اولیائے کرام کی کیا قسم ہے؟ جانیے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں
اولیاء کتنے قسم کے ہوتے ہیں ؟ اولیاء کی کیا قسمیں ہیں ؟ اولیائے کرام کی دو قسمیں ہوتی ہیں ، ایک قسم اسے کہتے ہیں کے جو اپنی محنت سے ولی بنتے ہیں زہد و تقوی اختیار کرنے کے بعد ایک عرصہ گزارتے ہیں اور پھر ولایت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں اور یہ طریقہ عام دنیا والوں کے لیے ہے۔ اور دوسرا قسم وہ ہوتے ہیں کے جو پہلے ولی ہوتے ہیں اور بعد میں زہد و تقوی اختیار کرتے ہیں بمعنی وہ پیدائشی طور پر ولی ہوتے ہیں اور اس قسم کے ولیوں کو کہا جاتا ہے چنے ہوئے ولی کے جسے اللّٰہ جل جلالہ خود چن لیتا ہے تو اسے ولی بنا دیتا ہے اور وہ ولی ہی بن کر دنیا میں آتے ہیں۔ جیسے حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ یہ زہد و تقوی اختیار کرنے کے بعد ولی نہیں بنے ہیں بلکہ یہ پیدائشی ولی ہیں اور جب یہ دنیا میں بچے تھے تب یہ بھی بچوں کی طرح کھیلتے تھے اور بچپن کی عمر میں اپنے گھر سے دور دین کی خدمت کرنے نکل گئے تھے ۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جو کے بچپن کے پیدائشی ولی ہیں تو یہ اس قسم کے ولیوں میں شمار ہوتے ہیں کے جو پہلے سے چنے گئے ہیں بمعنی پیدا ہونے سے پہلے ولی بنا دیا گیا ہے۔ اور جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ایک بار دوسرے طالب علموں کیساتھ اپنے استاد کے ہمراہ کشتی میں سفر میں تھے تو آپ لوگوں نے سنا ہوگا کے استاد یا پیر اپنے مریدوں / شاگردوں کا امتحان بھی لیتے ہیں۔ تو اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے استاد جو کے اپنے شاگردوں کو آزماتے بھی تھے مگر جب اسی استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو کشتی سے نیچے پھینک دیا بمعنی دھکا دے دیا کے دیکھتے ہیں شیخ عبد القادر جیلانی کیا کرتے ہیں اپنے استاد کے آگے امتحان پاس کرتے ہیں یا فیل ہوتے ہیں۔ بس جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو کشتی سے نیچے دکھا دے دیا تو شیخ عبد القادر جیلانی بچے کی عمر میں پانی میں گر گئے اور تیرتے ہوئے واپس کشتی میں آکر بیٹھ گئے اور اس استاد کا وہی ہاتھ ٹوٹ گیا۔ کیونکہ استاد دنیا میں محنت کر کے ولی بنا تھا اور شیخ عبد القادر جیلانی پیدا ہونے سے پہلے ولی بن کر دنیا میں آئے تھے ۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کے دنیا میں دو طرح کے قسم ہوتے ہیں ، ایک وہ جسے استاد ، پیر اس طریقے سے آزما سکتے ہیں اور دوسرے ایسے قسم ہوتے ہیں کے جسے اس کے استاد یا پیر بھی نہیں آزما سکتے ہیں۔ بس اس استاد کو یہ نہیں پتا تھا کے یہ پیدائشی ولی ہے۔ اور پھر اس استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے معافی مانگا اور پھر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے استاد کو معاف کردیا تو یہاں سے استاد کو بھی پتا چل گیا کے شیخ عبد القادر جیلانی دوسرے طالب علم کی طرح نہیں ہے جبکہ دوسرے طالب علم بھی ولی ہیں مگر شیخ عبد القادر جیلانی پیدائشی ولی ہے۔ اور پھر جب شیخ عبد القادر جیلانی بڑے ہوئے تب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے پوری دنیا میں عام اعلان کردیا کے جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اعلان عام کیا کے اللّٰہ جل جلالہ مجھ سے بات کرتا ہے تو ویسے ہی شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے زندگی میں عام اعلان کردیا کے دنیا میں جتنے بھی اللّٰہ جل جلالہ کے ولی ہیں تو ان سب کے کندھوں پر میرا قدم یے، اور جو میرا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول کرے گا تو وہ ولی ہوگا اور جو میرا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول نہیں کرے گا تو اگرچہ وہ بڑے سے بڑا ولی ہوگا تو وہ ولی بھی نہیں رہے گا۔ کون ہے وہ جو شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے آگے کہے کے ہم تمہارا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول نہیں کریں گے، ہم سر تسلیم نہیں ہونگے، مگر جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے عام اعلان فرمایا تب پوری دنیا کے ولیوں نے اعلان کیا کے ،، ہاں ،، ہم آپکا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول کرتے ہیں ، بمعنی زبان سے اقرار ہے ، کوئی حقیقت کندھوں پر قدم رکھنا نہیں ہے، بس تسلیم کر لینے کو عاجز آنا کہتے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں شیخ عبد القادر جیلانی کا اپنا استاد بھی ہو اگرچہ کوئی بھی بڑے سے بڑا پیر ولی ہو مگر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا واضح اعلان کے میرا قدم مبارک دنیا کے چھپے چھپے میں جتنے بھی ولی ہیں تو سب کے کندھوں پر ہے۔ اور سب ولیوں نے تسلیم کیا کے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا قدم ہمارے کندھوں پر ہے۔ اور صرف ایک ولی نے ماننے سے انکار کردیا اور کہا کے نہیں ، میں اپنے کندھوں پر تمہارا قدم قبول نہیں کرتا ہوں تو پھر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے ٹھیک ہے اگر تمہارے کندھوں پر میرا قدم نہیں ہے تو خنزیر کا قدم ہے۔ اور پھر اسی ولی نے اپنے کندھوں پر خنزیر کو اٹھایا اور پھر اس ولی نے بھی شیخ عبد القادر جیلانی کے آگے جھک گیا اور کہا کے میں تسلیم کرتا ہوں کے آپکا قدم میرے کندھوں پر بھی ہے، اور پھر وہ ولی بن گیا، کیونکہ وہ بھی ولی خاص تھا مگر بس عارضی طور پر اسے سبق سکھانے کے لیے ایسا قدم اٹھایا گیا۔ اور وہ ولی کوئی مرتد یا بد تر نہیں تھا ، بس ولی سے نکل گیا تھا اور بعد میں پھر ولی بن گیا۔ اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری والے جب انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا عام اعلان سنا کے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عام دنیا میں کے میرا قدم تمام ولیوں کے کندھوں پر ہے تو صرف خواجہ معین الدین چشتی اجمیری صاحب اپنے اجمیر سے فرماتے ہیں کے آپ کا قدم مبارک میرے صرف کندھوں پر نہیں بلکہ میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ اس بات سے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جواباً فرماتے ہیں کے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کو پورے اجمیر کا سربراہ ولی بنایا جاتا ہے اور دنیا میں کوئی بھی ولی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے مقابلہ نہیں کرے گا۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے پیر مرشد عثمان ہارونی ہے، اور خواجہ صاحب اپنے مرشد کی خدمت کرتے تھے تب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ صاحب کے پیر عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا کے اپنے مرید خواجہ معین الدین کو آزاد کر دو اور اس سے مذید خدمت نہیں لو، تب عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے پاس سے آزاد کر دیا۔ اور پھر خواجہ صاحب کا مرید بختیار کاکی ہے اور بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا مرید فرید الدین عرف گنج شکر ہے۔ اور گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ خود خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے بھانجے بھی ہیں ، تب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مرید بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا کے تم اپنے مرید گنج شکر کو آزاد کر دو، بمعنی ان سے خدمت نہیں لو، تب بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پیر کے کہنے پر اپنے مرید گنج شکر کو اپنے پاس سے آزاد کر دیا ۔ اور پھر گنج شکر کا بھانجہ صابر کلیری ہے کے جو خود اپنے ماموں گنج شکر کے پاس رہتا ہے۔ بس کہنے کا مطلب ہے کے ولی دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو خود محنت سے بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو پہلے سے چن لیے گئے ہیں۔ مگر جو محنت سے بنتے ہیں تو ان پر بھی حق پر قائم رہنا لازم ہے اور جو پیدائشی ولی ہوتے ہیں تو وہ پہلے سے ہی حق پر قائم رہتے ہیں۔ اور پھر اس میں بھی ولایت کی مذید دو قسمیں ہیں کے جو اللّٰہ جل جلالہ کے خاص ولی جانتے ہیں مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے جتنا وضاحت دے دیا ہے تو یہ وضاحت عام طور پر مشہور نہیں ہوگا اور تبھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ایسا وضاحت دے کر فرما دیا کے ولی دو قسموں کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو محنت سے ولی بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو پہلے سے چن لیے گئے ہو اور جسے آزمایا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھ کر آزمایا جاتا ہے کے آزمانے والا خود کون ہے اور جسے آزمایا جا رہا ہے تو وہ خود کون ہے۔ ولیوں کی قسمیں ، پیدائشی ولی اور محمت کر کے ولی کے موضوع اور تاریخی واقعے پر اہم نظر کرم بحوالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ، ، آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔
Labels: Hakim Asif Arain, Religion
.png)
