×
Menu
Follow
Label
Education Hakim Asif Arain Health News Report Religion
About Us Privacy Policy Cognitive Profile Platforms

Saturday, 3 October 2026

صرف دین اسلام کے نام سے اپنا فتویٰ دینا گمراہی ہے بحوالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی وضاحت دینا گمراہی

صرف اسلام دین کے نام پر فتویٰ دینے کے معاملے پر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث فرماتے ہیں کے کوئی بھی ولی اللہ اگرچہ وہ کوئی حقیقت میں علماء ہو یا پیر ہو ، اگر وہ صرف اسلام دین کے نام پر اپنا فتویٰ جاری کرے تو وہ گمراہ ہے۔ کوئی بھی ولی اپنے ذاتی فتوے کو شریعت کا نام نہیں دے سکتا ہے، اگرچہ کوئی علماء ہو یا پیر ، مفتی ، فاضل وغیرہ۔ یہ بات یاد رکھیے کے شریعت صرف کتاب اللّٰہ کو کہتے ہیں ، کتاب اللّٰہ میں قرآن، تورات، انجیل وغیرہ وغیرہ آسمانی کتب ہیں تو اسے شریعت کہتے ہیں۔ شریعت کا مطلب ہے کے یہ اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان ہے ۔ اور یہ ہر ذات کے ذاتی قول سے افضل ہے، شریعت کے معاملے میں آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی فرماتے ہیں کے میں خود بھی شریعت کے خلاف نہیں جاسکتا ہوں، کیونکہ شریعت اللّٰہ جل جلالہ کے فرمان کو کہتے ہیں ۔ لہذا صرف شریعت کی بات کو ہی شریعت سے منسوب کیا جاسکتا ہے جیسے قرآن میں لکھا ہے یا قرآن کہتا ہے ، تورات میں لکھا ہے یا تورات کہتا ہے، انجیل میں لکھا ہے یا انجیل فرماتا ہے، بمعنی اسکا مطلب ہے کے شریعت فرماتا ہے، اور شریعت کا مطلب ہے کے اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے ۔ لہذا کوئی اللّٰہ جل جلالہ کا نام لے لے یا شریعت کا نام لے لے برابر ہے۔ کتاب اللّٰہ کے بعد نبیوں کا اپنا قول ہوتا ہے، کوئی یہ بھی کہے سکتے ہیں کے نبیوں کا اپنا فرمان ہوتا ہے۔ جسے لکھ جانے کے بعد حدیث کہتے ہیں۔ حدیث کا مطلب ہے کے فلاں بات کتاب سے دیکھ کر بتائی گئی ہے، اور اگر کوئی کہے کے فلاں نبی نے ایسا فرمایا ہے تو اسکا مطلب ہے کے نبی نے فرمایا ہے اور یہ مستند بات ہے اور کتاب اللّٰہ سے تصدیق شدہ ہے۔ بمعنی نبی کا نام اہم ہے ، اور حدیث نہیں، کیونکہ حدیث دنیا دار علماء کے خود کے بنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ نبی نے خود یہ بھی فرمایا ہے کے اگر کوئی شخص اپنی طرف سے بات کہے اور اس بات کو نبی سے منسوب کرے کے نبی نے فرمایا ہے تو وہ شخص جھوٹ بولے تو اپنا ٹھکانہ جہنم میں دیکھ لے۔ لہذا نبی کا نام اہم ہے کے جیسے کتاب اللّٰہ ہے، مگر حدیث نام اہم نہیں ہے کیونکہ کتاب اللّٰہ موجود ہے۔ نبی کے فرمان کو شریعت کہے سکتے ہیں مگر یہ لازم ہے کے کہا جائے کے یہ نبی نے فرمایا ہے بمعنی نبی کا نام لیکر شریعت کا کہے سکتے ہیں مگر ڈائریکٹ شریعت کا نہیں کہے سکتے۔ نبی کا نام لینے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کے فلاں بات فلاں نبی کی طرف سے ہے اور پھر اس بات کا اتنا وزن ہوتا ہے، بمعنی نبی کا فرمان ، صحابہ کے فرمان سے ذیادہ افضل ہے، اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ بھی اگر کچھ اپنی طرف سے فرماتے ہیں تو اسے ڈائریکٹ شریعت نہیں کہتے ہیں کے یہ بات شریعت ہے، بلکہ کہا جاتا ہے کے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ہے کے یہ ایسی ایسی بات ہے تو انکے اپنے نام سے بات کی پہچان ہوتی ہے ، ڈائریکٹ شریعت کے نام سے نہیں ۔ بلکہ پھر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ہے اور شریعت کے نام سے منسوب ہوتا ہے مگر انکے اپنے نام کیساتھ شریعت کے نام کیساتھ منسوب ہوتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کے فلاں بات کسی شخصیت نے خود کہا ہے ۔ اسی طرح حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا اور فاطمہ الزہراء، سکینہ و زینب وغیرہ وغیرہ انکے اپنے نام سے منسوب ہوکر پھر شریعت سے یا اسلام دین سے منسوب ہوتا ہے کے یہ اسلام دین میں ہے ، یا فلاں وقت میں فلاں شخصیت نے دین میں یہ اضافہ کر دیا تھا۔ بمعنی شخصیت کا نام بھی واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت سیدنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ، امام ابو حنیفہ و امام شافعی ، امام مالکی اور امام حنبل ، مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ، الغرض کوئی بھی شخصیات اپنے دور زمانہ میں دین میں کچھ بھی اضافی بہتری کرتے ہیں تو وہ اپنے نام سے کرتے ہیں۔ جیسے اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، کوئی بھی شخصیت اپنے طرف سے کچھ بھی فیصلہ سناتے ہیں تو وہ اپنے نام سے سناتے ہیں۔ اور پھر اسلام دین میں وہ اقوال مستند کہلاتے ہیں کیونکہ فیصلہ کرنے والا شخصیت خود مستند ہے۔ مگر چودھویں صدی میں دو نمبر علماء اپنی طرف سے دین میں کوئی بھی فتویٰ رد و بدل کرتے ہیں تو وہ ڈائریکٹ اسلام دین سے یا شریعت سے منسوب کرکے فتویٰ جاری کرتے ہیں جیسے دو نمبر علماء ایسے بیان کرتے ہو کے نبی نے فرمایا ہے بمعنی نبی کا حوالہ کرکے فتویٰ جاری کرتے ہیں یا اسلام دین کا نام سے فتویٰ جاری کرتے ہیں یا شریعت کے نام سے فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے جھوٹ میں نبی کے نام سے اپنا فتویٰ جاری کرنا کفر ہے ۔ اور شریعت کا نام تو لے ہی نہیں سکتا کیونکہ کتاب اللّٰہ محدود ہے تیس سپارے ہیں اور تبھی جھوٹ نہیں بول سکتا مگر نبی کے نام سے جھوٹ بول سکتے ہیں کیونکہ کوئی بھی کتاب کو حدیث کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ اور نبی سے منسوب کیا جاسکتا ہے ۔ لہذا نبی کے نام سے جھوٹ میں منسوب کرنا کفر ہے ۔ اور دین اسلام کے نام سے منسوب کرنا گمراہی ہے۔ لہذا اپنی بات کو نہ تو نبی کے نام سے منسوب کرسکتے ہیں اور نہ شریعت کے نام سے منسوب کرسکتے ہیں اور نہ دین اسلام کے نام سے منسوب کرسکتے ہیں کیونکہ دین اسلام کے نام سے منسوب کرنے کا مطلب ہے کے کسی صحابی نے فرمایا ہے بمعنی خلفائے راشدین میں سے کسی نے ، یا امام حسن نے یا حسین نے یا عباس نے ، سیدہ فاطمہ نے یا عائشہ صدیقہ نے، جنید بغدادی، امام ابو حنیفہ و شافعی و مالکی و حنبل ، شیخ عبد القادر جیلانی یا مستند ولیوں میں سے ہی کسی نے یا کسی بھی نبی نے، الغرض حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اب تک کسی بھی مستند شخصیت نے فرمایا ہے ، بمعنی دو نمبر علماء اپنے ذاتی بیان کو دوسرے ذات سے منسوب کر کے دین کو خراب کرتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہیں کے یہ خود نبیوں کے وارث ہیں اور یہ بھی نبیوں کی طرح ، صحابہ کی طرح ، تابعین کی طرح ، مستند ولیوں کی طرح خود بھی دین میں رد و بدل کرتے ہیں اور رسک لگاتے ہیں کے انکا اپنا خود کا درجہ ہے ، جبکہ یہ حقیقت میں جوتی کے نوک کے برابر بھی نہیں یے۔ لہذا دوسرے ذات کے نام کیساتھ جیسے صحابہ کے یا مستند ولیوں کے ، الغرض دوسرے کسی بھی ذات کے نام کیساتھ اپنا فتویٰ جاری نہیں کرسکتے کیونکہ یہ عوام کو گمراہ کرنا کہلاتا ہے ۔ جھوٹ موٹ کا عزت کمانا اور دین کو خراب کرنا۔ جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں ، کوئی بھی فتویٰ دیتے ہیں یا الغرض شریعت کا نام رکھتے ہیں مگر اپنا نام بھی ساتھ رکھتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث نے فرمایا کے فلاں شریعت ہے ، قول ہے یا فتویٰ وغیرہ وغیرہ کچھ بھی الفاظ کہے دیں مگر نام حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث کے اپنے نام سے ہے۔ تاکے ناظرین سمجھ لیں کے ہر اصول شریعت ہے مگر یہ کس نے فرمایا تو پتا چلا حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث نے خود فرمایا۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنا قول کہتے ہیں ، فرمان کہتے ہیں، فتویٰ کہتے ہیں مگر نام حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا اپنا ہے۔ اگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نبی کا نام بھی لیتا ہے یا صحابی کا تب بھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی واضح ہوتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے خود فرمایا کے نبی نے فرمایا ہے یا صحابی نے فرمایا ہے، یا شریعت ہے وغیرہ وغیرہ، الغرض کچھ بھی ہے تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ذات کے اپنے نام سے ہے۔ مگر دوسرے دو نمبر علماء اپنا نام واضح نہیں کرتے ہیں بلکہ صرف شریعت کا نام رکھتے ہیں یا اسلام دین کا نام رکھتے ہیں تو یہ سمجھ لیجیے کے وہ عالم گمراہ ہے بمعنی صرف اس وجہ سے گمراہ ہے ، اور دوسری وجہ ہو تو وہ الگ بات ہے کے گمراہ ہے یا کفر ہے ، کیونکہ دو نمبر علماء میں کفر ہونا بھی ممکنات میں سے ہے۔ اپنے ذاتی قول کو ڈائریکٹ دین کے نام سے منسوب نہیں کیا جاسکتا کے جیسے نبی نے فرمایا ہے ۔ یا صحابی یا کسی بھی مستند ولی نے فرمایا ہے، الغرض ایمانداری تو یہ ہے کے کسی عام بندے کا بھی نام نہیں لو کے اسکا کہنا ہے بلکہ سچ کہو، اگر اپنا خود کا نظریہ ہے تو اپنا نظریہ ظاہر کر کے پیش کرو، اگرچہ حقیقی عالم ہو یا عام بندہ۔ کوئی بھی عالم اگر حقیقت میں بھی عالم ہو تب بھی وہ اس حیثیت میں نہیں پہنچتا کے وہ حق کے خلاف جاسکتا ہے ۔ حق کا برتری عالم درجے سے اوپر ہے تو کوئی بھی حقیقی عالم بھی خود کو عالم سمجھ کر بھی حق کے خلاف نہیں جاسکتا ہے۔ اگر کہیں پر کسی بات میں دس یا پچاس علماء کا آپس میں اتفاق ہو کے ایسا فتویٰ ہونا چاہیے تب بھی یہ نہیں کہے سکتے ہیں کے تمام علماء کا آپس میں اس بات پر اتفاق ہے بلکہ ایسا کہے سکتے ہیں کے دس علماء کا اتفاق ہے یا بیس یا پچاس اور انکی فہرست بھی شمار ہوگئی ، مگر ہر علماء کا مجموعی فتویٰ شمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بمعنی اگر کوئی بات کوئی انسان اپنی طرف سے کہے تو وہ بات اسی شخص کی طرف سے ہی کہلائے گا اور نہ کے تمام روئے زمین کے علماء یا پیروں کے نام سے فتویٰ ہوگا کیونکہ یہ دین خراب کرتا ہے ۔ بس جب مستند شخصیت خود فتویٰ دے گا تو وہ الگ پہچانا جائے گا اور جو دو نمبر شخصیت فتویٰ دیں گے تو وہ الگ پہچانے جائیں گے۔ اور دنیا کسی کا بھی قول سنے گا تو دنیا خود دیکھ لے گا کے کہنے والا کون ہے بمعنی بات جیسی بھی ہے مگر کہنے والا کون ہے۔ جیسے کہتے ہیں کے حضرت علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا تو دنیا بات تو دیکھتی ہے مگر یہ بھی دیکھتی ہے کے فرمایا کس نے۔، اس سے پتا چلتا ہے کے حضرت علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ خود آخری نبی کے چوتھے خلیفہ ہے۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ بڑے پیر ہیں بمعنی اپنے وقت زمانہ میں ایک بڑے پیر محی الدین غوث الاعظم کے نام سے مشہور ہیں ۔ جنید بغدادی کا نام آتا ہے تو یہ اپنے زمانے میں مشہور شخصیت ہیں ولیوں میں ، مجدد الف ثانی کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ گزشتہ عرصے کے آخری مجدد ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ اجمیر والے ہیں اور عثمان ہارونی کے مرید ہیں یا غوث الاعظم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں کے غوث الاعظم نے خود انہیں ولیوں میں بڑا بنایا ہے ہے۔ فرید الدین کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ بختیار کاکی کے مرید ہے یا صابر کلیری کے پیر ہے، نظام الدین کے پیر ہیں ۔ امام ابو حنیفہ کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ اپنے وقت کے امام رہے چکے ہیں اور امام شافعی بھی بڑے امام رہے چکے ہیں ، امام حنبل اور امام مالک بھی بڑے امام رہے چکے ہیں۔ اسی طرح ہر مستند شخصیت کا اپنا پہچان ہوتا ہے اور اسی پہچان کیساتھ اس کے اپنے اقوال ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے دو نمبر علماء خود اپنا اقوال نہیں بنا سکتے ہیں اور اگر بنائیں گے تو خود اپنے نام سے بنائیں گے مگر دین کے نام سے نہیں ، اور پھر شخصیت کے لحاظ سے ہر کسی کے اقوال میں پتا چل جائے گا کے فلاں بات فلاں کے اپنے قول ہیں۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے جس سوال کا جواب کتاب اللّٰہ میں ہے تو اس معاملے میں صرف کتاب اللّٰہ کا چلے گا ۔ اور جو بات کتاب اللّٰہ میں نہیں ہے اور نبی کے اقوال میں ملتے ہیں تو نبی کا اقوال چلے گا ۔ اور جو بات نبی کے اقوال میں نہیں ملتے ہیں بمعنی زمانہ آگے بڑھ گیا ہے اور نبی دنیا سے جا چکے ہیں تو ابو بکر کے اقوال میں ہیں تو انکا اقوال چلے گا۔ اور زمانہ مذید آگے بڑھ گیا ہے ، تو اس زمانے کے حساب سے حضرت سیدنا ابو بکر کے اقوال سے جواب نہیں ملتا ہے تو عمر نے جواب دیا ہے ۔ اور زمانہ مذید آگے بڑھ گیا ہے اور عمر بھی دنیا سے چلا گیا ہے تو عثمان غنی کے اقوال چلیں گے ، اور عثمان غنی بھی دنیا سے چلے گئے ہیں تو علی جو ابوبکر و عمر و عثمان کے مددگار تھے اور اپنے وقت میں خود علی کے اقوال چلیں گے ۔ اور زمانہ مذید آگے بڑھ گیا ہے اور علی نے بھی بعض چیزوں کے جواب نہیں دیئے بمعنی کسی نے پوچھا نہیں اور نئے زمانے میں نئی چیزیں آرہی ہیں تو حسن نے جواب دیا ہے بمعنی حسن کا اقوال چلے گا۔ اسی طرح ترتیب وار ہوتے ہوتے زمانہ ایسے آگے بڑھ گیا ہے کے جس سوال کا جواب کتاب اللّٰہ میں نہیں ہے اور نبی اور نبی کیساتھ رہنے والے صحابہ بھی دنیا میں نہیں ہے تو جنید بغدادی، عبد القادر جیلانی، بختیار کاکی، عثمان ہارونی، فرید الدین، صابر، بمعنی ہر کسی نے اپنے اپنے زمانے میں نئے نئے سوالوں کے جواب دیئے ہیں۔ اور مجدد الف ثانی اور اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور اس موجودہ دور زمانہ میں بھی وقت کے مستند اولیاء اللہ بھی نئے نئے سوالوں کے جواب دیتے ہیں بمعنی اسکا مطلب ہے کے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، یہ وہی دین چلا آ رہا ہے کے جو نبی کے دور کا ہے۔ مگر ایک بات سمجھ لیجیے کے جو بات کتاب اللّٰہ میں ہے تو اس معاملے میں صرف کتاب اللّٰہ کا چلے گا۔ اور نبی نے فرمایا ہے تو نبی کا چلے گا۔ باقی صحابی کچھ بھی ایسا نہیں فرما سکتے ہیں کے جو نبی نے فرمایا ہے مگر صحابی نے خود اپنی طرف سے بھی الگ سے کوئی چیز اسی بات میں فرما دیا ۔ بمعنی جو نبی نے فرمایا ہے تو اس معاملے میں نبی کا ہی چلے گا۔ مگر جو نبی نے نہیں فرمایا ہے تو صحابی نے فرمایا ہے تو صحابی کا چلے گا۔ اور ایسا نہیں ہے کے کوئی بات صحابی نے فرمایا ہو مگر بعد میں اسی بات پر کوئی ولی بھی اپنا الگ سے کوئی بات کہے دے، بس جو صحابی نے فرمایا ہے تو اس معاملے میں صحابی کا ہی چلے گا ، اور کوئی ولی صحابی کے اقوال کا توڑ نہیں کرسکتے ہیں ۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ نے جو فرمایا ہے یا امام شافعی نے فرمایا ہے یا امام حنبل یا امام مالک نے فرمایا ہے تو وہ ہر کوئی اپنے اپنے ذات سے ایسی بات فرماتے ہیں کے جو پہلے سے کسی دوسرے نے نہیں فرمایا ہو۔ اور اگر پہلے سے کسی دوسرے نے فرمایا ہوگا تو پھر اس معاملے میں اسی پہلے والے کا چلے گا۔ نوٹ : عبادت کے طور طریقے مجاہدات وغیرہ ہر کسی کے اپنے اپنے ہیں مگر اقوال اصول میں ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہے۔ اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے جو فرمایا ہے تو وہ اپنی طرف سے وہ چیزیں فرمائی ہیں کے جو پہلے سے کسی نے نہیں فرمایا ہے، اور اگر پہلے سے کوئی بات کسی نے فرمایا ہوتا تو عبد القادر جیلانی بھی اس معاملے میں پہلے والے کی بات لیکر چلتے۔ مگر جو پہلے والے نے نہیں فرمایا ہے تو وہ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں فرما دیا ۔ اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں ایسے معاملات میں فرمائے ہیں کے جو پہلے کسی نے بھی نہیں فرمایا ۔ اسی طرح الغرض ہر مستند ولی ایسے معاملات میں بات اپنی طرف سے فرماتا ہے کے جو پہلے کسی نے بھی نہیں فرمایا ۔ بمعنی وقت بڑہتا گیا اور تجربات بڑہتے گئے اور نئے نئے فرمان بھی آتے گئے۔ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں فرمایا ۔ اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں فرمایا بمعنی ہر کوئی اپنے اپنے وقت میں نئی نئی بات فرماتے ہیں ۔ مگر اس چودھویں صدی میں دو نمبر علماء ایسے ایسے فتوے دیتے ہیں کے شریعت کو رد کر دیتے ہیں ، نبی نے فرمایا ہو تو نبی کا فرمان بھی چھوڑ دیتے ہیں ، صحابی نے فرمایا ہو تو صحابی کا فرمان بھی چھوڑ دیتے ہیں اور تابعین نے فرمایا ہو تو انکا بھی فرمان چھوڑ دیتے ہیں اور جنید بغدادی، شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، عثمان ہارونی، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، وغیرہ وغیرہ جتنے بھی گزشتہ مستند اولیائے کرام نے فرمایا ہے تو انکا فرمان اقوال چھوڑ دیتے ہیں اور دو نمبر علماء اپنی طرف سے فتویٰ جاری کرتے ہیں کیونکہ یہ خود کو نبی کا وارث سمجھتے ہیں تو بس خود چودھری بن کر بیٹھتے ہیں ۔ الغرض حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے ایسے کسی کے بھی فرمان کو رد نہیں کیا جا سکتا، مستند اولیائے کرام ، پیر مشائخ سے یا مستند علماء سے علم حاصل کیجیے یا حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے ذات سے کوئی بھی اصول پوچھ سکتے ہیں۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی اپنی طرف سے کسی بھی معاملے میں کوئی بھی موضوع بیان کریں تو پہلے والے جس کسی مستند شخصیت نے اقوال دیئے ہونگے تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ بھی وہی اقوال دیں گے اور اگر کسی بھی مستند شخصیت کی طرف سے کسی معاملے کا جواب نہیں بھی ہوگا بمعنی کسی نے پوچھا نہیں ہوگا اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی ذات سے پوچھ رہے ہیں تو اگرچہ نئے سوال ہو تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس نئے سوال کا بھی جواب دے سکتے ہیں ۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایسے نہیں ہیں کے گزشتہ کسی بھی نبی ، صحابی ، اولیاء کے اقوال کو چھوڑ کر اپنی طرف سے کوئی اقوال دے دیں، الغرض باریک سا فرق ہونے پر بھی جواب تبدیل ہوسکتا ہے مگر گزشتہ کسی بھی نبی ، صحابی ، اولیاء کے جتنے بھی اقوال ہیں اور وہ جس طرح کے ہیں اور بالکل ویسے ہی ہو تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی بالکل وہی جواب عنایت فرماتے ہیں۔ الغرض حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کسی بھی معاملے کو بہتری اور سمجھوتے کو بھی سمجھتے ہیں ۔ ایسے دو نمبر علماء کے تابعداری سے بچیں کے جو خود فتویٰ دیتے ہیں اور نام دین کا لگاتے ہیں کے جیسے پرانی رسمی دینی بات ہو صحابی یا پیغمبروں یا گزشتہ بڑے ولیوں کے اقوال نام سے جڑا ہوا ہو ۔ کے جیسے کسی دوسرے نے فرمایا ہے مگر حقیقت میں دو نمبر علماء اپنا نام چھپاتے ہیں تاکے انکی اپنی باتوں کو وزن ملے اور یہ سمجھتے ہیں کے یہ بھی نبیوں ، صحابہ اور بڑے ولیوں کی اس معاملے میں بھی نقل اتاریں گے اور اپنی طرف سے دین میں تبدیلی کریں گے اور یہ گمراہی ہے، اپنے ذاتی قول کو دین کا نام دینا۔ آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

0 Comments:

Post a Comment

اپنا پیغام یا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے:
اگر آپ کا کوئی بھی سوال یا درخواست ہے، تو براہ کرم اسے مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر بھیجیے۔ آپ کا ہر پیغام ہمارے پاس محفوظ رہتا ہے۔
عمل درآمد کا طریقہ: جیسے ہی ہم آپ کی درخواست پر کام کرنا شروع کریں گے، آپ کو ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا جائے گا اور آپ کا پیغام بلاگ پر پبلک کر دیا جائے گا۔
تکمیل کا ثبوت: اگر آپ کا میسج پبلک ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی درخواست پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور آپ کے متعلقہ سوال کا جواب دے دیا گیا ہے۔

اہم شرط: آپ کے سوال یا درخواست کا جواب دینا تبھی قابلِ قبول اور ممکن ہوگا جب آپ نے ہمارے بلاگ کو فالو کیا ہو۔ اگر آپ نے ابھی تک ہمارے بلاگ کو فالو نہیں کیا، تو براہ کرم ہمارے بلاگ کے ہوم پیج پر جائیے اور وہاں سائیڈ بار یا نیچے موجود 'Follow / Subscribe' کے بٹن پر کلک کر کے ہمارے بلاگ کے ممبر بنیے، تاکہ ہم آپ کی بہترین رہنمائی کر سکیں۔

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home