تھا کے جس میں بہت آئل تھا، کام بہت بھاری تھا چونکہ حکیم آصف آرائیں خود بھی بہت کمزور اور سوکھے تھے مگر جاندار تھے ۔ دور دراز کا سفر پیدل کرسکتے تھے، دس میل کا سفر بھی کرنا حکیم آصف آرائیں کے لیے کوئی ایسا نہیں تھا کے حکیم آصف آرائیں نہیں کرسکتے۔ حکیم آصف آرائیں کو اس کارخانہ میں بھی ہیلپر کے طور پر رکھا گیا۔ چونکہ حکیم آصف آرائیں جیسے ہی پہلی مرتبہ اس کارخانہ میں جیسے ہی پہلا قدم رکھتے ہیں تو اس کارخانہ کا سپر وائزر حکیم آصف آرائیں کا دوست بن جاتا ہے، اور دعویٰ کرتا ہے کے جیسے حکیم آصف آرائیں کو جانتا ہو۔ اور حکیم آصف آرائیں بھی اس بات سے مطمئین ہوگیا کے چلو اس کارخانہ میں حکیم آصف آرائیں کا سپر وائزر کے کیساتھ لڑائی نہیں ہوگا اور حکیم آصف آرائیں سکون سے کام کرسکتا ہے۔ حکیم آصف آرائیں ہیلپر کے طور پر کام کرتے تھے، مگر اس کارخانہ کا کاریگر، اور چوکیدار حکیم آصف آرائیں سے الجھتے تھے، بمعنی جیسے ہیلپر سمجھتے ہو تو ہیلپر کی طرح دبا کر رکھتے ہو۔ حکیم آصف آرائیں نے سپر وائزر سے کہے دیا کے اپنے کاریگر کو سنبھال کر رکھو کے میرے ساتھ نہیں الجھا کرے ۔ سپر وائزر حکیم آصف آرائیں کا کہنا مانتا تھا، اور سپر وائزر اس کارخانہ کے سیٹھ کا چچا زاد بھائی تھا۔ سپر وائزر اور حکیم آصف آرائیں کا بہت آپس میں بہت بنتا تھا، اور نیچے کے تمام معاملات کو سپر وائزر خود ہینڈل کر لیتا تھا کے کوئی بھی حکیم آصف آرائیں سے نہیں لڑے۔ اور حکیم آصف آرائیں سکون کیساتھ اپنا کام کرتا تھا ۔ مگر چونکہ کارخانہ میں سب مزدوروں کے لیے کولر میں پینے کا پانی ہوتا تھا جس سے سب مزدور پانی پیتے تھے ۔ مگر حکیم آصف آرائیں اس کولر سے پانی نہیں پیتا تھا کیونکہ حکیم آصف آرائیں کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے کے اگر تھوڑا سا بھی راس نہیں آنے والا چیز کھایا یا پیا تو حکیم آصف آرائیں کا طبیعت خراب ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے حکیم آصف آرائیں کارخانہ کے آفس سے سیٹھ کا فلٹر کیا ہوا پانی پیتا تھا ۔ جب بھی حکیم آصف آرائیں کو پانی پینا ہوتا تھا تو سیٹھ کے آفس میں جاتا تھا اور فلٹر کیا ہوا ٹھنڈا پانی پیتا تھا۔ سیٹھ کے آفس کا فلٹر کیا ہوا پانی مخصوص شخصیات پیتے تھے جیسے خود سیٹھ، سیٹھ کا بھائی اور آفس میں آنے والے مہمان اور سیٹھ کا چچا زاد بھائی جو سپر وائزر ہے تو یہی آفس کا فلٹر کیا ہوا پانی پیتے تھے ۔ ان فہرست میں حکیم آصف آرائیں بھی شامل ہوگیا۔ کاریگر اعتراض کرتے کے آفس کا پانی نہیں پیو مگر حکیم آصف آرائیں کاریگروں کی بات نہیں مانتا ہے۔ اور سپر وائزر منع نہیں کرتا ہے، اور سیٹھ کا بھائی بھی منع نہیں کرتا ہے۔ مگر ایک بار ایسا ہوا کے حکیم آصف آرائیں کو پیاس لگا اور حکیم آصف آرائیں ڈائریکٹ آفس میں چلا گیا اور آفس میں سیٹھ بھی موجود تھا اور کچھ مہمان تھے مگر حکیم آصف آرائیں اپنے کام سے کام رکھتا ہے ، بمعنی پانی پینے گیا اور پانی پی کر نکل جاتا ہے مگر ایک بار حکیم آصف آرائیں جیسے ہی آفس کے اندر پانی پینے گیا تو سیٹھ نے غصے کا مظاہرہ کیا کے تمہیں آفس کا پانی نہیں پینا ہے اور تمہارے لیے باہر کا مزدوروں والا پانی ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں پر غصہ کیا تو حکیم آصف آرائیں بھی غصے سے آفس سے باہر نکل گیا اور حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ سے غصے میں کہا کے جا تمہارا پانی ہم نہیں پیتے۔ اور ہم پانی مزدور والا بھی نہیں پیئیں گے، بلکہ ہم کارخانہ سے باہر نکل کر دور ہوٹل میں جاکر ہوٹل سے اچھا والا پانی پیئیں گے ۔ اور بس حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ کا آفس چھوڑ دیا ۔ اور پھر چوکیدار حکیم آصف آرائیں پر غصہ کرتا تھا ، چوکیدار کو پتا تھا کے حکیم آصف آرائیں لڑ نہیں سکتا ہے، کمزور لاغر بے بس انسان بچہ ہے۔ بس ایک بار چوکیدار نے حکیم آصف آرائیں کو زور دار تھپڑ مار دیا، اور چوکیدار طاقت میں بھی ذیادہ تھا۔ حکیم آصف آرائیں اس چوکیدار سے لڑ تو نہیں سکتا تھا تبھی حکیم آصف آرائیں نے اس چوکیدار کو غصے میں کہے دیا کے جس ہاتھ سے تم نے مارا ہے تو یہ ہاتھ ٹوٹ جائے ۔ بس جیسے یہی حکیم آصف آرائیں کا بدلہ تھا۔ اور وہ چوکیدار باہر گیا تو اسکا ہاتھ واقعی میں ٹوٹ گیا ایک حادثے کی طرح۔ اور سیٹھ کا کارخانہ سب ختم ہوگیا۔ اور پھر سپر وائزر نے سیٹھ سے کہا کے حکیم آصف آرائیں کیساتھ مل جاؤ۔ اور سیٹھ حکیم آصف آرائیں کو اپنے اکیلے میں بلانے لگ گیا مگر حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ کو منع کردیا کے ہم بات نہیں کرتے ہیں۔ بس سیٹھ حکیم آصف آرائیں کی منتیں کرنے لگ گیا مگر حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ کے منتیں کرنے کو رد کر دیا ۔ تب سیٹھ نے کہا کے میں خود اپنے ہاتھوں سے تجھے آفس کا پانی پلاؤں گا، اور جب بھی آنا ہو تو آفس میں ہی آکر پانی پینا۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے سیٹھ کی بات مان گیا ۔ اور پھر سیٹھ سے کہا کے اب بتاؤ کے تمہیں کیا کام ہے مجھسے ،، بس سیٹھ نے اپنے کام وغیرہ کی پریشانیاں حکیم آصف آرائیں کے پاس پیش کردی کے یہ سب خراب ہے تو یہ صحیح ہو جائے اور کوئی حساب کرو۔ حکیم آصف آرائیں نے کہا کے میں کوئی عامل بابا وغیرہ نہیں ہوں کے مجھسے ایسی باتیں شیئر کرتے ہو۔ مگر سیٹھ حکیم آصف آرائیں کی منتیں کر رہا تھا۔ تب حکیم آصف آرائیں نے اپنا ایکٹنگ شروع کردیا کے جو مجھے بابا سمجھتے ہیں تو میں جھوٹ موٹ کا بابا ہی بن جاتا ہوں۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں بابا کا روپ دھار کر سیٹھ کی باتیں سننے لگ گیا اور بابا بن کر کچھ نا کچھ دلیلیں دینا شروع کردیا۔ تاکے سیٹھ سمجھ لے کے حکیم آصف آرائیں نے اپنی طرف سے کچھ نا کچھ کہے دیا ہے ۔ - - اور سیٹھ بھی حکیم آصف آرائیں کی طرف ہوگیا اور پھر چوکیدار بھی حکیم آصف آرائیں کی طرف ہوگیا ۔ اور ایک کاریگر ایسا تھا کے جو سب لوگوں کو کہتا تھا کے حکیم آصف آرائیں بیوقوف بناتا ہے ، اور کوئی بھی حکیم آصف آرائیں کی باتوں میں نہیں آئے، مگر سیٹھ، سپر وائزر اور چوکیدار پھر کوئی بھی اس کاریگر کے کہنے پر نہیں آتے تھے اور سب حکیم آصف آرائیں کی طرف تھے۔ اور پھر اس کاریگر نے حکیم آصف آرائیں کی تصویر اپنے موبائل سے کھینچا اور پھر اس تصویر کیساتھ بنا کپڑوں کی ایک لڑکی کو فٹ کردیا ۔ اس کاریگر نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے اب وہ خود حکیم آصف آرائیں کو ایکسپوز کرے گا اور سب لوگوں کو حکیم آصف آرائیں کے خلاف کردے گا۔ جب اس کاریگر نے وہ تصویر حکیم آصف آرائیں کو اپنے ہاتھوں سے دکھایا تو حکیم آصف آرائیں دیکھ کر حیران ہوگیا کے تم ایسا بھی تصویر بنا سکتے ہو، بمعنی ٹیکنالوجی کہاں سے کہاں تک پہنچ گئی ہے اور سب سے حیرانگی کی بات یہ ہے کے یہ کام تمہیں بھی آتا ہے، بمعنی جیسے حکیم آصف آرائیں کی نظر میں یہ واقعی میں بڑا اور ہنر کی طرح کام ہے۔ ایسا گمان اس لیے پیدا ہوتا ہے کیونکہ حکیم آصف آرائیں خود ایسا نہیں کرسکتا ہے اور دوسرے لوگوں سے بھی ایسا نہیں دیکھا ہے بلکہ حکیم آصف آرائیں سمجھتا تھا کے جو کمپیوٹر میں بڑے بڑے کام کرتے ہیں تو صرف وہی ایسا کرسکتے ہیں مگر یہاں تجربہ یہ ہے کے ایک موبائل فون رکھنے والا بھی یہ کام کرسکتا ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں کی نظر میں یہ انوکھی بات تھی۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اس کاریگر سے کہا کے اب یہ تصویر ڈیلیٹ کر دو۔ مگر وہ کاریگر حکیم آصف آرائیں سے ضد کرتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کے میں ڈیلیٹ نہیں کروں گا اور حکیم آصف آرائیں کو ایکسپوز کرے گا ۔ حکیم آصف آرائیں نے اس کاریگر سے کہا کے دیکھو میرے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرو۔ مگر وہ کاریگر ہنس رہا ہے اور کہتا ہے کے یہ تصویر پورے محلے میں اور ہمارے گھر والوں سب کو دکھائے گا کے دیکھو حکیم آصف آرائیں کیسے کیسے کام کرتا ہے۔ اور وہ کاریگر وہ تصویر کارخانہ میں سب کو دکھا رہا ہے، اور سب ہنس رہے ہیں۔ مگر کوئی بھی حکیم آصف آرائیں کو برا نہیں ٹہرا رہے ہیں ۔ حکیم آصف آرائیں نے پھر سے کہا کے دیکھو میرے ساتھ ایسا مذاق نہیں کرو ، اگر مجھے تنگ کرتے ہو تو بس بتا دو اور تصویر کو یہیں ڈیلیٹ کر دو۔ مگر کاریگر نے حقیقت میں کہے دیا کے سب جگہ دکھائیں گے اور ڈیلیٹ نہیں کریں گے ، کارخانہ کے اندر دکھایا، اب باہر بھی دکھائیں گے اور گھر والوں کو بھی دکھائیں گے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے کہے دیا کے پکی بات ہے اور یہ کوئی مذاق تو نہیں ہے ، پکا دکھاؤ گے ؟ اور کاریگر نے کہا کے ہاں ، پکا دکھائیں گے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے کہا کے تم یہ تصویر ڈیلیٹ نہیں کرتے ہو تو نہیں کرو اور یہ تمہارا موبائل فون بھی نہیں رہے گا۔ بس کاریگر حکیم آصف آرائیں کے کہنے کا مذاق اڑا رہا ہے کے دیکھو اب میرے موبائل فون کا بھی کہے رہا ہے جبکہ موبائل فون خود کاریگر کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اور باقی دوسرے تمام کارخانہ کے افراد اس کاریگر سے کہتے ہیں کے اب تمہارا موبائل فون نہیں بچے گا۔ اور حکیم آصف آرائیں دیکھتا ہے کے باقی تمام افراد اتنے یقین سے کہے رہے ہیں کے جیسے 100 فیصد ہی مہر لگ چکا ہو۔ بس یہ بات اس ایک کاریگر اور اس کارخانہ کے دوسرے تمام افراد کی بات ہے۔ مگر بس حکیم آصف آرائیں جب دوسرے دن کارخانہ میں جیسے ہی داخل ہوا تو کارخانہ میں شور مچ گیا کے اس کاریگر کا موبائل فون چوری ہوگیا ہے۔ اور وہ کاریگر خود حکیم آصف آرائیں سے الجھنے لگ گیا کے تم نے ہی میرا موبائل فون چوری کروایا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں کہتا ہے کے مجھے یہی نہیں پتا کے کہاں سے چوری ہوا ہے۔ اور میں نے چوری نہیں کروایا۔ مگر وہ کاریگر کہتا ہے کے مجھے موبائل فون چاہیے اور اگر موبائل فون نہیں ملا تو پھر یہ پولیس کیس ہوگا کے موبائل فون حکیم آصف آرائیں نے ہی چوری کروایا ہے۔ اب چونکہ یہاں سے بات پولیس معاملے پر داخل ہوگیا ہے اس کاریگر نے الزام لگایا کے اسکا موبائل فون حکیم آصف آرائیں نے چوری کیا ہے یا کروایا ہے کیونکہ ایک دن پہلے حکیم آصف آرائیں نے کہا تھا کے موبائل فون نہیں رہے گا اور اب موبائل فون نہیں ہے۔ بس یہ معاملات بڑھ گئے، حکیم آصف آرائیں نے بھی دیکھا کے کون کونسے مسئلے مسائل کھڑے ہوکر آجاتے ہیں ۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں پر ایک ایف آئی آر بھی درج کروایا گیا اغواء کے نام پر۔ اور مختلف ایف آئی آر بنتے رہے۔ چونکہ ایک طرف اس کاریگر کی طرف سے تھا اور دوسری طرف ہماری طرف سے بھی ہوگیا ۔ ایسے معاملات میں پولیس کا کہنا تھا کے حکیم آصف آرائیں کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ اور پھر چونکہ عام لوگ بھی حکیم آصف آرائیں کو کوئی پاگل کہتے اور کوئی باؤلہ کہتے اور کوئی بہت شریف کہتے ۔ بس ایسے معاملات میں حکیم آصف آرائیں کے ابو نے فیصلہ کیا کے چلو لوگ بھی ایسا کہتے ہیں تو اب اسی کیس کے بہانے دیکھ لیتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں کا دماغ کیسا ہے ۔ اور دنیا بھی کوئی کیا کہتے ہیں اور کوئی کیا کہتے ہیں۔ سکول کا پروفیسر بھی حکیم آصف آرائیں کو ایسا ہی ٹہراتا کے ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں کو شہر کراچی کے بڑے نفسیاتی ہسپتال میں لیکر جایا گیا ۔ اور نفسیاتی ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں کو گنتی پڑہنے کو کہا اور حکیم آصف آرائیں کا دماغ چیک کر رہے ہیں۔ کبھی کس طرف دیکھنے کو کہتے ہیں اور مختلف نام پوچھتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں جو کے ڈاکٹر کے طریقے کار کہنے سے ہنس رہے ہیں۔ ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں سے پوچھا کے تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ حکیم آصف آرائیں نے جواب دیا کے میں صرف تمہارا دماغ دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔ بس پھر وہ ڈاکٹر بڑے ڈاکٹر کو لیکر آگئے۔ اور پھر بڑے ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں سے مختلف سوالات کیے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے ڈاکٹر کے مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔ اور حکیم آصف آرائیں ہنس رہا تھا ۔ بس پھر ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں کو دیکھ کر ایسا ہوگیا کے جیسے ڈاکٹر بہت شدت سے ڈر گیا ہو، یا جیسے پریشانی کے عالم میں دیواروں پر ٹکریں مارنے پر آمادہ ہوگیا ہو، بمعنی ملی جلی بات ہے۔ حکیم آصف آرائیں کے سامنے ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں کے ابو سے کہا کے حکیم آصف آرائیں کا دماغ بالکل صحیح ہے اور ایسا بالکل بھی نہیں ہے کے ذہنی توازن درست نہیں ہے بلکہ حکیم آصف آرائیں کا دماغ ایسا ہے کے پورے ملک کے ڈاکٹر اور ایجنسیاں بھی ملکر حکیم آصف آرائیں کے دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہیں ۔ اور ایک پریشانی کا اظہار کرتے ہیں کے اسکا دماغ ایسا ہے کے جو کنٹرول میں بھی نہیں آتا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں کے ابو سے کہتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں کو ایسا نہیں بتانا کیونکہ پھر حکیم آصف آرائیں کو پتا چل جائے گا۔ جبکہ حکیم آصف آرائیں خود سن رہا ہے مگر ڈاکٹر سمجھتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں نہیں سن رہا ہے۔ بمعنی حکیم آصف آرائیں کے پورے ذہنیت کا اندازہ ڈاکٹر بھی نہیں لگا سکے ہیں ۔ اور حکیم آصف آرائیں ہنس رہا ہے۔ - - ہنسنے کے معاملے پر ڈاکٹر کا کہنا ہے کے حکیم آصف آرائیں کا دماغ سوئی کے نقطے کی طرح ہلکا سا ہلا ہوا ہے مگر پھر بھی حکیم آصف آرائیں کا دماغ پورے پاکستان کے ڈاکٹرز اور ایجنسیوں سے بھی بڑا ہے، اور ہم حقیقت میں نہیں سمجھ سکتے ہیں کے یہ کیسا ہے اور کہا جاتا ہے کے حکیم آصف آرائیں کی طرح دنیا میں کہیں کہیں کوئی کوئی ہوتے ہیں۔ بس حکیم آصف آرائیں کا ابو ڈاکٹر سے سن کر سنتا رہے گیا کے دنیا کوئی باؤلہ کہتی ہے اور کوئی پاگل کہتی ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کے اسکا دماغ ہمارے سے بھی اوپر ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں خود ڈاکٹر کی بات ہوا میں اڑاتے تھے کے ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں کو کیا سے کیا سمجھتا ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں کے بارے میں پولیس بھی سن کر سکتے میں رہے گئی کے جیسے ڈاکٹر کیا کہے رہا ہے۔ مگر چونکہ حکیم آصف آرائیں بچہ تھا اور حکیم آصف آرائیں نے ڈاکٹر کی بات کو بھی پرکھ لیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں اس کارخانہ میں جب بھی جاتا تو سیٹھ صاحب حکیم آصف آرائیں کے لیے سپیشل باہر سے شربت منگواتے کے حکیم آصف آرائیں آیا ہے تو اسے شربت پلاؤ۔ بس حکیم آصف آرائیں خود سکتے میں آ گئے کے سب حکیم آصف آرائیں کے آگے جھک کر ملتے ہیں جبکہ حکیم آصف آرائیں بچہ ہے۔ حکیم آصف آرائیں جب چھوٹا بچہ تھا تب حکیم آصف آرائیں بہت ڈرتا تھا، حکیم آصف آرائیں نے کوئی عالم نہیں بنے اور کوئی قرآن حفظ بھی نہیں کیا ہے اور سکول کی تعلیم بھی حاصل نہیں کیا ہے، اور دنیا کا کوئی ہنر بھی حاصل نہیں کیا ہے، اور مالی طور پر بھی حکیم آصف آرائیں غریب تھے۔ جس کے پاس صرف اپنا پہنا ہوا لباس تھا اور ایک چپل تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں۔ اور حکیم آصف آرائیں نے دنیا بھی نہیں گھوما تھا۔ اور نہ دنیا کے بارے میں کچھ پتا تھا ۔ حکیم آصف آرائیں نے سلسلہ طریقت کو بھی جوائن کیا اور آخر کار پھر اس سے بھی باہر نکل گیا ۔ اور اپنی الگ زندگی بنایا۔ حکیم آصف آرائیں ایسا شخصیت ہے کے زندگی میں کبھی حکیم آصف آرائیں سفید عمامہ باندھتا تھا ۔ اور حکیم آصف آرائیں کو کوئی مولوی گستاخ رسول کہتے ۔ اور گلیوں میں شور مچاتے کے دیکھو دیکھو گستاخ رسول گزر رہا ہے ۔ اور حکیم آصف آرائیں ان مولویوں کے کہنے کو رد کرتا اور حکیم آصف آرائیں بھی کہتا کے یہ خود گستاخ رسول ہے۔ بس لوگ دیکھتے کے مولوی حکیم آصف آرائیں کو گستاخ رسول کہتا ہے اور حکیم آصف آرائیں بھی اس مولوی کو گستاخ رسول کہتا ہے۔ پلس حکیم آصف آرائیں نے اس مولوی کو منافق بھی کہے دیا۔ وہ مولوی حکیم آصف آرائیں کو گلی محلے میں مشہور کرتا اور جو بھی کوئی ملتے تو ان سے کہتا کے حکیم آصف آرائیں گستاخ رسول ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں بھی کہتا کے وہ مولوی ایسے ہی کہتا ہے اور یہ خود منافق ہے۔ بس پھر وہ مولوی جس مسجد کا مولوی تھا تو حکیم آصف آرائیں نے رمضان کے موقع پر اس مسجد کے باہر چاکنگ سے لکھ دیا کے جو کوئی بھی اس مسجد میں اعتکاف کرے گا تو اسکا اعتکاف نہیں ہوگا۔ حکیم آصف آرائیں چاہتا تو منہ سے بھی کہے سکتا تھا مگر حکیم آصف آرائیں سمجھتا تھا کے کوئی سائل ایسا نہ ہو کے جو کہے کے ہمیں پتا ہی نہیں تھا کے اس مسجد میں اعتکاف نہیں ہوگا اور انہوں نے اعتکاف کرلیا۔ اور تبھی حکیم آصف آرائیں نے مسجد کے باہر لکھ دیا کے جو کوئی بھی لوگ اس مسجد میں اعتکاف کریں گے تو انکا اعتکاف نہیں ہوگا۔ اور پھر لوگوں کی اپنی مرضی ہے کے اس مسجد میں اعتکاف کریں یا نہیں کریں ، بمعنی حکیم آصف آرائیں کو رد کر کے اعتکاف کرتے ہیں تو حکیم آصف آرائیں کو انکا کوئی پرواہ نہیں ہے اور عبد القادر جیلانی اور محمد نے بھی میرے اس فیصلے کو قبول کرلیا۔ بس جو کوئی بھی میرے منع کرنے پر بھی اعتکاف کرتے ہیں تو وہ انکا اپنا مرضی ہے، اس مولوی نے اعتراض کیا اور اس مولوی نے ایم کیو ایم تنظیم کا ایک رکن عہدے دار لیکر آگیا کے دیکھو حکیم آصف آرائیں نے مسجد سے باہر کیا لکھا ہے کے اعتکاف نہیں ہوگا، تب حکیم آصف آرائیں نے کہا کے ہاں جو کہے دیا سو کہے دیا اور اب لوگوں کی اپنی مرضی ہے۔ بس اسی طرح اسی مسجد میں ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا کے جو مؤذن تھا اور پہلے حکیم آصف آرائیں کیساتھ صحیح رہتا تھا مگر بعد میں حکیم آصف آرائیں کا مذاق اڑانے لگ گیا اور حکیم آصف آرائیں کو محلے میں جعلی بابا کے نام سے شور مچاتا تھا۔ حکیم آصف آرائیں اسے سمجھاتا تھا کے میرے ساتھ ایسا کھیل نہیں کھیلا کرو، اور میں نے تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑا ہے، میں جانتا ہوں کے تم نمازی عبادت گزار ہو اور میرے ساتھ پہلے صحیح رہتے تھے مگر اب میرا مذاق نہیں اڑایا کرو۔ مگر وہ شخص حکیم آصف آرائیں سے کہتا تھا کے میں تمہیں ایکسپوز کروں گا اور تم جعلی بابا ہو۔ حکیم آصف آرائیں اسے اکثریت میں سمجھاتا رہتا کے میرے ساتھ نہیں الجھا کرو، اور لوگوں کے آگے میری بیستی ایسے نہیں کیا کرو۔ مگر وہ مانتا نہیں تھا اور دوسرے لوگوں کے سامنے بھی حکیم آصف آرائیں کا مذاق اڑاتا اور خوب ٹھٹے مار کر ہنستا تھا۔ بس ایک بار حکیم آصف آرائیں نے اس بوڑھے نمازی عبادت گزار شخص سے کہے دیا کے دیکھو اگر میرے ساتھ مقابلہ لگانا ہے تو پھر تہیہ کرلو، ہار نہیں ماننا ہے اور ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ اور یہاں تک کے آخرت قیامت تک بھی تمہارا اور میرا اختلاف رہے گا اور مقابلہ جاری رہے گا ۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کر لو۔ بس اس مولوی نے کہا کے ٹھیک ہے قیامت تک حکیم آصف آرائیں سے مقابلہ جاری رہے گا اور کبھی بھی ہار نہیں مانے گا۔ بس پھر اس شخص نے حکیم آصف آرائیں سے وعدہ کرلیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اس شخص سے کہے دیا کے اب جا جس کسی کے سامنے بھی میری برائی کرتا ہے تو کر اور میں منع نہیں کروں گا۔ اب میرے طرف سے کھلی آزادی ہے۔ اور پھر اس شخص نے اپنی آزادی کو تسلیم کیا کے ہاں اب میری آزادی ہے اور اب حکیم آصف آرائیں منع نہیں کرے گا۔ بس پھر کچھ عرصے کے بعد وہی شخص ایکسیڈنٹ میں مارا گیا اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اللہ جل جلالہ سے کہا کے اب اسے جہنم میں بھیج دے ۔ اور یہ جہنم میں جائے۔ مگر پھر عبد القادر جیلانی کی طرف سے کہا گیا کے اس شخص کے لیے جہنم ہی تھا مگر اس جہنم کے بدلے اسکی موت وقت سے جلدی آگئی ہے اور اسی وجہ سے اسے جنت میں ڈالا جا رہا ہے۔ حکیم آصف آرائیں کے پاس وہ شخص کی روح آگئی اور حکیم آصف آرائیں کے آگے جھک گئی اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اس شخص کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا اور پھر اسے معاف کردیا کیونکہ اسکی موت جلدی آگئی۔ حکیم آصف آرائیں ایسا شخصیت ہے کے حکیم آصف آرائیں کا اپنے بچپن میں علامہ ، مفتی اور پاسٹر سے بھی علمی عقیدے پر مناظرہ ہوچکا ہے اور حکیم آصف آرائیں اپنی زندگی میں ایک بار بھی نہیں ہارا ہے بلکہ یا تو دوسرے مناظرہ کرنے والے حکیم آصف آرائیں کی طرف ہوجاتے اور اگر کوئی نہیں بھی ہوتے تو انکے ماننے والے حکیم آصف آرائیں کی طرف ہوجاتے۔ حکیم آصف آرائیں جو اپنے بچپن سے مختلف بیماریوں کا شکار رہتے ، کمزور لاغر اور ڈرپوک ۔ مگر کبھی بھی حق کے خلاف نہیں گیا ہے، اگرچہ کیسا بھی قربانی دینا پڑے۔ - - حکیم آصف آرائیں، چونکہ اپنے بچپن سے طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا رہے تھے اور ہر طرح کی بیماریوں کا سامنا کر رہے تھے، اور ہر طرح کی بیماری تجربہ کررہے تھے۔ حکیم آصف آرائیں نے اپنے ابو سے بچپن میں سنا تھا کے ایسا بھی انجیکشن ہوتا ہے کے اگر ڈاکٹر انجیکشن لگاتے ہیں تو بندہ ایک سال کے بعد مر جاتا ہے۔ چونکہ یہ خبر حکیم آصف آرائیں کے ابو کو اپنے صوبہ پنجاب سے پتا چلا تھا ۔ اور حکیم آصف آرائیں کے ابو نے یہ بات حکیم آصف آرائیں کیساتھ بھی شیئر کر دیا ۔ اور اس انجیکشن کا علم ڈاکٹر ہی رکھتے ہیں کے وہ کونسا انجیکشن ہوتا ہے بمعنی اسکا نام کیا ہے۔ حکیم آصف آرائیں کو کے مختلف بیماریوں کے تجربے کرتے تھے ، جب حکیم آصف آرائیں نے اپنے ابو سے ایسا سنا تو حکیم آصف آرائیں نے فیصلہ کرلیا کے حکیم آصف آرائیں اس انجیکشن کے بھی معاملات میں مکمل کھوج لگائے گا اور ہر بات پتا کرے گا۔ اور پھر بعد کی کہانی ہے کے کیا کرنا ہے مگر پہلے معلومات لے گا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے فیصلہ کرلیا کے حکیم آصف آرائیں خود اپنی ذات کو بھی ایسا انجیکشن لگوائے گا، کیونکہ دوسرے کسی کو لگ جاتا ہے تو وہ مر جاتے ہیں مگر حکیم آصف آرائیں کو لگے گا تو حکیم آصف آرائیں اس کی مکمل طے تک چلا جائے گا۔ حکیم آصف آرائیں کو رپورٹ ملا کے حکیم آصف آرائیں نے دنیا میں ہر بیماری کا تجربہ کرلیا ہے اور صرف ایک انجکشن والا تجربہ رہے گیا ہے ۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے دعا کیا کے مجھے بھی یہ انجیکشن لگایا جائے تاکے میں دنیا کی ہر تکلیف کو سمجھ سکوں ۔ اور پھر ایک وقت ایسا آیا کے حکیم آصف آرائیں کسی ڈاکٹر کے کلینک میں گیا اور عرض کیا کے میرے پیٹ میں درد ہے اور ہچکی لگی ہوئی ہے اسکا علاج کرنا ہے۔ ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں کو دیکھ کر بالکل ایسا ہوگیا کے جیسے رو رہا ہو۔ اور چہرا لال ہوگیا ہو اور سیریس ہوگیا ہو۔ ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں سے پوچھا کے تم اتنے کمزور لاغر بچپن سے ہو تب حکیم آصف آرائیں نے جواب دیا کے جی ہاں یہ میرا بچپن سے ہے اور میں شروع سے ایسا ہوں مگر بس میرے پیٹ کا علاج کردیجیے ۔ اس ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے تمہاری بیماری بہت بڑی ہے اور تم نہیں بچو گے مگر میں پھر بھی تمہیں ٹھیک ہونے کا دوا دے دیتا ہوں۔ حکیم آصف آرائیں نے اس ڈاکٹر کے پاس منظر کو دیکھ کر سمجھ گیا کے حکیم آصف آرائیں کا وہ وقت آگیا ہے کے جس وقت کا حکیم آصف آرائیں نے کہا تھا کے مجھے بھی وہی انجکشن لگے۔ اور پھر ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں کو کلینک میں چار پائی پر پنکھے کے نیچے لٹا دیا اور پنکھا چلا دیا تاکے حکیم آصف آرائیں آرام کرے۔ مگر حکیم آصف آرائیں دیکھتا ہے کے ڈاکٹر بہت گھبرایا ہوا ہے اور ڈاکٹر کا چہرا پسینے سے بھر گیا ہے، اور ڈاکٹر اپنا کمرہ چھوڑ کر حکیم آصف آرائیں کی طرف آکر نگرانی کر رہا ہے کے کوئی بھی شخص حکیم آصف آرائیں کی طرف نہیں آئے۔ جیسے نرسیں ہوتی ہیں اور کلینک میں دوسرے کام کرنے والے ہوتے ہیں تو سب کو حکیم آصف آرائیں سے دور کردیا اور ڈاکٹر خود سیکورٹی بن گیا ۔ حکیم آصف آرائیں نے ڈاکٹر کو دیکھا تھا کے کمرے میں بیٹھ کر فون کر رہا تھا مگر پھر باہر نکل کر حکیم آصف آرائیں کی سیکورٹی بن گیا اور بڑے بے چینی سے انتظار کر رہا ہے کے بندہ ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔ بس ڈاکٹر کے اس حالات کو دیکھتے ہوئے حکیم آصف آرائیں یہ سمجھ گیا ہے یہ کلینک پر نہیں رکھتے ہیں۔ مگر حکیم آصف آرائیں چپ رہے کر سارا نظام دیکھ رہا ہے۔ ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں کے ارد گرد گھوم رہا ہے بمعنی قریب آگیا ہے ایسے جگہ پر کھڑا ہوگیا ہے کے کوئی دوسرا انسان نہیں آجائے۔ اور ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں کو گھور گھور کر دیکھ رہا ہے کے جیسے ڈر رہا ہو یا گھبرا رہا ہو۔ یا ملی جلی بات ہو ۔ ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں سے کہا ہے سو جاؤ ، مگر حکیم آصف آرائیں جیسے ہی آنکھیں بند کرتا تو فوراً حکیم آصف آرائیں کی آنکھیں کھل جاتی کیونکہ پنکھا چل رہا تھا اور وہ بہت تیز تھا ، سردی لگ رہی تھی۔ ڈاکٹر پریشان ہو رہا ہے اور کہتا ہے کے سو جاؤ۔ جب حکیم آصف آرائیں نے ڈاکٹر سے کہا کے میں نہیں سو سکتا ہوں کیونکہ پنکھا چل رہا ہے اور مجھے سردی لگ رہی ہے۔ تو بس ڈاکٹر نے فوراً دوسرے سے کہا کے پنکھا بند کر دو۔ اور جیسے ہی پنکھا بند کیا تو ویسے ہی حکیم آصف آرائیں کی آنکھیں فوراً بند ہوگئی اور حکیم آصف آرائیں گہری نیند میں چلا گیا ۔ اور جب وہ لڑکا جو انجکشن لیکر آتا ہے بمعنی جسے سپلائیر کہتے ہیں تو وہ لڑکا جیسے ہی کلینک میں پہنچا تو حکیم آصف آرائیں کی آنکھیں خودبخود کھل گئیں۔ مگر حکیم آصف آرائیں میں اتنی ہمت نہیں تھی کے ہل سکے، اور بس آنکھیں کھل گئیں ، حکیم آصف آرائیں نے دیکھا کے وہ بندہ بائیک پر آیا ہے اور سیدھا حکیم آصف آرائیں کے پاس آ رہا ہے اور حکیم آصف آرائیں کے پاس اوپر ڈرپ لگی ہوئی ہے چھوٹی سی ڈرپ۔ جس میں وہ لڑکا انجکشن ڈال دیتا ہے، حکیم آصف آرائیں دیکھتا ہے کے وہ دوا جو انجیکشن کے اندر ہے تو وہ پیلے رنگ کا ہے۔ اور وہ لڑکا بھی نو عمر لگتا ہے بمعنی آدمی نہیں ہے بلکہ لڑکا ہے، بس جیسے ہی اس لڑکے نے انجیکشن ڈرپ میں ڈالا اور انجیکشن نکالا تو حکیم آصف آرائیں کا آنکھیں خودبخود بند ہوگئی ۔ چونکہ حکیم آصف آرائیں گہری نیند میں تھا ۔ اور پھر جب تک ڈرپ خالی ہوئی تب تک حکیم آصف آرائیں نیند سے اٹھ گیا اور بالکل ہشاش بشاش تھا، صحیح ہوچکا تھا، طاقت محسوس ہو رہی تھی مگر حکیم آصف آرائیں نیند کے دوران سب کچھ یاد رکھتا ہے اور اسکا ذکر ڈاکٹر سے نہیں کرتا ہے۔ تاکے ڈاکٹر اپنا خوش فہمی میں رہے۔ مگر حکیم آصف آرائیں جب اس کلینک سے باہر نکلتا ہے تو گھر میں جاکر اپنے ابو سے ذکر کرتا ہے کے میں نے ڈاکٹر سے سنا تھا کے ڈاکٹر نے کہا ہے کے یہ ایک سال کے بعد مر جائے گا، بس ابو سیریس میں آگئے مگر ابو نے کہا کے ڈاکٹر ایسا نہیں کرسکتا ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے یہ بات دوسرے شخص سے ذکر کیا ہے ڈاکٹر نے ایسا کہا تھا اور وہ پریشان تھا بمعنی پوری ہسٹری سنادی ۔ اور پھر سننے والے نے جواب دیا کے ڈاکٹر ڈر رہا تھا اور تبھی کسی کو بھی قریب آنے نہیں دیتا ہے اور ڈاکٹر خود سیکورٹی بنتا ہے اور گھور کر اس لیے دیکھ رہا تھا کے کہیں تجھے پتا تو نہیں چل گیا۔ مگر توں نے ظاہر نہیں کیا اور تبھی ڈاکٹر سمجھا کے تجھے کچھ نہیں پتا ہے۔ اور ڈاکٹر ایسی چیزیں اپنے کلینک میں نہیں رکھتے ہیں بلکہ کوڈ کے ذریعے منگواتے ہیں، اور ڈاکٹروں میں یہ عام ہے اور یہ کوڈ کے ذریعے سے لیکر آجاتے ہیں۔ اور ڈاکٹر اس چیز کا ذکر کلینک میں موجود دوسرے کام کرنے والے لڑکے یا لڑکیوں کو نہیں بتاتے ہیں ۔ اور ان سے چھپاتے ہیں۔ بس یہ راز کی چیز ہے۔ حکیم آصف آرائیں کو اس انجکشن کے بارے میں مکمل معلومات مل گئی ۔ اور ایسی معلومات بھی مل گئی کے جو یہاں لکھ نہیں سکتا ہوں کیونکہ حکیم آصف آرائیں کا آپریشن جاری ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں وہ قصہ بھول گیا ، بمعنی جب مکمل معلومات حاصل کرلی تو پھر وقتی طور حکیم آصف آرائیں بھول گیا۔ - - اور پھر ایک مہینہ گزرا، دوسرا مہینہ گزرا۔ حکیم آصف آرائیں کے جسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوگئیں۔ حکیم آصف آرائیں نے جگہ جگہ اپنا علاج کروا رہا ہے مگر ٹھیک نہیں ہو رہا ہے۔ ایسے کرتے کرتے 8 مہینے گزر گئے۔ حکیم آصف آرائیں بہت پریشان ہوگیا ، منہ ایسا سوکھ گیا کے تھوک بھی نہیں پھینک سکتا۔ پہلے لاغر تھا کمزور تھا ، سوکھا ہوا تھا مگر جاندار تھا، اور بعد میں نیند کی طرح چلنے لگ گیا۔ جان بھی ختم ہوگئی۔ بس گر گیا اور چلنے کے لائق بھی نہیں رہا، حکیم آصف آرائیں پریشان ہوگیا کے یہ کونسی بیماری ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔ تب حکیم آصف آرائیں نے فیصلہ کیا کے اب حکیم آصف آرائیں اپنے بیماری کی تحقیقات کرے گا کے آخر کیا ہوگیا ہے۔ بس پھر 8 مہینے گزر گئے ، حکیم آصف آرائیں نے زمین اتفاق سے تھک پھینکا اور وہ تھک پیلا تھا۔ حکیم آصف آرائیں اپنے ہی تھک کو دیکھ کر ذیادہ چونک گیا کے یہ تھک پیلا کیوں ہے۔ پہلے پریشانی بیماری کی ہو رہی تھی اور اب تھک پیلا کیوں ہے تو اسکی پریشانی شروع ہوگئی۔ حکیم آصف آرائیں نے دوبارہ زمین پر تھک پھینکا اور وہ تھک پیلا تھا۔ حکیم آصف آرائیں اور ذیادہ ہکا بکا ہوگیا کے یہ تکے میں نہیں بلکہ حقیقت میں پیلا ہے۔ حکیم آصف آرائیں پھر زمین پر تھک پھینکتا ہے اور وہ تھک پھر پیلا ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے کہا کے بس یہ تھک کا پتا چل جائے کے یہ تھک پیلا کیوں ہے۔ بس پھر عبد القادر جیلانی نے حکیم آصف آرائیں سے کہا کے ڈاکٹر نے کہا تھا ناں کے ایک سال کے بعد مر جائے گا بس عبد القادر کا صرف اتنا ہی کہنا تھا اور حکیم آصف آرائیں کو وہ پورا قصہ یاد آگیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے پورے سال کا پیمائش لگایا کے اس بات کو کتنا عرصہ ہوگیا ہے بمعنی سال گزر گیا ہے یا گزرنے والا ہے۔ جب پیمائش لگایا تو پتا چلا کے 8 مہینے گزر چکے ہیں۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے کہا کے اب اپنا علاج کرواتا ہوں بمعنی اب بنیادی مدے کا کے ڈاکٹر نے انجکشن لگایا ہے تو اسی کا علاج کرواتا ہوں ، بس میں سمجھا کے یہ معمولی بات ہے ، جب چاہو انجیکشن لگوا لو اور جب چاہو علاج کروا لو۔ مگر پھر بعد میں پتا چلا کے ڈاکٹر اس چیز کا علاج ہی نہیں کرتے ہیں۔ اور حکیم آصف آرائیں جس کسی ڈاکٹر کے پاس بھی جاتا تو کوئی بھی ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں کا علاج نہیں کرتے۔ اور حکیم آصف آرائیں ایک ڈاکٹر کے پاس گیا بمعنی کلینک میں اور وہاں نرسیں موجود تھی ، حکیم آصف آرائیں نے نرس سے پوچھا کے ڈاکٹر کہاں ہے اور مجھے اپنا علاج کروانا ہے ۔ نرس نے کہا کے ڈاکٹر صاحب اندر موجود ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے اس نرس سے کہا کے مجھے ایسی بیماری ہے کے جس کا ڈاکٹر علاج نہیں کرتے ہیں ، مجھے ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا ہے۔ بس پھر وہ نرس سیریس میں آگئی اور حکیم آصف آرائیں سے کہنے لگی کے اچھا آپ ادھر بیٹھیں اور میں ڈاکٹر صاحب سے ملکر آتی ہوں۔ نرس نے اندر جاکر ڈاکٹر سے پتا نہیں کیا کہا اور پھر نرس واپس اندرونی کمرے سے باہر آگئی اور حکیم آصف آرائیں سے کہنے لگی کے اب جائیے اندر ڈاکٹر صاحب انتظار کر رہے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں جب اندرونی کمرے میں گئے اور ڈاکٹر سے ملا تو حکیم آصف آرائیں نے دیکھا کے ڈاکٹر ایک انجکشن میں دوا بھر رہا ہے، بمعنی جیسے وہ دوا ڈال دیا ہو انجیکشن میں اور صرف ہلکا سا انجیکشن چلا کر دیکھ رہا ہو جیسے انجیکشن سے ہلکے سے چھینٹے نکلتے ہیں۔ اور پھر اس ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں کو دھکے دیکر کلینک سے باہر نکالتا گیا اور پورا کلینک سے باہر نکالتے نکالتے روڈ تک حکیم آصف آرائیں کو پہنچا دیا، مگر ڈاکٹر نے وہ انجکشن حکیم آصف آرائیں کو نہیں لگایا بلکہ صرف وہ انجکشن اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا ۔ بس حکیم آصف آرائیں جب روڈ تک پہنچ گیا تو حکیم آصف آرائیں ہنسنے لگ گیا ، کے آج تم مجھے دھکے دیکر نکال رہے ہو اور کل میں ہی تمہیں ختم کر دوں گا۔ بچ تو میں جاؤں گا مگر پھر تمہیں نہیں چھوڑوں گا ۔ ابھی فی الحال حکیم آصف آرائیں کو صرف اپنے علاج کی ضرورت ہے۔ اور اس ڈاکٹر کا بھی چہرا پسینے سے بھر گیا۔ میں بھی دیکھتا ہوں کے علاج کی مجھے ضرورت ہے اور پسینے دوسرے کو آ رہے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں ایسے بہت سے ڈاکٹروں کے پاس گیا مگر کوئی بھی ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں کا علاج نہیں کر رہا تھا اور سب خوش ہو رہے تھے اور کوئی ہنس رہے تھے۔ بس ایسا تھا کے جیسے حکیم آصف آرائیں نے یہ سمجھ لیا ہو کے کوئی بھی ڈاکٹر علاج نہیں کرے گا اور حکیم آصف آرائیں نہیں بچے گا۔ ایسے صورت میں حکیم آصف آرائیں نے عبد القادر جیلانی سے کہا کے میں نہیں مروں گا اگرچہ کچھ بھی ہو جائے ۔ اور پھر محمد نے کہا کے میرا نام لینا اور ڈاکٹر سے کہنا کے مجھے محمد نے بھیجا ہے کے میرا علاج کرو۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں مختلف کئی ڈاکٹرز کے پاس گیا اور محمد کا حوالہ دیا مگر کوئی بھی ڈاکٹر علاج کرنے کے لیے نہیں مانتے اور یہی نہیں مانتے کے تمہیں انجکشن لگا ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے بھی کہا کے یہ ڈاکٹروں میں اتنا ایکا ہے کے یہ یہ بھی نہیں مانتے کے مجھے انجیکشن لگا ہے، اور رد کر دیتے ہیں۔ مگر عبد القادر جیلانی نے کہا کے بس توں نے خود مرنے کے لیے تیار نہیں ہونا ہے اور توں بس اپنا علاج کروا اور توں بچ جائے گا۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں الگ الگ جگہ پر جاکر کہتا کے مجھے محمد نے بھیجا ہے کے میرا علاج کرو اور مجھے ڈاکٹر نے انجکشن لگایا ہے کے جو ایک سال کے بعد مر جاتا ہے۔ اور پھر اسی طرح ایک بار حکیم آصف آرائیں ہمت ہار چکا تھا کے بس کوئی بھی ڈاکٹر علاج نہیں کریں گے اور گھوما پھرا بھی نہیں جا رہا ہے اور کہاں جاکر علاج کروائیں گے ۔ مگر حکیم آصف آرائیں نے فیصلہ کیا کے بس گھر جاتے جاتے جو قریب قریب کے جتنے بھی ڈاکٹر رہتے ہیں بمعنی کلینک ہیں تو ان سب کو دیکھ لو اور کوئی بھی علاج کرلیتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ گھومنا پھرنا نہیں ہو رہا ہے۔ بس آخری وقت میں حکیم آصف آرائیں ایک ہندو ڈاکٹر کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کے مجھے محمد نے بھیجا ہے اور کہا ہے کے جاؤ ڈاکٹر سے کہو کے میرا علاج کرو اور مجھے زہر کا انجیکشن لگا ہوا ہے کے جو ایک سال کے بعد بندہ مر جاتا ہے۔ تو بس پھر وہ ہندو ڈاکٹر گھور گھور کر حکیم آصف آرائیں کو دیکھتا ہے، اور ہندو ڈاکٹر سمجھ جاتا ہے کے ہاں محمد نے ہی بھیجا ہے کیونکہ اس کو کیسے پتا چلا کے اسے زہر کا انجیکشن لگایا ہے، محمد نے بتایا ہے تو اسے پتا چلا ہے۔ بس پھر وہ ہندو ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں کا علاج کرتا ہے، اور حکیم آصف آرائیں اس کے آگے جھک جاتا ہے کے ایک ہندو ہوکر محمد کے کہنے کو مانتا ہے اور میری جان بچاتا ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے اس ڈاکٹر سے کہا کے میں بالکل کمزور ہوں ، ختم ہوگیا ہوں اور آپکا کوئی فائدہ نہیں کرسکتا ہوں مگر اگر کبھی میں بدلہ دے سکا تو ضرور بدلہ دوں گا۔ اور بس میرا علاج کرلو ، بمعنی ڈاکٹروں کی رولز پر نہیں چلو۔ اور پھر ہندو ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں کا علاج کرلیا۔ اور جب حکیم آصف آرائیں کو دوا دے دیا تب حکیم آصف آرائیں نے پکا یقین کرلیا کے ڈاکٹر نے بالکل صحیح دوا دیا ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے اس دوا کو تنظیمی نمائندے کے پاس لے گیا اور اس دوا کی تحقیقات شروع کردی۔ باریک بینی سے اس دوا کے ہر نقطے کا جائزہ لیا اور پھر کنفرم ہوگیا کے یہ اسی سائے کی دوا ہے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے فیصلہ کیا کے اب اتنا تکلیف تو سہے لیا ، اور اب بالکل آخری وقت میں دوا کھاؤں گا کے جب جان نکل رہا ہو۔ - - اور پھر حکیم آصف آرائیں کو دل کا اٹیک پڑتا ہے اور حکیم آصف آرائیں بستر سے زمین پر آجاتا ہے کیونکہ حکیم آصف آرائیں مٹی میں رہتا ہے کے جو بچپن سے مٹی میں کھیلتا بھی تھا تو بس آخری وقت میں واپس مٹی میں چلا جاتا ہے۔ اور کھانا پینا سب بند ہوجاتا ہے۔ مگر حکیم آصف آرائیں نے یہ تسلیم کرلیا کے اب نہیں بچے گا کے اگر دوا نہیں کھایا تو مر جائے گا ۔ بس پھر ہارٹ اٹیک ہونے کے تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد حکیم آصف آرائیں دوا کھا لیتا ہے۔ چونکہ یہ سال سن عیسوی 2015 کا اخروی مہینہ تھا۔ اور پھر جب حکیم آصف آرائیں نے دوا کھا لیا تب حکیم آصف آرائیں نے وقت کا پیمائش لگایا کے سال پورا ہونے میں کتنے وقت باقی ہے اور میں نے کتنا جلدی دوا کھا لیا ہے۔ تو وقت پیمائش لگانے کے بعد پتا چلا کے سال پورا ہونے کو صرف 15 دن باقی تھے، اور حکیم آصف آرائیں نے سال پورا ہونے سے 15 دن پہلے دوا استعمال کرلیا ہے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اپنا علاج مکمل کیا۔ اور جب تک سن عیسوی 2016 شروع ہوگیا۔ اس تجربے میں حکیم آصف آرائیں نے اگرچہ انجکشن کی معلومات حاصل کیا، بیماریوں کے مراحل حاصل کیے مگر دنیا لوگوں کے بھی تجربات حاصل کیے ہیں ۔ حکیم آصف آرائیں نے اس تجربے میں دیکھا کے دنیا سب لوگ ہنستے ہیں اور کہتے ہیں کے مرجائے، اور پہلی فرصت میں بچنا نہیں چاہیے۔ اور جو ساتھ ہوتے تھے بمعنی لین دین رکھتے تھے یا جو ہنسی مذاق بھی کرلیتے تھے تو وہ سب چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے بھی فیصلہ کرلیا کے اب حکیم آصف آرائیں بھی دنیا کو نہیں دیکھے گا، اگرچہ دنیا مر رہی ہو، تڑپ رہے ہو، حکیم آصف آرائیں کو عبد القادر جیلانی کا نصیحت یاد آگیا۔ عبد القادر جیلانی کہتا تھا کے دنیا کو نہیں دیکھا کرو، اور انکا فکر نہیں کرو ، اور بس صرف اپنے آپ کو دیکھو۔ کیونکہ یہ دنیا والے بھی ایسے ہی ہیں۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے بھی دنیا والوں سب کو چھوڑ دیا ، سوائے ان لوگوں کے کے جو حکیم آصف آرائیں کو بھی دیکھتے ہیں، جیسے ہندو ڈاکٹر نے دیکھا، دوسرے ہندو کو پتا چلا تو وہ بھی حکیم آصف آرائیں کیساتھ ہوگیا۔ مگر مسلم کو پتا چلتا تھا تو وہ مذاق اڑاتے تھے ، ہنستے تھے کے ڈاکٹر نے لگایا ہے تو حکیم آصف آرائیں بھی ہنستا تھا کے میں تو بچ گیا ہوں مگر تم مارے جاؤ گے۔ اور تمہارے اوپر قیامت بھی ٹوٹے گا تو یہ تمہارا اپنا ذاتی مسئلہ ہے اور ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں کیساتھ صرف ایک دوست ہمیشہ کا رہے چکا ہے۔ اور باقی سب لوگ آنے جانے والے ہیں ۔ اور حکیم آصف آرائیں نے دنیا کو خیر باد کہے دیا اور پھر سن عیسوی 2016 کے شروع مہینے میں حکیم آصف آرائیں نے اثار قیامت پر کچھ شعر بنائے ۔ تاکے دنیا میں آثار قیامت کا استقبال کیا جائے۔ اور جیسے حکیم آصف آرائیں نے اکیلے سب معاملات کو سنبھالا ہے ویسے دنیا بھی اکیلے معاملات کو سنبھالے گی۔ بس حکیم آصف آرائیں ذات پر یہ لازم نہیں ہے کے دنیا والوں کے ساتھ اچھائی کرو، بمعنی تجربہ کیا سے کیا سکھا دیتا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں سن عیسوی 2016 کے شروع مہینے میں پاکستان کے حکومت کیساتھ کھیلنا شروع کرتا ہے اور اپنے پیشنگوئی کے ذریعے بتاتا ہے کے آثار قیامت میں کیا ہوگا۔ اس معاملے میں حکیم آصف آرائیں پہل رینجرز سے کرتا ہے، کیونکہ حکیم آصف آرائیں کو حکومت کے ایک ایک جگہ کا تحقیق پتا ہوتا ہے مگر ادھر تک بات پہنچا نہیں سکتا ہے۔ تبھی حکیم آصف آرائیں نے پہلا قدم رینجرز پر رکھا اور پھر رینجرز نے حکیم آصف آرائیں کے شعر کو وفاقی وزیرِ خزانہ تک پہنچا دیا۔ بمعنی اسکا مطلب ہے کے حکیم آصف آرائیں مشہور ہوگیا ۔ دوسرا شعر سناتا ہے تو وہ اس سے بھی پیچھے حکومتوں میں پھیل جاتا ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں نے رینجرز کے ذریعے پاکستان حکومت میں اپنا قدم کا آغاز رکھا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے حکومت پاکستان کو اپنے شعر میں سمیٹ لیا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے رینجرز کو کچھ آثار قیامت بتائے کے جیسے مردوں میں کمی ہوگا اور عورتیں اپنے کپڑے اتاریں گی، اور قتل و غارت ہونگے، اور بے سہارا کا قتل ہوگا۔ بس حکیم آصف آرائیں نے جب کہا کے آثار قیامت میں بے سہاراؤں کا قتل ہوگا اور یہ ہوچکا ہے اور میں بچ چکا ہوں۔ تب رینجرز نے حکیم آصف آرائیں کا مذاق اڑایا کے بے سہارا کا قتل ہوتا ہے جگہ جگہ ، تو یہ اچھی بات ہے۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں نے رینجرز کی خوشی دیکھتے ہوئے دوسرا آثار قیامت لکھ دیا۔ کے اثار قیامت میں یہ بھی ہے کے بچوں کا قتل ہوگا ۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Tuesday, 15 September 2026

Hakim Asif Arain (The Scientist)

یہ بلاگ حکیم آصف آرائیں کا ذاتی بلاگ ہے، حکیم آصف آرائیں 8 جنوری 1991 کو شہر کراچی میں پیدا ہوئے ہیں ، اور مہارت میں منطق، حق و انصاف اور حکمت، اور مصنف، اور اقوام متحدہ کے سربراہ کے پرسنل نائب ہیں۔ حکیم آصف آرائیں نے سن عیسوی 2018 میں اقوام متحدہ کے سربراہ کے پرسنل نائب مقرر ہوئے ۔ یہ بات نوٹ کرلیجیۓ کے حکیم آصف آرائیں کو حکومتی سطح پر نائب مقرر نہیں کیا گیا ہے بلکہ ذاتی پرسنل محبت کے طور پر نائب مقرر کیا گیا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں کو اجازت بھی ہے کے اقوام متحدہ کا نام استعمال کرسکتا ہے، مگر حکیم آصف آرائیں کو منع کیا گیا ہے کے اقوام متحدہ یا کسی بھی حکومت ملک سے تعلقات نہیں رکھنا ہے اور حکیم آصف آرائیں جس حکومت کو بھی کچھ بھی کہے گا تو وہ مان لیں گے مگر حکیم آصف آرائیں پلٹ کر انکا کہنا نہیں مانے گا۔ تعلقات حکیم آصف آرائیں کسی سے بھی نہیں رکھتے ہیں۔ چائنا حکومت اور طالبان حکومت بس صرف دو کو پتا ہے کے حکیم آصف آرائیں کس کا نائب ہے، اور حکیم آصف آرائیں خود ظاہر نہیں کرتا ہے کے کس کا نائب ہے۔ جس کسی کو پتا ہوتا ہے تو انہیں بھی یہ بتانے کی اجازت نہیں ہے کے حکیم آصف آرائیں کس بڑی ذات کا نائب ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے پاکستان اور انڈیا کی جنگ روکنے میں سن عیسوی 2018 سے بنیادی کردار ادا کیا ہے نائب کی حیثیت سے ۔ اور انڈین گورنمنٹ بھی جانتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں کون ہے ، اگرچہ حکیم آصف آرائیں کے بارے میں ذیادہ نہیں معلوم ہوگا مگر اتنا ضرور پتا ہے کے حکیم آصف آرائیں نے پاکستان و انڈیا کی جنگ روکنے میں اپنی ذمے داری سے کردار نبھایا ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے انٹرنیشنل سطح پر دیگر بہت سے کام سر انجام دیئے ہیں اور حماس و اسرائیل کی جنگ میں بھی غیر جانبدار ہوکر اصولی فیصلہ اپنایا ہے۔ پاکستان سے انڈیا گئی سیما کا کیس بھی بنیادی طور پر حکیم آصف آرائیں نے اپنے ذمے پس پردہ لیا تھا۔ حکیم آصف آرائیں نے سکول کی تعلیم حاصل نہیں کیا ہے بلکہ غیر رسمی طور پر تعلیم حاصل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کے حکیم آصف آرائیں صاحب کو عالمی حکومت کا خفیہ سربراہ نے اپنا پرسنل نائب مقرر فرمایا ہے۔ -

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Thursday, 3 September 2026

Hakim Asif Arain | Cognitive Profile & Analytical Framework

 🌿 حکیم آصف آرائیں آفیشل (کراچی)  🌿

🔍 بیان تیار کرنے کا سسٹم (System) اور طریقہ کار:


🧠 Cognitive Profile & Analytical Framework 


🎯 1. Pure Empirical Logic & Scientific Cognitive Processing 


"This way of thinking is based on direct observation, solid evidence, and impartial analysis, rather than mere assumptions, emotional thoughts, or hearsay." 


🌐 2. Introduction & Perspective

All analytical and investigative evaluations, fact-checking of news, and reports published on this channel are prepared under a specific, transparent, and impartial cognitive and principled framework.

Many viewers often ask why my perspective and style of analysis differ from mainstream news outlets or traditional commentators. The fundamental reason lies in my Cognitive Profile, which, instead of relying on conventional rote memorization or emotional reasoning, operates strictly on empirical data, hard facts, truth, and clear patterns. 


⚙️ 3. Scientific, Logical, and Intellectual Principles of My System:

Our analytical system and cognitive processing operate under a fully scientific, transparent, and algorithmic framework structured as follows: 


📥 1. Data & Input Processing System 


Input-based Processing | Information Gathering 


Principled Realism / Literal Cognition | Focused Mental Clarity 


🧩 2. Pattern Recognition & Algorithmic Cognition 


Pattern Recognition Engine | Fast Pattern Recognition 


Analytical Pattern Matching | Complete Pattern Matching 


Pattern-Based Algorithmic Cognition | Structured Algorithmic Intelligence 


⚡ 3. Rapid & Instant Processing Systems 


System 1 Processing | Flash Processing | Instant Processing 


Rapid Cognitive Processing | Parallel Neural Processing | Neuronal Synchronization 


💡 4. Intuition, Compression & Problem Solving 


Pattern-Based Intuition | Intuitive Insight | Cognitive Compression 


Holistic Processing | Structured Problem-Solving Framework | Pure Deterministic Intelligence 


🔍 5. Analytical Thinking & Investigation 


Critical Reasoning (Logical Chain) | Context Mapping 


Hypothesis & Verification | Comparative Analysis | Cross-Referencing in Investigation 


📚 6. Memory, Filtration & Assimilation 


Information Storage | Episodic & Pattern Memory | Implicit Memory Retrieval 


Data Expansion | Filtration System / Quality Filtration 


Validated Knowledge Integration | Principled Knowledge Assimilation 


Selective Experiential Assimilation / Selective Empirical Growth 


Curated Experiential Memory / Curated Knowledge Bank 


Principled Empirical Growth | Error-Free Experiential Building 


🎓 7. Non-Traditional & Academic Cognition 


Rote Memorization Deficit | Academic Mismatch / Academic Incompatibility 


Non-Traditional Cognition | Non-Academic Intelligence | Selective Auditory / Textual Memory

-

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email