سوچنے کا ذریعے موت، سوچ کس بیماری کا کوڈ ورڈ ہے ؟
حکیم آصف آرائیں ہومیوپیتھک و سپیشلسٹ جڑی بوٹی اور ماہر فلکیات ایسے مریضوں کا علاج کرتے ہیں کے جو مریض دائمی ، پیچیدہ بیماریوں کے شکار ہوگئے ہو اور وہ مریض کے جن کا علاج نہیں ہوسکتا ہو۔ نوٹ: حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایسے مریضوں کا بھی علاج کرلیتے ہیں کے جن مریضوں کا عام روایتی ڈاکٹر علاج نہیں کرتے ہیں، بمعنی ایسا بھی انجیکشن ہوتا ہے کے ڈاکٹر کسی کو بھی وہ انجیکشن لگاتے ہیں تو متعلقہ مریض فکس ایک سال کے بعد مر جاتا ہے۔ - - اور ایسے بھی slow poison کے ادویات ہوتے ہیں کے جو الگ الگ طریقوں سے مریض کو لگایا جاتا ہے، اور ایسے متعلقہ مریضوں کا اس بنیادی مسئلے کا علاج نہیں کرتے ہیں۔ صارفین نے اپنی زندگی میں سنا ہوگا کے کوئی مریض ایسے ہوتے ہیں کے جو سوچ سوچ کر مر جاتے ہیں، چونکہ دنیا میں یہ بات بھی مشہور ہے۔ مگر ہمارا سائنسی الگورتھم نظریے کے مطابق دنیا میں کوئی ایک بھی ایسا مریض نہیں ہے کے جو روز اول سے لیکر اب سن عیسوی 2026 کے ستمبر تک کوئی ایک انسان سوچنے کی وجہ سے مر گیا ہو۔ اگر کوئی ڈاکٹر یا دنیا کا کوئی بھی سائنسدان اس بات کا توثیق کردے کے سوچنے کی وجہ سے انسان یا کوئی بھی جاندار مخلوق مر جاتے ہیں ، کوئی ایک بھی مر گیا ہو تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس متعلقہ سائنسی رپورٹ اور ڈاکٹر کے کہے گئے رپورٹ کو سرے بنیادی طور سے مسترد کرتے ہیں۔ کیونکہ حکیم آصف آرائیں کے پاس دنیا کائنات کا کوئی ایسا شواہد نہیں ملے ہیں کے جن کی بنیاد پر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود توثیق کردے کے فلاں کوئی بھی انسان سوچنے کی وجہ سے مر گیا ہے۔ آدم و حوا سے لیکر سن عیسوی 1600 بمعنی آج سن عیسوی 2026 سے تقریباً 300 یا 400 سال پہلے نکل جائیں تو کوئی ایک بھی انسان پوری دنیا میں کہیں بھی کوئی ایسا ریکارڈ میں نہیں آیا ہے کے جو سوچنے کی وجہ سے مر گیا ہو۔ نمبر دو: سن عیسوی 1600 کے بعد بمعنی اب تک سن عیسوی 2026 تک کوئی بھی انسان یا جنات ، چرند و پرند سوچنے کی وجہ سے نہیں مر سکتے ہیں کیونکہ یہ سائنسی عقل کے بھی خلاف ہے۔ نمبر تین : جب روز اول سے لیکر آخر سن عیسوی کے مطابق 1600 تک بھی کوئی بھی انسان سوچنے کی وجہ سے مرنے پر ریکارڈ میں نہیں آئے ہیں اور سن عیسوی 1600 کے بعد سوچنے کے ذریعے مر جانا یہ سائنسی عقل کے بھی خلاف ہے تو پھر اسکا مطلب ہے کے سوچنے کی وجہ سے روز آخر تک بمعنی جب تک دنیا قائم ہے تو سوچنے کی وجہ سے کوئی بھی انسان یا جنات نہیں مر سکتے ہیں۔ نمبر چار: آدم و حوا سے لیکر آخری نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے بھی نبی آئے ہیں اور ان پر جتنی بھی کتابیں اتری ہیں تو ان کتابوں میں کسی ایک کتاب میں بھی اس بات کی تصدیق نہیں ہے کے کوئی انسان یا جنات یا چرند پرند سوچنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں یا پیشنگوئی کے طور پر بھی ایسا ذکر نہیں ہے کے مستقبل میں کبھی یا دنیا ختم ہونے سے پہلے آخری وقتوں میں بھی کوئی لوگ سوچنے کی وجہ سے مر جائیں گے۔ نمبر پانچ: کسی بھی نبیوں کے کوئی بھی صحابی رہے ہو یا کسی بھی دور میں فرعون ، نمرود ، شداد وغیرہ وغیرہ کوئی بھی مشہور شخصیات رہے ہو تو ان میں بھی کوئی بھی انسان سوچنے کی وجہ سے نہیں مرا، بمعنی تاریخ میں بھی ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ مگر ابھی کچھ سالوں پہلے بمعنی پچاس سال پہلے یا ستر سال پہلے یا سو سال پہلے یہ بات ریکارڈ میں آگئی کے بندہ سوچنے کی وجہ سے مر جاتا ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایک بار دور مسجد سے اپنے گھر جا رہے تھے اور راستے میں ایک گلی ایسا تھا کے جہاں پر میت ہو چکا تھا، حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے آپ سے کہا کے چلو ہم دیکھتے ہیں کے کون بندہ دنیا سے چلا گیا ہے اور کیسے چلا گیا ہے بمعنی کوئی بیماری وغیرہ۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس میت کے گھر کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کے بندہ انتقال ہوگیا ہے تو یہ کیسے ہوا ۔ چونکہ یہ واقعہ عیسوی 2026 سے تقریباً 20 سال پہلے کا ہے۔ شخص نے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ سے کہا کے یہ بندہ بہت ذیادہ سوچتا تھا اور سوچنے کی وجہ سے مر گیا ۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے جیسے ہی یہ بات فلاں شخص کے منہ سے سنا تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ یکدم بہت چونک گئے کے جیسے دنیا کا کایا ہی پلٹ گیا ہو۔ کے یہ شخص کیا کہے رہا ہے۔ حکیم آصف آرائیں حیراں و ششدر رہے گئے اور کہا کے یہ بتائیے کے آپ کو کیسے پتا چلا کے یہ مرنے والا شخص سوچنے کی وجہ سے مرا ہے اور پھر اس متعلقہ شخص نے جواب دیا کے ڈاکٹر نے کہا تھا کے یہ بہت ذیادہ سوچتا ہے اور اسے سوچنے سے منع کرتے تھے مگر یہ مانتا ہی نہیں تھا اور سوچتے رہتا تھا اور یہاں تک کے بندہ مر گیا۔ پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے فوراً سمجھ لیا کے یہ کوئی بہت گہری سازش ہے اور اس بیماری پر پردہ ڈالا گیا ہے جس کی وجہ سے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ چونک گئے کے کوئی وجہ ہے مگر یہ بتایا نہیں جا رہا اور جھوٹ بولا جا رہا ہے کے فلاں شخص بہت سوچتا تھا تو وہ مر گیا۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اس واقعے کو نوٹ کرلیا کیونکہ یہ واقعہ ایسا تھا کے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کے بندہ سوچنے کی وجہ سے مرا ہے۔ اور پھر بعد میں کبھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو انکے اپنے ابو نے کہا کے ایک انجیکشن ایسا بھی ہوتا ہے کے ڈاکٹر لگاتے ہیں تو بندہ ایک سال کے بعد مر جاتا ہے۔ اور جب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو یہی انجیکشن لگایا گیا تب یہی واقعہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کیساتھ بھی رونماء ہوا ہے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ مختلف ڈاکٹروں کے پاس جاتا تھا اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا ابو بھی ساتھ میں جاتا تھا تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے مجھے زہر کا انجکشن لگایا ہے اور ثبوت کے طور پر محمد نے فرمایا ہے کے جاکر میرا نام لینا ۔ یہاں محمد کا نام ایک اضافی ثبوت ہے جبکہ حقیقت میں حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی جانتے ہیں مگر محمد کا حوالہ تو یہ محمد کے اپنے نام سے ہے کے میرا نام لینا تو علاج ہو جائے گا۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ محمد کا نام لیتے کے محمد نے فرمایا ہے کے تمہیں انجیکشن لگا ہے اور ڈاکٹر سے کہو کے میرا علاج کرو۔ مگر ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے ابو سے کہتے کے حکیم آصف آرائیں کو کوئی بیماری نہیں ہے اور یہ صرف سوچتا ہے، اور بس یہ سوچا نہیں کرے۔ ، ، حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنے دلیل کو مضبوط بنانے کے لیے کہتے کے مجھے تو محمد نے کہا ہے، جبکہ حکیم آصف آرائیں اس بات کا تذکرہ نہیں کرتے کے مجھے خود بھی پتا ہے۔ اور ڈاکٹر محمد کے کہنے نام کو بھی سن کر چپ ہو جاتے اور یہ نہیں کہتے کے ہاں ،، محمد نے کہا ہے اور یہ بھی نہیں کہتے کے نہیں ، محمد نے نہیں کہا۔ بمعنی اسکا مطلب ہے کے ڈاکٹر اپنی طرف سے تصدیق نہیں کر رہے کے ہاں محمد نے کہا ہے، بلکہ چپ ہو جاتے ہیں اور ڈاکٹر جوابی طور پر کہتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں بہت سوچتا ہے اور بس یہ سوچا نہیں کرے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے تم میرے ساتھ ایسا ضد لگاتے ہو اور اپنی بات کو ہی سند بناتے ہو اور حقیقت کو چھپاتے ہو اور میں تمہیں جانتا ہوں اور یہ تمہارا کھیل نہیں چلے گا۔ مگر ڈاکٹر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے کہنے پر چپ ہو جاتے اور یہ نہیں کہتے کے ہاں محمد نے کہا ہے اور یہ بھی نہیں کہتے کے نہیں ، محمد نے نہیں کہا ہے بس آنکھیں کھل جاتی کے کیا کہیں، حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنی بات پر قائم رہے اور کہا کے مجھے انجیکشن لگا ہے اور میں اپنی بات پر قائم رہوں گا۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا ابو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے طرف بھی تھا اور ڈاکٹر کا بھی بات سنتا تھا، تب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ابو سے منع کردیا کے ڈاکٹر کا کہنا نہیں ماننا ہے کیونکہ یہ حقیقت چھپاتے ہیں ۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے کہے دیا کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنا علاج کروا لے گا اگرچہ کہیں سے بھی کروائے۔ ڈاکٹر نے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے ابو سے کہا کے حکیم آصف آرائیں کے ذات پر اور اس کے کہنے پر توجہ نہیں دو ، اگرچہ یہ کچھ بھی کہتا ہے کے مجھے تکلیف ہے وغیرہ وغیرہ تو اسکا کوئی کہنا نہیں مانو اور بس اس سے کہو کے سوچا نہیں کرے ۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ پر ایک بات ڈاکٹر زبردستی فٹ کر رہے تھے کے ہم یہ تصدیق کردیں کے حکیم آصف آرائیں بہت ذیادہ سوچتا ہے اور اس کو کوئی بیماری نہیں ہے اور کوئی بھی حکیم آصف آرائیں کی ذات پر توجہ نہیں دے۔ مگر عبد القادر جیلانی نے کہا تھا کے خود اپنا علاج کرنا نہیں چھوڑنا ہے اور ایک ڈاکٹر علاج نہیں کرے گا تو دوسرے کے پاس جانا ہے اور دوسرا نہیں کرے گا تو تیسرے کے پاس جانا ہے اور تیسرا نہیں کرے گا تو چوتھے کے پاس جانا ہے، اگرچہ ایسے جتنے بھی ڈاکٹر گزرتے جائیں مگر عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ دعویٰ تھا کے کوئی ڈاکٹر تیرا علاج ضرور کرے گا اور توں بچ جائے گا۔ بس تبھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا علاج کے لیے ادھر ادھر جاتا رہا۔ اور بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اس واقعے سے فوراً سمجھ لیا کے جب ڈاکٹر کسی کو ایسا انجیکشن لگاتے تھے تو ڈاکٹر کوڈ ورک میں کہتے ہیں کے یہ بندہ بہت سوچتا ہے۔ بمعنی ڈاکٹر یہ نہیں کہتے کے انجیکشن لگایا ہے بلکہ ڈاکٹر کہتے ہیں کے بہت سوچتا ہے،۔ جس سے بندہ مر گیا۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اس بیماری کا کوڈ نام بھی سمجھ لیا اور فوراً سمجھ لیا کے جو گزشتہ سالوں پہلے جو میت ملا تھا تو اس کو بھی یہی انجیکشن لگایا ہے اور اس کو بھی ہر جگہ ڈاکٹر یہی کہتے کے کوئی بیماری نہیں ہے اور بس بندہ بہت سوچتا ہے۔ اور بس پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا علاج تو کروا لیا ہے مگر پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے تہیہ کرلیا کے جس مریض کا ڈاکٹر علاج نہیں کرتے ہیں تو حکیم آصف آرائیں اس مریض کا خود علاج کرے گا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس وجہ پر خود بھی حکیم بن گئے اور دل کی بیماری ، خون کی خرابی، جگر اور پتھے کی بیماری، شوگر اور بلڈ پریشر لو اور ہائی و دیگر ہر بڑی بیماریوں کا علاج گارنٹی کیساتھ کرسکتے ہیں اور یہ علاج معالجہ کھولنے کا بھی یہی وجہ ہے کے جو ڈاکٹر سے ٹھیک نہ ہو سکیں یا جو پیچیدہ بیماریوں میں مبتلاء ہو یا جن لوگوں کو اپنی بیماری کا پتا ہی نہ چلے کے بیماری ہے کونسا تو وہ لوگ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ سے اپنا علاج گارنٹی کیساتھ کروا سکتے ہیں ۔
Labels: Health
.png)

0 Comments:
Post a Comment
اپنا پیغام یا تبصرہ یہاں تحریر کیجیے:
اگر آپ کا کوئی بھی سوال یا درخواست ہے، تو براہ کرم اسے مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر بھیجیے۔ آپ کا ہر پیغام ہمارے پاس محفوظ رہتا ہے۔
عمل درآمد کا طریقہ: جیسے ہی ہم آپ کی درخواست پر کام کرنا شروع کریں گے، آپ کو ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا جائے گا اور آپ کا پیغام بلاگ پر پبلک کر دیا جائے گا۔
تکمیل کا ثبوت: اگر آپ کا میسج پبلک ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کی درخواست پر عمل درآمد ہو چکا ہے اور آپ کے متعلقہ سوال کا جواب دے دیا گیا ہے۔
اہم شرط: آپ کے سوال یا درخواست کا جواب دینا تبھی قابلِ قبول اور ممکن ہوگا جب آپ نے ہمارے بلاگ کو فالو کیا ہو۔ اگر آپ نے ابھی تک ہمارے بلاگ کو فالو نہیں کیا، تو براہ کرم ہمارے بلاگ کے ہوم پیج پر جائیے اور وہاں سائیڈ بار یا نیچے موجود 'Follow / Subscribe' کے بٹن پر کلک کر کے ہمارے بلاگ کے ممبر بنیے، تاکہ ہم آپ کی بہترین رہنمائی کر سکیں۔
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home