×
Menu
Follow
Label
Education Hakim Asif Arain Health News Report Religion
About Us Privacy Policy Cognitive Profile Platforms

Saturday, 3 October 2026

صرف دین اسلام کے نام سے اپنا فتویٰ دینا گمراہی ہے بحوالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی وضاحت دینا گمراہی

صرف اسلام دین کے نام پر فتویٰ دینے کے معاملے پر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث فرماتے ہیں کے کوئی بھی ولی اللہ اگرچہ وہ کوئی حقیقت میں علماء ہو یا پیر ہو ، اگر وہ صرف اسلام دین کے نام پر اپنا فتویٰ جاری کرے تو وہ گمراہ ہے۔ کوئی بھی ولی اپنے ذاتی فتوے کو شریعت کا نام نہیں دے سکتا ہے، اگرچہ کوئی علماء ہو یا پیر ، مفتی ، فاضل وغیرہ۔ یہ بات یاد رکھیے کے شریعت صرف کتاب اللّٰہ کو کہتے ہیں ، کتاب اللّٰہ میں قرآن، تورات، انجیل وغیرہ وغیرہ آسمانی کتب ہیں تو اسے شریعت کہتے ہیں۔ شریعت کا مطلب ہے کے یہ اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان ہے ۔ اور یہ ہر ذات کے ذاتی قول سے افضل ہے، شریعت کے معاملے میں آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی فرماتے ہیں کے میں خود بھی شریعت کے خلاف نہیں جاسکتا ہوں، کیونکہ شریعت اللّٰہ جل جلالہ کے فرمان کو کہتے ہیں ۔ لہذا صرف شریعت کی بات کو ہی شریعت سے منسوب کیا جاسکتا ہے جیسے قرآن میں لکھا ہے یا قرآن کہتا ہے ، تورات میں لکھا ہے یا تورات کہتا ہے، انجیل میں لکھا ہے یا انجیل فرماتا ہے، بمعنی اسکا مطلب ہے کے شریعت فرماتا ہے، اور شریعت کا مطلب ہے کے اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے ۔ لہذا کوئی اللّٰہ جل جلالہ کا نام لے لے یا شریعت کا نام لے لے برابر ہے۔ کتاب اللّٰہ کے بعد نبیوں کا اپنا قول ہوتا ہے، کوئی یہ بھی کہے سکتے ہیں کے نبیوں کا اپنا فرمان ہوتا ہے۔ جسے لکھ جانے کے بعد حدیث کہتے ہیں۔ حدیث کا مطلب ہے کے فلاں بات کتاب سے دیکھ کر بتائی گئی ہے، اور اگر کوئی کہے کے فلاں نبی نے ایسا فرمایا ہے تو اسکا مطلب ہے کے نبی نے فرمایا ہے اور یہ مستند بات ہے اور کتاب اللّٰہ سے تصدیق شدہ ہے۔ بمعنی نبی کا نام اہم ہے ، اور حدیث نہیں، کیونکہ حدیث دنیا دار علماء کے خود کے بنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ نبی نے خود یہ بھی فرمایا ہے کے اگر کوئی شخص اپنی طرف سے بات کہے اور اس بات کو نبی سے منسوب کرے کے نبی نے فرمایا ہے تو وہ شخص جھوٹ بولے تو اپنا ٹھکانہ جہنم میں دیکھ لے۔ لہذا نبی کا نام اہم ہے کے جیسے کتاب اللّٰہ ہے، مگر حدیث نام اہم نہیں ہے کیونکہ کتاب اللّٰہ موجود ہے۔ نبی کے فرمان کو شریعت کہے سکتے ہیں مگر یہ لازم ہے کے کہا جائے کے یہ نبی نے فرمایا ہے بمعنی نبی کا نام لیکر شریعت کا کہے سکتے ہیں مگر ڈائریکٹ شریعت کا نہیں کہے سکتے۔ نبی کا نام لینے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کے فلاں بات فلاں نبی کی طرف سے ہے اور پھر اس بات کا اتنا وزن ہوتا ہے، بمعنی نبی کا فرمان ، صحابہ کے فرمان سے ذیادہ افضل ہے، اور حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ بھی اگر کچھ اپنی طرف سے فرماتے ہیں تو اسے ڈائریکٹ شریعت نہیں کہتے ہیں کے یہ بات شریعت ہے، بلکہ کہا جاتا ہے کے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ہے کے یہ ایسی ایسی بات ہے تو انکے اپنے نام سے بات کی پہچان ہوتی ہے ، ڈائریکٹ شریعت کے نام سے نہیں ۔ بلکہ پھر حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ یا حضرت سیدنا علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا ہے اور شریعت کے نام سے منسوب ہوتا ہے مگر انکے اپنے نام کیساتھ شریعت کے نام کیساتھ منسوب ہوتا ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کے فلاں بات کسی شخصیت نے خود کہا ہے ۔ اسی طرح حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا اور فاطمہ الزہراء، سکینہ و زینب وغیرہ وغیرہ انکے اپنے نام سے منسوب ہوکر پھر شریعت سے یا اسلام دین سے منسوب ہوتا ہے کے یہ اسلام دین میں ہے ، یا فلاں وقت میں فلاں شخصیت نے دین میں یہ اضافہ کر دیا تھا۔ بمعنی شخصیت کا نام بھی واضح ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت سیدنا جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت سیدنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ، امام ابو حنیفہ و امام شافعی ، امام مالکی اور امام حنبل ، مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ، الغرض کوئی بھی شخصیات اپنے دور زمانہ میں دین میں کچھ بھی اضافی بہتری کرتے ہیں تو وہ اپنے نام سے کرتے ہیں۔ جیسے اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ، کوئی بھی شخصیت اپنے طرف سے کچھ بھی فیصلہ سناتے ہیں تو وہ اپنے نام سے سناتے ہیں۔ اور پھر اسلام دین میں وہ اقوال مستند کہلاتے ہیں کیونکہ فیصلہ کرنے والا شخصیت خود مستند ہے۔ مگر چودھویں صدی میں دو نمبر علماء اپنی طرف سے دین میں کوئی بھی فتویٰ رد و بدل کرتے ہیں تو وہ ڈائریکٹ اسلام دین سے یا شریعت سے منسوب کرکے فتویٰ جاری کرتے ہیں جیسے دو نمبر علماء ایسے بیان کرتے ہو کے نبی نے فرمایا ہے بمعنی نبی کا حوالہ کرکے فتویٰ جاری کرتے ہیں یا اسلام دین کا نام سے فتویٰ جاری کرتے ہیں یا شریعت کے نام سے فتویٰ جاری کرتے ہیں۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے جھوٹ میں نبی کے نام سے اپنا فتویٰ جاری کرنا کفر ہے ۔ اور شریعت کا نام تو لے ہی نہیں سکتا کیونکہ کتاب اللّٰہ محدود ہے تیس سپارے ہیں اور تبھی جھوٹ نہیں بول سکتا مگر نبی کے نام سے جھوٹ بول سکتے ہیں کیونکہ کوئی بھی کتاب کو حدیث کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ اور نبی سے منسوب کیا جاسکتا ہے ۔ لہذا نبی کے نام سے جھوٹ میں منسوب کرنا کفر ہے ۔ اور دین اسلام کے نام سے منسوب کرنا گمراہی ہے۔ لہذا اپنی بات کو نہ تو نبی کے نام سے منسوب کرسکتے ہیں اور نہ شریعت کے نام سے منسوب کرسکتے ہیں اور نہ دین اسلام کے نام سے منسوب کرسکتے ہیں کیونکہ دین اسلام کے نام سے منسوب کرنے کا مطلب ہے کے کسی صحابی نے فرمایا ہے بمعنی خلفائے راشدین میں سے کسی نے ، یا امام حسن نے یا حسین نے یا عباس نے ، سیدہ فاطمہ نے یا عائشہ صدیقہ نے، جنید بغدادی، امام ابو حنیفہ و شافعی و مالکی و حنبل ، شیخ عبد القادر جیلانی یا مستند ولیوں میں سے ہی کسی نے یا کسی بھی نبی نے، الغرض حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر اب تک کسی بھی مستند شخصیت نے فرمایا ہے ، بمعنی دو نمبر علماء اپنے ذاتی بیان کو دوسرے ذات سے منسوب کر کے دین کو خراب کرتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہیں کے یہ خود نبیوں کے وارث ہیں اور یہ بھی نبیوں کی طرح ، صحابہ کی طرح ، تابعین کی طرح ، مستند ولیوں کی طرح خود بھی دین میں رد و بدل کرتے ہیں اور رسک لگاتے ہیں کے انکا اپنا خود کا درجہ ہے ، جبکہ یہ حقیقت میں جوتی کے نوک کے برابر بھی نہیں یے۔ لہذا دوسرے ذات کے نام کیساتھ جیسے صحابہ کے یا مستند ولیوں کے ، الغرض دوسرے کسی بھی ذات کے نام کیساتھ اپنا فتویٰ جاری نہیں کرسکتے کیونکہ یہ عوام کو گمراہ کرنا کہلاتا ہے ۔ جھوٹ موٹ کا عزت کمانا اور دین کو خراب کرنا۔ جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود فرماتے ہیں ، کوئی بھی فتویٰ دیتے ہیں یا الغرض شریعت کا نام رکھتے ہیں مگر اپنا نام بھی ساتھ رکھتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث نے فرمایا کے فلاں شریعت ہے ، قول ہے یا فتویٰ وغیرہ وغیرہ کچھ بھی الفاظ کہے دیں مگر نام حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث کے اپنے نام سے ہے۔ تاکے ناظرین سمجھ لیں کے ہر اصول شریعت ہے مگر یہ کس نے فرمایا تو پتا چلا حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث نے خود فرمایا۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنا قول کہتے ہیں ، فرمان کہتے ہیں، فتویٰ کہتے ہیں مگر نام حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا اپنا ہے۔ اگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نبی کا نام بھی لیتا ہے یا صحابی کا تب بھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی واضح ہوتے ہیں کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے خود فرمایا کے نبی نے فرمایا ہے یا صحابی نے فرمایا ہے، یا شریعت ہے وغیرہ وغیرہ، الغرض کچھ بھی ہے تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ذات کے اپنے نام سے ہے۔ مگر دوسرے دو نمبر علماء اپنا نام واضح نہیں کرتے ہیں بلکہ صرف شریعت کا نام رکھتے ہیں یا اسلام دین کا نام رکھتے ہیں تو یہ سمجھ لیجیے کے وہ عالم گمراہ ہے بمعنی صرف اس وجہ سے گمراہ ہے ، اور دوسری وجہ ہو تو وہ الگ بات ہے کے گمراہ ہے یا کفر ہے ، کیونکہ دو نمبر علماء میں کفر ہونا بھی ممکنات میں سے ہے۔ اپنے ذاتی قول کو ڈائریکٹ دین کے نام سے منسوب نہیں کیا جاسکتا کے جیسے نبی نے فرمایا ہے ۔ یا صحابی یا کسی بھی مستند ولی نے فرمایا ہے، الغرض ایمانداری تو یہ ہے کے کسی عام بندے کا بھی نام نہیں لو کے اسکا کہنا ہے بلکہ سچ کہو، اگر اپنا خود کا نظریہ ہے تو اپنا نظریہ ظاہر کر کے پیش کرو، اگرچہ حقیقی عالم ہو یا عام بندہ۔ کوئی بھی عالم اگر حقیقت میں بھی عالم ہو تب بھی وہ اس حیثیت میں نہیں پہنچتا کے وہ حق کے خلاف جاسکتا ہے ۔ حق کا برتری عالم درجے سے اوپر ہے تو کوئی بھی حقیقی عالم بھی خود کو عالم سمجھ کر بھی حق کے خلاف نہیں جاسکتا ہے۔ اگر کہیں پر کسی بات میں دس یا پچاس علماء کا آپس میں اتفاق ہو کے ایسا فتویٰ ہونا چاہیے تب بھی یہ نہیں کہے سکتے ہیں کے تمام علماء کا آپس میں اس بات پر اتفاق ہے بلکہ ایسا کہے سکتے ہیں کے دس علماء کا اتفاق ہے یا بیس یا پچاس اور انکی فہرست بھی شمار ہوگئی ، مگر ہر علماء کا مجموعی فتویٰ شمار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بمعنی اگر کوئی بات کوئی انسان اپنی طرف سے کہے تو وہ بات اسی شخص کی طرف سے ہی کہلائے گا اور نہ کے تمام روئے زمین کے علماء یا پیروں کے نام سے فتویٰ ہوگا کیونکہ یہ دین خراب کرتا ہے ۔ بس جب مستند شخصیت خود فتویٰ دے گا تو وہ الگ پہچانا جائے گا اور جو دو نمبر شخصیت فتویٰ دیں گے تو وہ الگ پہچانے جائیں گے۔ اور دنیا کسی کا بھی قول سنے گا تو دنیا خود دیکھ لے گا کے کہنے والا کون ہے بمعنی بات جیسی بھی ہے مگر کہنے والا کون ہے۔ جیسے کہتے ہیں کے حضرت علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا تو دنیا بات تو دیکھتی ہے مگر یہ بھی دیکھتی ہے کے فرمایا کس نے۔، اس سے پتا چلتا ہے کے حضرت علی اسد اللہ رضی اللّٰہ عنہ خود آخری نبی کے چوتھے خلیفہ ہے۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ بڑے پیر ہیں بمعنی اپنے وقت زمانہ میں ایک بڑے پیر محی الدین غوث الاعظم کے نام سے مشہور ہیں ۔ جنید بغدادی کا نام آتا ہے تو یہ اپنے زمانے میں مشہور شخصیت ہیں ولیوں میں ، مجدد الف ثانی کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ گزشتہ عرصے کے آخری مجدد ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ اجمیر والے ہیں اور عثمان ہارونی کے مرید ہیں یا غوث الاعظم کے نام سے پہچانے جاتے ہیں کے غوث الاعظم نے خود انہیں ولیوں میں بڑا بنایا ہے ہے۔ فرید الدین کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ بختیار کاکی کے مرید ہے یا صابر کلیری کے پیر ہے، نظام الدین کے پیر ہیں ۔ امام ابو حنیفہ کا نام آتا ہے تو پتا چلتا ہے کے یہ اپنے وقت کے امام رہے چکے ہیں اور امام شافعی بھی بڑے امام رہے چکے ہیں ، امام حنبل اور امام مالک بھی بڑے امام رہے چکے ہیں۔ اسی طرح ہر مستند شخصیت کا اپنا پہچان ہوتا ہے اور اسی پہچان کیساتھ اس کے اپنے اقوال ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے دو نمبر علماء خود اپنا اقوال نہیں بنا سکتے ہیں اور اگر بنائیں گے تو خود اپنے نام سے بنائیں گے مگر دین کے نام سے نہیں ، اور پھر شخصیت کے لحاظ سے ہر کسی کے اقوال میں پتا چل جائے گا کے فلاں بات فلاں کے اپنے قول ہیں۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے جس سوال کا جواب کتاب اللّٰہ میں ہے تو اس معاملے میں صرف کتاب اللّٰہ کا چلے گا ۔ اور جو بات کتاب اللّٰہ میں نہیں ہے اور نبی کے اقوال میں ملتے ہیں تو نبی کا اقوال چلے گا ۔ اور جو بات نبی کے اقوال میں نہیں ملتے ہیں بمعنی زمانہ آگے بڑھ گیا ہے اور نبی دنیا سے جا چکے ہیں تو ابو بکر کے اقوال میں ہیں تو انکا اقوال چلے گا۔ اور زمانہ مذید آگے بڑھ گیا ہے ، تو اس زمانے کے حساب سے حضرت سیدنا ابو بکر کے اقوال سے جواب نہیں ملتا ہے تو عمر نے جواب دیا ہے ۔ اور زمانہ مذید آگے بڑھ گیا ہے اور عمر بھی دنیا سے چلا گیا ہے تو عثمان غنی کے اقوال چلیں گے ، اور عثمان غنی بھی دنیا سے چلے گئے ہیں تو علی جو ابوبکر و عمر و عثمان کے مددگار تھے اور اپنے وقت میں خود علی کے اقوال چلیں گے ۔ اور زمانہ مذید آگے بڑھ گیا ہے اور علی نے بھی بعض چیزوں کے جواب نہیں دیئے بمعنی کسی نے پوچھا نہیں اور نئے زمانے میں نئی چیزیں آرہی ہیں تو حسن نے جواب دیا ہے بمعنی حسن کا اقوال چلے گا۔ اسی طرح ترتیب وار ہوتے ہوتے زمانہ ایسے آگے بڑھ گیا ہے کے جس سوال کا جواب کتاب اللّٰہ میں نہیں ہے اور نبی اور نبی کیساتھ رہنے والے صحابہ بھی دنیا میں نہیں ہے تو جنید بغدادی، عبد القادر جیلانی، بختیار کاکی، عثمان ہارونی، فرید الدین، صابر، بمعنی ہر کسی نے اپنے اپنے زمانے میں نئے نئے سوالوں کے جواب دیئے ہیں۔ اور مجدد الف ثانی اور اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اور اس موجودہ دور زمانہ میں بھی وقت کے مستند اولیاء اللہ بھی نئے نئے سوالوں کے جواب دیتے ہیں بمعنی اسکا مطلب ہے کے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، یہ وہی دین چلا آ رہا ہے کے جو نبی کے دور کا ہے۔ مگر ایک بات سمجھ لیجیے کے جو بات کتاب اللّٰہ میں ہے تو اس معاملے میں صرف کتاب اللّٰہ کا چلے گا۔ اور نبی نے فرمایا ہے تو نبی کا چلے گا۔ باقی صحابی کچھ بھی ایسا نہیں فرما سکتے ہیں کے جو نبی نے فرمایا ہے مگر صحابی نے خود اپنی طرف سے بھی الگ سے کوئی چیز اسی بات میں فرما دیا ۔ بمعنی جو نبی نے فرمایا ہے تو اس معاملے میں نبی کا ہی چلے گا۔ مگر جو نبی نے نہیں فرمایا ہے تو صحابی نے فرمایا ہے تو صحابی کا چلے گا۔ اور ایسا نہیں ہے کے کوئی بات صحابی نے فرمایا ہو مگر بعد میں اسی بات پر کوئی ولی بھی اپنا الگ سے کوئی بات کہے دے، بس جو صحابی نے فرمایا ہے تو اس معاملے میں صحابی کا ہی چلے گا ، اور کوئی ولی صحابی کے اقوال کا توڑ نہیں کرسکتے ہیں ۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ نے جو فرمایا ہے یا امام شافعی نے فرمایا ہے یا امام حنبل یا امام مالک نے فرمایا ہے تو وہ ہر کوئی اپنے اپنے ذات سے ایسی بات فرماتے ہیں کے جو پہلے سے کسی دوسرے نے نہیں فرمایا ہو۔ اور اگر پہلے سے کسی دوسرے نے فرمایا ہوگا تو پھر اس معاملے میں اسی پہلے والے کا چلے گا۔ نوٹ : عبادت کے طور طریقے مجاہدات وغیرہ ہر کسی کے اپنے اپنے ہیں مگر اقوال اصول میں ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہے۔ اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے جو فرمایا ہے تو وہ اپنی طرف سے وہ چیزیں فرمائی ہیں کے جو پہلے سے کسی نے نہیں فرمایا ہے، اور اگر پہلے سے کوئی بات کسی نے فرمایا ہوتا تو عبد القادر جیلانی بھی اس معاملے میں پہلے والے کی بات لیکر چلتے۔ مگر جو پہلے والے نے نہیں فرمایا ہے تو وہ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں فرما دیا ۔ اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں ایسے معاملات میں فرمائے ہیں کے جو پہلے کسی نے بھی نہیں فرمایا ۔ اسی طرح الغرض ہر مستند ولی ایسے معاملات میں بات اپنی طرف سے فرماتا ہے کے جو پہلے کسی نے بھی نہیں فرمایا ۔ بمعنی وقت بڑہتا گیا اور تجربات بڑہتے گئے اور نئے نئے فرمان بھی آتے گئے۔ مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں فرمایا ۔ اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وقت میں فرمایا بمعنی ہر کوئی اپنے اپنے وقت میں نئی نئی بات فرماتے ہیں ۔ مگر اس چودھویں صدی میں دو نمبر علماء ایسے ایسے فتوے دیتے ہیں کے شریعت کو رد کر دیتے ہیں ، نبی نے فرمایا ہو تو نبی کا فرمان بھی چھوڑ دیتے ہیں ، صحابی نے فرمایا ہو تو صحابی کا فرمان بھی چھوڑ دیتے ہیں اور تابعین نے فرمایا ہو تو انکا بھی فرمان چھوڑ دیتے ہیں اور جنید بغدادی، شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، عثمان ہارونی، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، وغیرہ وغیرہ جتنے بھی گزشتہ مستند اولیائے کرام نے فرمایا ہے تو انکا فرمان اقوال چھوڑ دیتے ہیں اور دو نمبر علماء اپنی طرف سے فتویٰ جاری کرتے ہیں کیونکہ یہ خود کو نبی کا وارث سمجھتے ہیں تو بس خود چودھری بن کر بیٹھتے ہیں ۔ الغرض حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے ایسے کسی کے بھی فرمان کو رد نہیں کیا جا سکتا، مستند اولیائے کرام ، پیر مشائخ سے یا مستند علماء سے علم حاصل کیجیے یا حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے ذات سے کوئی بھی اصول پوچھ سکتے ہیں۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی اپنی طرف سے کسی بھی معاملے میں کوئی بھی موضوع بیان کریں تو پہلے والے جس کسی مستند شخصیت نے اقوال دیئے ہونگے تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ بھی وہی اقوال دیں گے اور اگر کسی بھی مستند شخصیت کی طرف سے کسی معاملے کا جواب نہیں بھی ہوگا بمعنی کسی نے پوچھا نہیں ہوگا اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی ذات سے پوچھ رہے ہیں تو اگرچہ نئے سوال ہو تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس نئے سوال کا بھی جواب دے سکتے ہیں ۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایسے نہیں ہیں کے گزشتہ کسی بھی نبی ، صحابی ، اولیاء کے اقوال کو چھوڑ کر اپنی طرف سے کوئی اقوال دے دیں، الغرض باریک سا فرق ہونے پر بھی جواب تبدیل ہوسکتا ہے مگر گزشتہ کسی بھی نبی ، صحابی ، اولیاء کے جتنے بھی اقوال ہیں اور وہ جس طرح کے ہیں اور بالکل ویسے ہی ہو تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی بالکل وہی جواب عنایت فرماتے ہیں۔ الغرض حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کسی بھی معاملے کو بہتری اور سمجھوتے کو بھی سمجھتے ہیں ۔ ایسے دو نمبر علماء کے تابعداری سے بچیں کے جو خود فتویٰ دیتے ہیں اور نام دین کا لگاتے ہیں کے جیسے پرانی رسمی دینی بات ہو صحابی یا پیغمبروں یا گزشتہ بڑے ولیوں کے اقوال نام سے جڑا ہوا ہو ۔ کے جیسے کسی دوسرے نے فرمایا ہے مگر حقیقت میں دو نمبر علماء اپنا نام چھپاتے ہیں تاکے انکی اپنی باتوں کو وزن ملے اور یہ سمجھتے ہیں کے یہ بھی نبیوں ، صحابہ اور بڑے ولیوں کی اس معاملے میں بھی نقل اتاریں گے اور اپنی طرف سے دین میں تبدیلی کریں گے اور یہ گمراہی ہے، اپنے ذاتی قول کو دین کا نام دینا۔ آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Thursday, 1 October 2026

اولیائے کرام کی کیا قسم ہے؟ جانیے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں

اولیاء کتنے قسم کے ہوتے ہیں ؟ اولیاء کی کیا قسمیں ہیں ؟ اولیائے کرام کی دو قسمیں ہوتی ہیں ، ایک قسم اسے کہتے ہیں کے جو اپنی محنت سے ولی بنتے ہیں زہد و تقوی اختیار کرنے کے بعد ایک عرصہ گزارتے ہیں اور پھر ولایت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں اور یہ طریقہ عام دنیا والوں کے لیے ہے۔ اور دوسرا قسم وہ ہوتے ہیں کے جو پہلے ولی ہوتے ہیں اور بعد میں زہد و تقوی اختیار کرتے ہیں بمعنی وہ پیدائشی طور پر ولی ہوتے ہیں اور اس قسم کے ولیوں کو کہا جاتا ہے چنے ہوئے ولی کے جسے اللّٰہ جل جلالہ خود چن لیتا ہے تو اسے ولی بنا دیتا ہے اور وہ ولی ہی بن کر دنیا میں آتے ہیں۔ جیسے حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ یہ زہد و تقوی اختیار کرنے کے بعد ولی نہیں بنے ہیں بلکہ یہ پیدائشی ولی ہیں اور جب یہ دنیا میں بچے تھے تب یہ بھی بچوں کی طرح کھیلتے تھے اور بچپن کی عمر میں اپنے گھر سے دور دین کی خدمت کرنے نکل گئے تھے ۔ شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جو کے بچپن کے پیدائشی ولی ہیں تو یہ اس قسم کے ولیوں میں شمار ہوتے ہیں کے جو پہلے سے چنے گئے ہیں بمعنی پیدا ہونے سے پہلے ولی بنا دیا گیا ہے۔ اور جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ ایک بار دوسرے طالب علموں کیساتھ اپنے استاد کے ہمراہ کشتی میں سفر میں تھے تو آپ لوگوں نے سنا ہوگا کے استاد یا پیر اپنے مریدوں / شاگردوں کا امتحان بھی لیتے ہیں۔ تو اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے استاد جو کے اپنے شاگردوں کو آزماتے بھی تھے مگر جب اسی استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو کشتی سے نیچے پھینک دیا بمعنی دھکا دے دیا کے دیکھتے ہیں شیخ عبد القادر جیلانی کیا کرتے ہیں اپنے استاد کے آگے امتحان پاس کرتے ہیں یا فیل ہوتے ہیں۔ بس جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو کشتی سے نیچے دکھا دے دیا تو شیخ عبد القادر جیلانی بچے کی عمر میں پانی میں گر گئے اور تیرتے ہوئے واپس کشتی میں آکر بیٹھ گئے اور اس استاد کا وہی ہاتھ ٹوٹ گیا۔ کیونکہ استاد دنیا میں محنت کر کے ولی بنا تھا اور شیخ عبد القادر جیلانی پیدا ہونے سے پہلے ولی بن کر دنیا میں آئے تھے ۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کے دنیا میں دو طرح کے قسم ہوتے ہیں ، ایک وہ جسے استاد ، پیر اس طریقے سے آزما سکتے ہیں اور دوسرے ایسے قسم ہوتے ہیں کے جسے اس کے استاد یا پیر بھی نہیں آزما سکتے ہیں۔ بس اس استاد کو یہ نہیں پتا تھا کے یہ پیدائشی ولی ہے۔ اور پھر اس استاد نے اپنے شاگرد شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سے معافی مانگا اور پھر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے استاد کو معاف کردیا تو یہاں سے استاد کو بھی پتا چل گیا کے شیخ عبد القادر جیلانی دوسرے طالب علم کی طرح نہیں ہے جبکہ دوسرے طالب علم بھی ولی ہیں مگر شیخ عبد القادر جیلانی پیدائشی ولی ہے۔ اور پھر جب شیخ عبد القادر جیلانی بڑے ہوئے تب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے پوری دنیا میں عام اعلان کردیا کے جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اعلان عام کیا کے اللّٰہ جل جلالہ مجھ سے بات کرتا ہے تو ویسے ہی شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے زندگی میں عام اعلان کردیا کے دنیا میں جتنے بھی اللّٰہ جل جلالہ کے ولی ہیں تو ان سب کے کندھوں پر میرا قدم یے، اور جو میرا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول کرے گا تو وہ ولی ہوگا اور جو میرا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول نہیں کرے گا تو اگرچہ وہ بڑے سے بڑا ولی ہوگا تو وہ ولی بھی نہیں رہے گا۔ کون ہے وہ جو شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے آگے کہے کے ہم تمہارا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول نہیں کریں گے، ہم سر تسلیم نہیں ہونگے، مگر جب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے عام اعلان فرمایا تب پوری دنیا کے ولیوں نے اعلان کیا کے ،، ہاں ،، ہم آپکا قدم اپنے کندھوں پر رکھنا قبول کرتے ہیں ، بمعنی زبان سے اقرار ہے ، کوئی حقیقت کندھوں پر قدم رکھنا نہیں ہے، بس تسلیم کر لینے کو عاجز آنا کہتے ہیں۔ اگرچہ اس دور میں شیخ عبد القادر جیلانی کا اپنا استاد بھی ہو اگرچہ کوئی بھی بڑے سے بڑا پیر ولی ہو مگر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا واضح اعلان کے میرا قدم مبارک دنیا کے چھپے چھپے میں جتنے بھی ولی ہیں تو سب کے کندھوں پر ہے۔ اور سب ولیوں نے تسلیم کیا کے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا قدم ہمارے کندھوں پر ہے۔ اور صرف ایک ولی نے ماننے سے انکار کردیا اور کہا کے نہیں ، میں اپنے کندھوں پر تمہارا قدم قبول نہیں کرتا ہوں تو پھر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے ٹھیک ہے اگر تمہارے کندھوں پر میرا قدم نہیں ہے تو خنزیر کا قدم ہے۔ اور پھر اسی ولی نے اپنے کندھوں پر خنزیر کو اٹھایا اور پھر اس ولی نے بھی شیخ عبد القادر جیلانی کے آگے جھک گیا اور کہا کے میں تسلیم کرتا ہوں کے آپکا قدم میرے کندھوں پر بھی ہے، اور پھر وہ ولی بن گیا، کیونکہ وہ بھی ولی خاص تھا مگر بس عارضی طور پر اسے سبق سکھانے کے لیے ایسا قدم اٹھایا گیا۔ اور وہ ولی کوئی مرتد یا بد تر نہیں تھا ، بس ولی سے نکل گیا تھا اور بعد میں پھر ولی بن گیا۔ اور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری والے جب انہوں نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا عام اعلان سنا کے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عام دنیا میں کے میرا قدم تمام ولیوں کے کندھوں پر ہے تو صرف خواجہ معین الدین چشتی اجمیری صاحب اپنے اجمیر سے فرماتے ہیں کے آپ کا قدم مبارک میرے صرف کندھوں پر نہیں بلکہ میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ اس بات سے شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ جواباً فرماتے ہیں کے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کو پورے اجمیر کا سربراہ ولی بنایا جاتا ہے اور دنیا میں کوئی بھی ولی خواجہ معین الدین چشتی اجمیری سے مقابلہ نہیں کرے گا۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے پیر مرشد عثمان ہارونی ہے، اور خواجہ صاحب اپنے مرشد کی خدمت کرتے تھے تب شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ صاحب کے پیر عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا کے اپنے مرید خواجہ معین الدین کو آزاد کر دو اور اس سے مذید خدمت نہیں لو، تب عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے پاس سے آزاد کر دیا۔ اور پھر خواجہ صاحب کا مرید بختیار کاکی ہے اور بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ کا مرید فرید الدین عرف گنج شکر ہے۔ اور گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ خود خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ کے بھانجے بھی ہیں ، تب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے مرید بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ سے فرمایا کے تم اپنے مرید گنج شکر کو آزاد کر دو، بمعنی ان سے خدمت نہیں لو، تب بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے پیر کے کہنے پر اپنے مرید گنج شکر کو اپنے پاس سے آزاد کر دیا ۔ اور پھر گنج شکر کا بھانجہ صابر کلیری ہے کے جو خود اپنے ماموں گنج شکر کے پاس رہتا ہے۔ بس کہنے کا مطلب ہے کے ولی دو قسم کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو خود محنت سے بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو پہلے سے چن لیے گئے ہیں۔ مگر جو محنت سے بنتے ہیں تو ان پر بھی حق پر قائم رہنا لازم ہے اور جو پیدائشی ولی ہوتے ہیں تو وہ پہلے سے ہی حق پر قائم رہتے ہیں۔ اور پھر اس میں بھی ولایت کی مذید دو قسمیں ہیں کے جو اللّٰہ جل جلالہ کے خاص ولی جانتے ہیں مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے جتنا وضاحت دے دیا ہے تو یہ وضاحت عام طور پر مشہور نہیں ہوگا اور تبھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ایسا وضاحت دے کر فرما دیا کے ولی دو قسموں کے ہوتے ہیں ، ایک وہ جو محنت سے ولی بنتے ہیں اور دوسرے وہ جو پہلے سے چن لیے گئے ہو اور جسے آزمایا جاتا ہے تو یہ بھی دیکھ کر آزمایا جاتا ہے کے آزمانے والا خود کون ہے اور جسے آزمایا جا رہا ہے تو وہ خود کون ہے۔ ولیوں کی قسمیں ، پیدائشی ولی اور محمت کر کے ولی کے موضوع اور تاریخی واقعے پر اہم نظر کرم بحوالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ، ، آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

Labels: ,

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Monday, 28 September 2026

کیا دین اسلام مکمل دین ہے ؟ جانیے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث کی وضاحت

کیا دین اسلام مکمل دین ہے ؟ جانیے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث کے تجزیے سے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث کے فرمان کے مطابق یہ چودھویں صدی ہے، اور اس چودھویں صدی میں یہ دین اسلام مکمل دین نہیں ہے، بلکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے یہ حقیقت میں دین ہے ہی نہیں ۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث فرماتے ہیں کے دین اسلام 99 فیصد ختم ہوچکا ہے۔ اور صرف 1 فیصد دنیا میں بچا ہے اور اسے چودھویں صدی کہتے ہیں۔ بمعنی یہ چودھویں صدی کا زمانہ ہے اور اس چودھویں صدی میں دین اسلام بہت ذیادہ ختم ہو چکا ہے، اور ذرا سا اسلام بچا ہے کے جو حقیقت میں اسلام ہے، اور باقی سب چیزیں ترمیم شدہ بعد میں بدل دی گئی ہیں۔ آئیے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث کے نظریے سے گزشتہ زمانوں میں جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کے دین اسلام کیسا تھا اور یہ کیسے قائم ہوا اور اس کا زوال کب سے شروع ہوا۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے پر کیا کیا خود فرمایا ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے ویسے دین کا تعلق تو حضرت آدم علیہ السلام سے چلا آ رہا ہے حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اپنے حصے کا کام کیا اور اسی طرح ہر نبی نے اپنے اپنے حصے کا کام کیا ہے۔ مگر آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہم ذکر کرتے ہیں کیونکہ اس آخری نبی کے زمانے سے کیا ہوا تو اسکا ذکر کرتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے اللّٰہ جل جلالہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مختص فرمایا، بس اللہ جل جلالہ کا اپنا مرضی ہے اور یہ اللّٰہ جل جلالہ کی طرف سے ہے۔ اللّٰہ جل جلالہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اپنی طرف سے ایک کتاب نازل فرمایا کے جیسے اللّٰہ جل جلالہ ہر زمانے کے نبی پر کتاب نازل فرماتا ہے تو ویسے اللّٰہ جل جلالہ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے بھی ایک کتاب نازل فرمایا جس کا نام قرآن ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث فرماتے ہیں کے اللّٰہ جل جلالہ کسی بھی نبی پر کتاب نازل فرماتا ہے تو اس بات کا مفہوم سمجھ لیجیے۔ کتاب نازل فرمانے کا مطلب یہ ہے کے اس کتاب میں ایک چیز بھی نبی کا کہا ہوا نہیں ہے بلکہ صرف اللّٰہ جل جلالہ کا اپنا فرمان ہے۔ اللّٰہ جل جلالہ ذات کا جتنے بھی تعداد میں فرمان ہیں تو وہ سب اللّٰہ جل جلالہ کی کتاب میں رکھے جاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کے یہ اللّٰہ جل جلالہ کی کتاب ہے، اگرچہ وہ تورات ہو، انجیل ہو یا قرآن ہو وغیرہ وغیرہ۔ اور اللّٰہ جل جلالہ کی کتاب میں کسی بھی نبی کا اپنا قول نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ نبی جو خود اپنی طرف سے کچھ بھی فرماتے ہیں تو اسے حدیث کہتے ہیں۔ اب ناظرین نے یہ بات سمجھ لیا ہے ، اور اب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث مذید آگے فرماتے ہیں۔ کوئی بھی نبی اپنی طرف سے کچھ بھی کہے سکتا ہے کیونکہ وہ نبی ہے بمعنی انسان ہے، مگر نبی کے کہے ہوئے الفاظ کو فرمان کہتے ہیں بمعنی یہ ایک عزت کا لفظ ہے۔ جیسے نبی نے کچھ کہا کہو یا نبی نے کچھ فرمایا کہو تو یہ ایک ہی بات ہے، مگر بس فرمانا لفظ ایک عزت کا لفظ ہے اور اگر کوئی لوگ سمجھتے ہیں کے فرمانا سمجھ نہیں آتا تو انہیں صاف الفاظوں میں یہی الفاظ کہے جا سکتے ہیں کے نبی نے کہا۔ الغرض اصل چیز انسان کے اپنے ذات میں ہوتا ہے، مادری زبان میں نہیں ، جیسے کوئی انگلش کہے یا کوئی عربی کہے یا کوئی اردو کہے یا کوئی سندھی کہے یا کوئی عبرانی کہے تو سب برابر ہے، اور کوئی کسی سے بڑا یا چھوٹا نہیں ہے۔ نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے زمانے میں عربی زبان مشہور تھا تبھی اس وقت قرآن بھی عربی میں آگیا، مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کے اللّٰہ جل جلالہ کا ہر کتاب عربی میں ہے۔ جیسے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود اردو میں بیان فرماتے ہیں تو اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان بھی اردو میں ہی لکھتے ہیں کیونکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اردو کے بیچ میں رہے ہیں ۔ تو اسی طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم عربی کے بیچ میں رہے ہیں۔ اصل چیز لوگوں کے سمجھ آنے میں ہے کے لوگ کیسا سمجھتے ہیں تو انہیں انہی کے الفاظوں میں بات کیا جاتا ہے اور یہی درست طریقہ ہے۔ اگر بالفرض عجمی لوگوں کے سامنے کوئی عربی شخص عربی میں بات کر رہا ہو تو عام طور پر لوگ یہی سمجھیں گے کے عربی شخص کوئی دعا پڑھ رہا ہے یا کوئی آیت پڑھ رہا ہے، مگر غلطی کس کا ہے ؟ اس عربی شخص کا کے جو اردو جانتا ہے مگر اردو شخص سے بات کرتے وقت عربی میں بات کرتا ہے، تو عربی زبان کو افضلیت حاصل نہیں ہے۔ بلکہ افضلیت شخص میں ہوتا ہے کے وہ شخص کیسا ہے اور اسکا جو بھی زبان ہو تو وہ افضل ہی رہتا ہے۔ کسی زبان کے سیکھ لینے سے وہ افضل نہیں بن جاتا بحوالہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زندگی میں عربی لوگوں کے بیچ میں رہے ہیں ، حضرت عبداللہ رضی اللّٰہ عنہ جو کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ابو ہیں اور اللّٰہ جل جلالہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے سے پہلے ابو کو اٹھا لیا۔ تاکے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تعلیم حاصل نہیں کرے ۔ اور نبی کا کریڈٹ ابو کو نہیں جائے کے باپ نے بیٹے کی پرورشِ کی ہے کے بیٹا ایسا ہے۔ اور نبی کے پیدا ہونے کے بعد اللّٰہ جل جلالہ نے نبی کے ماں کو بھی اٹھا لیا تاکے ماں بھی نبی کی پرورش نہیں کرے۔ اور کوئی یہ نہ کہیں کے نبی کی ماں زندہ تھی اور تبھی نبی ایسا ہے۔ دائی حلیمہ کو بھی اللّٰہ جل جلالہ نے بعد میں اٹھا لیا، الغرض حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی تنہاء گزاری ہے۔ چچا ابو طالب کے پاس جو کے حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے ابو ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شہر مکہ میں پیدا ہوئے اور سب لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو انکے باپ دادا کے نام سے پہچانتے تھے کے یہ فلاں کا بیٹا ہے، فلاں کا پوتا ہے۔ الغرض حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے باپ دادا کے نام سے پہچانے جاتے تھے مگر باپ دادا ماں کوئی بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا فرد نہیں تھے، جیسے ماں باپ اور بھائی یا بہن اور کسی کے بھی ہاتھوں سے پرورش نہیں پائے گئے ہیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے پہلے اولاد بیٹے تھے، اور پہلا بیٹا ہونے سے پہلے ہی باپ دنیا سے چلا گیا اور ماں نبی کے پیدا ہونے کے بعد چلی گئی۔ الغرض ماں اور باپ نبی کے نام سے پہچانے جاتے ہیں کے فلاں نبی کا باپ ہے یا نبی کی ماں ہے مگر کوئی بھی نبی کی پرورش نہیں کرسکے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچپن کی زندگی گزاری اور محنت مزدوری اور تجارت کیا اور لوگ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق و امین کے نام سے پہچانتے تھے بمعنی سچا ہے اور ایماندار ہے۔ چالیس سال گزرنے پر اللّٰہ جل جلالہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی کے نام سے دنیا میں عام اعلان کرنے کا فرما دیا کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں عام اعلان کردے کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل جلالہ کا نبی ہے۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی ہونے کے پہچان سے اپنا پہلا پہلا خطاب دنیا کے سامنے رکھا اور اعلان کیا کے میں نبی ہوں اور اللہ جل جلالہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے تب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر سب سے پہلا حملہ کرنے والے نبی کا اپنا چچا ہی ہے۔ جس کا نام ابو لہب ہے، اور ابو لہب نے اسی وقت بھرے مجمع میں زمین سے پتھر اٹھا کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مار دیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سر پھٹ گیا۔ خون بہا اور پھر دیگر محلے والے بھی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہوگئے۔ یہ بات سمجھ لیجیے کے نبی کے زمانے میں جتنے بھی لوگ تھے تو وہ نبی پر ہاتھ اٹھانے سے ڈرتے تھے کیونکہ نبی اپنے باپ دادا کے نام سے مشہور تھے، اور لوگ نبی کے باپ دادا اور چچا وغیرہ کیساتھ ملکر چلتے تھے ، بمعنی لوگ نبی کے باپ دادا کے خلاف نہیں تھے۔ مگر جب نبی دنیا میں تھا تب نبی کا باپ دادا اور ماں کوئی بھی دنیا میں نہیں تھے اور پھر نبی کے چچا نے ہی نبی پر پہلا حملہ کیا جس کی وجہ سے دیگر لوگ بھی نبی کے خلاف ہوگئے کے جب نبی کے چچا نے ہی نبی کو مار دیا تو پھر لوگ نبی کے خلاف آسانی سے ہوگئے۔ ، ، یہی وجہ ہے کے ابولہب کے نام سے ایک الگ سے اللّٰہ جل جلالہ نے پوری ایک سورت اتار دیا ہے کے جو قرآن میں سورت لہب کے نام سے یے۔ بمعنی تباہ ہو جائیں ابو لہب کے دونوں ہاتھ ، اور ہاں وہ تباہ ہو ہی گیا۔ اور پھر نبی نے اپنی زندگی تنہاء و مشقت سے گزارا ہے اور اپنے چچا ابو طالب کے پاس رہے ہیں ۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے آپ کو نبی کے نام سے پہچان کرواتے تب سب سے پہلے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو یقین کرنے والے سب سے پہلے ایمان لانے والے حضرت ابو بکر ہے۔ یہی وجہ ہے کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کا درجہ تمام انبیاء کے بعد سب سے پہلے نمبر پر بڑا درجہ ہے۔ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے بعد دیگر لوگ بھی ایمان لائے مگر سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ایمان لائے ۔ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ ایسے شخصیت ہیں کے جب نبی کو لوگ مارتے تھے تب ایسے حالات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ نبی کیساتھ ہوگئے اور لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے بھی خلاف ہوگئے اور تیسرا کوئی بھی نہیں تھے نبی کیساتھ ۔ یہی وجہ ہے کے نبی لوگوں سے بچ نکل کر کہیں بھی بھاگ جاتے اور چھپ جاتے اور نبی کیساتھ یہی مراحل ابو بکر نے بھی طے کیا ہے ۔ بمعنی نبی نے جس جس مراحل کو گزارا ہے تو نبی کیساتھ ابو بکر نے بھی گزارا ہے۔ یہی وجہ ہے کے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو کچھ بھی فرماتے تو صحابہ کرام نیچے دیکھتے مگر ابو بکر نیچے نہیں دیکھتے بلکہ نبی کے چہرے کو دیکھتے ہیں کیونکہ یہ ابو بکر ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کے ایمان لانے کے بعد نبی کی اپنی حکومت کھڑی ہوگئی، اور پھر نبی نے لوگوں سے بھاگنا اور چھپنا ختم کردیا اور پھر آذان دینا بھی کھلے عام ہوگیا، کیونکہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ ایمان لائے تھے تب حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے نبی سے فرمایا کے اب آپ نہیں چھپو گے، اور کہیں بھی نہیں جاؤ گے اور آذان بھی کھل کر دیا جائے گا اور اسکی ذمے داری عمر لیتا ہے کے کوئی بھی رکاوٹ نہیں ہوگا ۔ بس پھر حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کے ایمان لانے کے بعد اسلام دین کھل کر رونماء ہونے لگا۔ اور پھر نبی نے لوگوں سے چھپنا بند کر دیا کیونکہ اسکی ذمے داری عمر نے لے لی ۔ اور پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زندگی میں کھل کر بہت محنت کیں اور پھر صحابہ کرام سے فرما دیا کے میں نے دنیا میں اپنے حصے کا کام پورا کرلیا ہے کے جتنا میں نے کرنا تھا تو وہ میں نے کرلیا ہے اور اب میرے بعد صحابہ کرام کام کریں گے۔ اس معاملے پر نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے جو میرے صحابہ کی پیروی کرے یا میرے اہل و عیال گھر والوں کی پیروی کرے تو وہ میرا ہی پیروی کرنا کہلائے گا، کیونکہ میرے صحابہ ستارے ہیں اور میری آل چاند ہے۔ تو الغرض کوئی کسی کا بھی پیروی کرے گا تو وہ میرا ہی پیروی کرنا کہلائے گا۔ نبی نے اپنے بعد صحابہ کرام اور آل نبی کو رکھا ہے۔ اور کوئی بھی شخص ان دونوں میں سے کسی کا بھی پیروی کرتے ہیں تو وہ نبی کی پیروی کرتے ہیں۔ اور پھر نبی نے اپنی زندگی میں جتنا محنت کرنا تھا تو کرلیا اور پھر نبی نے فرما دیا کے اب دین مکمل ہوا۔ اور دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگا۔ اور پھر نبی نے فرمایا کے اب ایسا وقت بھی آئے گا کے جب دین کو ختم کیا جائے گا اور عنقریب وہ زمانہ حسین بن علی ہے، بمعنی حسین کا زمانہ ہے کے جو حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے بیٹے ہیں۔ اس معاملے پر نبی نے فرمایا کے ایسا وقت بھی آئے گا کے دین ختم ہو جائے گا مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زندگی میں فرما دیا کے دین مکمل ہوگیا ہے اور اب دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگا بمعنی کسی کو بھی دین میں تبدیلی کرنے کا اجازت نہیں ہے۔ مگر نبی نے پیشنگوئی کر دیا کے نبی کے دنیا سے جانے کے بعد تضادات شروع ہو جائیں گے۔ اور تبھی نبی نے اپنی زندگی میں ہی سب صحابہ کرام کو فرما دیا کے میں دنیا سے چلا جاؤں گا تو میرے بعد ابو بکر کا پیروی کرنا ہے، اور پھر جب ابو بکر بھی دنیا سے چلا جائے گا تو پھر عمر کا پیروی کرنا ہے۔ اور جب عمر دنیا سے چلا جائے گا تو پھر عثمان غنی کا پیروی کرنا ہے اور جب عثمان بھی دنیا سے چلا جائے گا تو پھر علی کا پیروی کرنا ہے۔ بمعنی یہ ترتیب بھی نبی نے خود اپنے زندگی میں ہی صحابہ کرام کو فرما دیا۔ اور نبی نے اپنی زندگی میں فرمایا کے جو کوئی شخص اپنی طرف سے کچھ بھی بات گھڑے اور نبی سے منسوب کرے کے یہ نبی نے فرمایا ہے تو وہ شخص اپنا ٹھکانہ جہنم میں دیکھ لے، کیونکہ نبی نے فرما دیا کے میرے جانے کے بعد یہی دین پر زوال آجائے گا اور تبھی نبی نے سخت باتیں بھی کہیں ہیں ۔ اور نبی نے تمام صحابہ کرام سے فرمایا کے جب تک میں دنیا میں ہوں تو میرا کہنا مانو، اور میں دنیا میں نہیں رہوں تو پھر ابو بکر کا کہنا ماننا اور جب ابو بکر بھی دنیا میں نہیں رہے تو پھر عمر کا کہنا ماننا اور پھر جب عمر بھی دنیا میں نہیں رہے تو پھر عثمان کا کہنا ماننا، اور جب عثمان بھی دنیا میں نہیں رہے تو پھر علی کا کہنا ماننا۔ اور پھر نبی نے بعد والی نسلوں کے لیے فرمایا کے پھر میں بھی نہیں ہوں گا اور میرے صحابہ بھی نہیں ہونگے کے جو میرے ساتھ ہیں بمعنی علی تک۔ اور بعد والی نسلوں کے لیے نبی نے اپنے زندگی میں فرمایا کے اگر تم چاہتے ہو کے تم کہیں گمراہ نہ ہوجاؤ اور ہمیشہ حق پر قائم رہو اور ایسے حق پر قائم رہو کے جیسے میرے صحابہ ہیں۔ تو تم صرف دو چیزوں کو مضبوطی سے تھام لینا اور اسے نہیں چھوڑنا تو تم گمراہ نہیں ہوگے اور اسکی ذمے داری نبی نے خود لیا ہے۔ وہ دو چیز ہیں۔ نمبر ایک کتاب اللہ، اور نمبر دو آل نبی۔ نبی نے اپنے زندگی میں فرمایا کے مجھے میری آل سے بہتر کوئی بھی نہیں جانتا ہے، اور مجھے صرف میری آل ہی جانتی ہے اور کوئی بھی نبی کو حقیقت میں نہیں جانتے ہیں اگرچہ کوئی پرہیزگار ہو۔ اور تبھی نبی نے فرمایا کے تم لوگ جو حق پر قائم رہنا چاہتے ہو تو تم میری آل کو مضبوطی سے تھام لینا ، گویا ایسا ہی ہے کے جیسے تم نے نبی کو تھام لیا ہے۔ اور پھر نبی نے کتاب اللہ کا بھی فرما دیا کیونکہ نبی کو پتا تھا کے مردود علماء خود کو آل نبی کہے کر لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہیں۔ اور تبھی نبی نے برے لوگوں کا پتہ کاٹ دیا کے وہ اپنی ذات پر جھوٹ میں بھی آل نبی کا لفظ استعمال کرکے لوگوں کو گمراہ نہیں کرسکیں ۔ لہذا نبی نے فرمایا کے کتاب اللہ کو بھی مضبوطی سے تھام لینا، کیونکہ جو جھوٹ میں خود کو آل نبی ظاہر کریں گے تو کتاب اللہ انہیں رد کردے گا۔ اور انکا کہنے کو کتاب اللہ رد کرے گا تو سمجھ لینا کے وہ آل نبی نہیں ہے۔ اور آل نبی وہ ہوتا ہے کے جو خود کو آل نبی کہے اور کتاب اللہ اسے رد نہ کرے ۔اور اگر کتاب اللہ نے رد کردیا تو سمجھ لو کے وہ آل نبی نہیں ہے اور اسکا دعویٰ جھوٹا ہے۔ آل نبی کا مطلب نبی کی اولاد ہے۔ اور نبی نے جو کچھ بھی فرما دیا تو اسے حدیث کہتے ہیں اور اللّٰہ جل جلالہ نے جو کچھ بھی فرما دیا تو اسے کتاب اللہ میں رجسٹرڈ کرلیا جاتا ہے ۔ اور نبی کا کوئی بھی قول کتاب اللہ میں نہیں ہے اور اللہ جل جلالہ کا کوئی بھی فرمان حدیث میں نہیں ہے۔ جس سے یہ پتا چلتا ہے کے یہ اللّٰہ جل جلالہ کا فرمان ہے یا نبی کا فرمان ہے۔ ، ، نبی نے اپنے ذاتی معاملے پر فرمایا کے اگر کوئی شخص اپنی طرف سے کچھ بھی بات گھڑتا ہے اور اس بات کا منسوب نبی سے کرتا ہے کے نبی نے فرمایا ہے تو گویا اس نے کفر کیا اور وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں دیکھ لے اور یہ حکم تب لگتا ہے کے جب کوئی اپنی ذات سے اپنی طرف سے کچھ بھی کہے دے اور وہ بات دوسرے کو مل جائے بمعنی ایک شخص سے دوسرے شخص پر شیئر ہو جائے کیونکہ یہ فتنہ ہے۔ بمعنی کسی کو بیوقوف نہیں بنانا چاہیے کے نبی نے فرمایا ہے اور نبی کا نام لیکر کسی کو بیوقوف بنانا جہنم ہونے کی علامت ہے۔ اور نبی نے ایمان والوں کے لیے فرمایا کے اگر تم حق پر قائم رہنا چاہتے ہو اور گمراہی سے بچنا چاہتے ہو تو ایک کتاب اللہ اور دوسرا آل نبی کو مضبوطی سے تھام لینا تو تم گمراہ نہیں ہوگے، مگر نبی نے اپنے حدیث کو اس معاملے میں اہمیت نہیں دیا کے میرے حدیث کو بھی مضبوطی سے تھام لینا، بلکہ نبی نے فرمایا کے حدیث نام کا کوئی بھی خبر ہو تو اسے کتاب اللہ سے جوڑنا اور اگر کتاب اللہ اس حدیث کو پاس کردے تو ماں لینا کے نبی نے کہا ہوگا بمعنی مستند پھر بھی نہیں ہے کے نبی نے فرمایا ہے، بلکہ نبی نے کہا ہوگا کیونکہ قرآن رد نہیں کرتا ہے۔ مگر نبی کے جس فرمان کو قرآن تصدیق کرتا ہے تو وہ ماننا پڑے گا کے یہ نبی نے فرمایا ہے۔ اور نبی نے فرمایا ہے کے میری آل سے سیکھنا، کیونکہ مجھے میری آل سے بہتر کوئی بھی نہیں جانتے ہیں۔ اور نبی کی آل خود فیصلہ کرے گی کے کونسی بات نبی کے نام سے منسوب کرنا ہے اور کونسی بات منسوب نہیں کرنا ہے، اور نبی اپنے اقوال سے ذیادہ اپنی آل کو اہمیت دیتا ہے ۔ اور نبی نے اپنے ذاتی فرمان بمعنی حدیث کو اہمیت نہیں دیا بلکہ حدیث کے بدلے آل نبی ہے اور آل نبی کو نبی نے اپنی جگہ دیا ہے۔ اور نبی نے فرمایا کے جس کسی نے بھی میرے ذات کے بارے میں کچھ بھی جاننا ہو تو رہ میری آل سے پوچھے اگرچہ وہ نبی کا کوئی بھی فرمان ہو یا نبی کی زندگی ہو۔ اور نبی نے گمراہ کرنے والے تمام ہتھکنڈوں کے پتے کاٹ دیئے تاکے کوئی بھی خود دین کے سربراہ نہیں بنیں گے ۔ جیسے اس موجودہ چودھری صدی میں نام نہاد دو نمبر علماء جو کچھ بھی اپنی طرف سے اپنی عزت بناتے ہیں، واہ واہ کرواتے ہیں اور خود حق پر قائم نہیں رہتے ہیں اور اپنی طرف سے حدیث بناتے ہیں اور اسے نبی کے نام سے منسوب کرتے ہیں، اور لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں اور خود کو درجہ دیتے ہیں کے لوگ انکی تابعداری کریں اور زمانے میں فساد برپا کرتے ہیں اور دین کو اپنی مرضی سے چلاتے ہیں تو یہ سب علماء کفر پر ہیں ۔ اور نبی نے پیشنگوئی کے طور پر اپنی زندگی میں فرما دیا کے باعمل علماء جو حقیقت میں علماء ہونگے تو وہ چودھویں صدی میں قتل ہو جائیں گے، اور بے عمل علماء بہت ہونگے اور سب مردود ہونگے ، زمانے میں فساد برپا کریں گے، دین کو ختم کر دیں گے ، ہر طرف افراتفری ہوگا۔ اور بے عمل علماء بدنام ہونگے اور انکی عزت نہیں ہوگی۔ لہذا تمام ناظرین یہ سمجھ لیجیے کے حق والے علماء جو دنیا میں کھلے عام تھے تو وہ سب دنیا سے جا چکے ہیں۔ آج سن عیسوی 2026 کا وقت ہے اور اس وقت سے پہلے تقریباً 15 سال پہلے سب کھلے عام حق والے علماء دنیا سے قتل ہوچکے ہیں، بمعنی 2011 اور 2012 میں قتل ہوچکے ہیں کے جتنے بھی حق والے علماء تھے ۔ اور نبی کا وہ پیشنگوئی پورا ہوچکا ہے کے جو باعمل علماء دنیا میں نہیں رہیں گے اور قتل ہو جائیں گے ۔ اور جو بے عمل مردود علماء ہونگے تو رہ دنیا میں ہونگے مگر انکی عزت نہیں ہوگی اور یہ بدنام ہونگے اور یہ فساد پھیلائیں گے مگر انکو سزا ملے گا، بمعنی یہ بھی سزا پائیں گے مگر ایسے وقت میں نہیں کے جب حق والے علماء قتل ہونگے تو پھر بے عمل علماء بھی قتل ہونگے ایسا نہیں ہے۔ پہلے حق والے علماء قتل ہو جائیں گے کے جو ہوچکے ہیں۔ اور پھر بعد میں بے عمل مردود علماء اپنا چرچا کریں گے اور دین میں خرابی پیدا بہت تیزی کیساتھ کریں گے ، اور زمانے میں فساد ہوگا اور یہ خود فساد پھیلائیں گے، اور یہ عالم نام تو رکھیں گے مگر لوگ انکی عزت نہیں کریں گے اور یہ بدنام ہونگے ۔ لہذا مردود علماء کو پہلے آزادی ہے تاکے یہ خوب اپنی مکاری کا جتنا چاہیں فائدہ اٹھائیں مگر آخر کار انکے لیے سزا ہے، اور جتنا عرصہ یہ مکاری پھیلائیں گے تو یہ بدنام بھی ہونگے مگر آخر کار یہ سزا پائیں گے۔ آخرت میں بھی سب سے پہلے کون لوگ جہنم میں جائیں گے؟ قاتل ، شرابی، زانی، سود خور، اور جس کے نامہ اعمال میں آسمان جتنے بھی گناہ ہونگے تو وہ بھی سب سے پہلے جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ سب سے پہلے یہی مردود علماء جائیں گے کے جنھوں نے اپنی ذات کیساتھ عالم کا لقب لگایا اور اپنی طرف سے نبی کے نام سے منسوب کیا اور لوگوں کو بیوقوف بنایا، اور دین کو خراب کیا اور اپنی عزت کمایا اور جو انکے ساتھ ملکر چلتے ہیں تو یہ سب جہنمی ہیں، مگر جو لوگ انکے شکنجے میں آجاتے ہیں تو وہ لوگ گمراہ ہیں ۔ مگر جن لوگوں کو ان دو نمبر علماؤں کی مکاری کا پتا ہے اور وہ پھر بھی جان بوجھ کر انکی تابعداری کرتے ہیں تو انکا ٹھکانہ بھی جہنم ہے۔ چودھویں صدی ایسا وقت ہے کے جب دین اسلام ختم ہوچکا ہے۔ اور یہ نبی کا اپنا فرمان ہے اور آخر کار جو نقطہ بچا ہے اور یہ بھی ختم ہوگا تو قرآن کے حروف بھی مٹ جائیں گے، بس یہ چودھویں صدی ایسا وقت چل رہا ہے کے دین اسلام اپنا ختم ہونے کا آخری سانس لے رہا پے۔ اور یہ چودھویں صدی میں دین اسلام کا اختتام پزیر ہے اور مگر دین اسلام جب نبی نے اپنی زندگی میں فرمایا کے اب دین مکمل ہوچکا ہے اور اب دین میں کوئی رد و بدل نہیں ہے تو وہ وقت نبی کے اپنے زندگی کا وقت تھا۔ اور نبی نے کسی کو بھی اجازت نہیں دیا ہے کے کوئی دین میں رد و بدل کرے ۔ اور نبی کے جانے کے بعد جب اسلام دین میں سب سے پہلے زوال آیا تو وہ حسین ابن علی کے شہادت ہونے کے بعد زوال آگیا۔ اور اس وقت سے زوال بڑہتے بڑہتے چودھویں صدی میں دین اسلام اختتام پزیر پر پہنچ چکا ہے۔ اور چودھویں صدی ایسا ہے کے اس میں کھلے عام جہالت ہے، دو نمبر علماؤں نے خود اپنی طرف سے نبی کے نام سے کھلے عام سناتے ہیں کے نبی نے یہ فرمایا ہے اور جھوٹ گھڑتے ہیں، اور اپنی عزت کماتے ہیں ۔ بمعنی اگرچہ مردود علماء کی نظر میں یہ عزت کا مقام ہے مگر حقیقت میں یہ بدنام ہے کیونکہ نبی کا فرمان ہے اور بدنام کون کرتے ہیں صرف حق والے، بمعنی حق والے ہی انہیں گندا سمجھتے ہیں اور گمراہ لوگ تو ان مردود علماء کے ہاتھ پاؤں چومیں گے ۔ کیونکہ گمراہ لوگ گدھے کی مثل ہے کے انہیں جس طرف مردود علماء گھمائیں گے تو یہ گمراہ لوگ اسی طرف پھر جائیں گے اور تبھی ایسے لوگوں کو گدھے کے مثل سمجھا جاتا ہے ۔ دو نمبر علماء عیاشی کرتے ہیں اور فتوے دیتے ہیں اور اپنا نام کماتے ہیں۔ اور اس چودھویں صدی میں آدھی سے ذیادہ حدیث ختم ہوچکے ہیں اور نئی نئی دو نمبر علماء کی اپنی طرف سے حدیثیں بھی یہ سب چودھویں صدی میں آئی ہیں اور پرانی حدیثوں کو صاف کردیا ہے۔ تاکے اب نئی نسل نئی حدیثوں کو دیکھیں گی۔ اور دو نمبر علماء سب سے ذیادہ درجہ علماء نام کو دیتے ہیں کیونکہ وہ خود کو عالم بنائے بیٹھے ہیں تو آٹو میٹک خود ان پر درجہ چلا جاتا ہے بمعنی عوام سمجھے گی کے سب سے بڑا درجہ علماء کا ہے۔ تو ایسی عوام کو گدھے کہتے ہیں کے یہ عوام گدھے ہیں کے جس طرف موڑیں تو اسی طرف مڑ جائیں۔ اور یہ دو نمبر علماء خود کو نبی کا وارث ٹہراتے ہیں اور علماء نام کا چرچا کرتے ہیں کے عوام کے زندگی کا فیصلہ یہ دو نمبر علماء کریں گے ۔ بس دو نمبر علماء خود کو نبی کا وارث سمجھتے ہیں بہت اعلی اور ان سے اعلی کوئی بھی نہیں ، مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ایسے مردود علماء کے دعوے کو مسترد فرما دیا اور مظلوم ، شریف کا درجہ علماء سے بڑا قرار دیا ہے ، کیونکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود جیسا چاہتے ہیں فیصلہ فرماتے ہیں۔ اور دو نمبر علماء خود کو بہت اعلی نبی کا وارث سمجھتے ہیں اور تبھی یہ علماء اپنی طرف سے حدیث بناتے ہیں اور کوئی ایسے فتوے دیتے ہیں کے جو قرآن کے حکم کے خلاف ہو۔ مگر یہ دو نمبر علماء کہتے ہیں کے یہ نبی کے وارث ہیں اور تبھی یہ اپنا حق سمجھتے ہیں فتویٰ دینے کا تاکے لوگوں میں عیش کریں۔ نبی نے ایسے دو نمبر علماء کے لیے خود کیا فرمایا ہے کے یہ فتنہ ہیں ، اور انکے شر سے بچو اور یہ آخرت میں سب سے پہلے جہنم میں جائیں گے ۔ اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں تو یہ سب کوئی عالم نہیں ہے، اور اگر کوئی شخص دعویٰ کرتا ہے کے فلاں مردود دو نمبر علماء حقیقت میں عالم ہے تو بتاؤ ثابت تو کرو کے اسے عالم بنایا کس نے ہے۔ نبی نے خود بشارت تو نہیں دیا اور نبی کا بشارت مانا بھی نہیں جائے گا کیونکہ یہ جھوٹ میں نبی کا بشارت بھی کہے دیں گے ۔ کے نبی نے فرمایا ہے کے فلاں آدمی عالم ہے۔ ایسا نہیں ہوتا ہے کے کوئی کہے دے تو اسکی بات تسلیم کرلیا جائے ۔ بلکہ اگر نبی کسی کو بشارت میں خود فرمائے گا تو وہ ثابت شدہ ہوگا، قرآن اسے رد نہیں کرے گا اور یہ سب سے اہم بات ہے۔ وہ شخص جھوٹا مکار دھوکے باز، زانی، حرام کمانے والا یا کھانے والا ، فساد پھیلانے والا ، ظلم کرنے والا ، حق کے خلاف جانے والا اگر وہ حق کے خلاف جاتا ہے، ظلم کرتا ہے تو قرآن اسے رد کر دیتا ہے کے وہ عالم نہیں ہے۔ بمعنی جب قرآن کیساتھ بنا کر نہیں رکھیں گے تو قرآن رد کردے گا اور ایسے ہر لیبل رد ہو جائیں گے اگرچہ عالم ہو یا پیر ہو یا ولی اللہ وغیرہ وغیرہ بس اگر نبی کا بھی کوئی بھی شخص نام لے لے تو اسکا کہنا نہیں مانو کے نبی نے فرمایا ہے کے میں ولی اللہ ہوں تو مجھے ولی اللہ مانو یا پیر مانو یا عالم مانو وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ دیکھو کے وہ شخص حق پر قائم ہے یا نہیں ، اور اگر حق پر قائم ہے تو ہوسکتا ہے کے نبی نے فرمایا ہو بمعنی رد نہیں ہے، مگر اگر حق پر قائم نہیں ہے تو پھر یہ تسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا ہے کے نبی نے فرمایا ہے ۔ بمعنی قرآن کے حکم کے خلاف ہے تو نبی نے خود اپنی زندگی میں فرمایا ہے کے اگر حدیث بھی ہو بمعنی نبی کا اپنا قول ہو تو اسے بھی قرآن سے جوڑو، اور اگر قرآن رد نہیں کرتا ہے تو ماننے کا گنجائش ہے کے نبی نے فرمایا ہے اور اگر قرآن رد کر دیتا ہے تو نبی نے خود فرمایا ہے کے میں شریعت سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں کہتا ہوں ۔ ,
, باقی اگر مستند طور پر تسلیم کرنا ہے کے نبی نے فرمایا ہے یا نہیں تو پھر اس کے لیے نبی نے فرمایا ہے کے میری آل سے بہتر کوئی بھی مجھے نہیں جانتے اور جس کسی کو بھی میرے بارے میں کچھ بھی جاننا ہو تو وہ میری آل سے جانے ۔ کیا دین اسلام مکمل دین ہے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ غوث کی وضاحت ۔ دین اسلام اور چودھویں صدی، چودھویں صدی اور بے عمل علماء ۔ آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Friday, 25 September 2026

پیر کا درجہ بڑا ہے یا جس کے صحبت میں بیٹھتے ہیں تو اسکا ؟

پیر کا درجہ بڑا ہے یا جس کے صحبت میں بیٹھتے ہیں تو اسکا ؟ یہاں ہم حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے پیر کے درجے سے بڑا درجہ اس شخص کا ہے کے جو پیر نہیں ہے مگر اسکی صحبت میں دوسرے بیٹھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے اور اسکا نام جبران ہے اور اس کے پیر کا نام کمال ہے اور جبران جس شخص کے صحبت میں بیٹھتا ہے تو اسکا نام موسی ہے۔ تو اس معاملے میں جبران کے پیر سے بڑا درجہ موسی کا ہے۔ مگر جبران کا جو پیر ہے تو وہ پیر ہی رہے گا، بمعنی جو پیر ہے تو وہ پیر ہی رہے گا مگر بڑا درجہ موسی کا ہے۔ مگر اگر جبران اپنے پیر کمال کے صحبت میں رہتا ہے تو کمال کا درجہ بڑا ہے کیونکہ وہ پیر بھی ہے اور صحبت بھی اسی کا ہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص جبران اپنے پیر کمال سے بیعت ہے اور اسکا پیر دور ہے یا انتقال کر چکا ہے تو اس صورت میں جبران موسی کے صحبت میں رہتا ہے تو موسی کا درجہ جبران کے پیر سے بڑا درجہ ہے۔ اور جبران موسی سے جو کچھ بھی صحبت حاصل کرے گا تو پھر بھی جبران کا پیر کمال ہی کہلائے گا، بمعنی پیر نہیں بدلتا مگر درجہ بدل سکتا ہے۔ لہذا کوئی بھی شخص اگر اپنے پیر سے کچھ بھی صحبت لیتا ہے تو وہ اپنے پیر سے صحبت لیتا ہے مگر اگر کوئی پیر کے علاوہ کسی دوسرے کے صحبت میں ہوتا ہے تو وہ جبران موسی سے یہ دعویٰ نہیں کرسکتا ہے کے میں اپنے پیر کمال سے بیعت ہوں اور جبران موسی کے بر خلاف چلا جائے۔ ایسا سمجھ لیجیے کے ایک سالک کے لیے اسکا پیر اہم ہے۔ اگرچہ سالک کے سامنے اسکا پیر ہو اور پیر کا بھی پیر ہو مگر سالک کے لیے اسکا پیر ذیادہ اہم ہے۔ اسی طریقے سے پیر کے لیے بھی اپنا پیر ذیادہ اہم ہے۔ سالک اپنے پیر کے بھی پیر کا احترام کرے گا مگر سالک کا اپنا بنیادی تعلق اپنے پیر سے ہی ہوگا، اگرچہ اس سالک کا پیر کسی دوسرے کا سالک ہو۔ بمعنی سالک اپنے پیر کو ذیادہ اہمیت دے گا ۔ مگر اگر پیر موجود نہ ہو اور سالک کسی دوسرے کے صحبت میں جاتا ہے تو پھر اس صورت میں سالک کے پیر سے بڑا درجہ اس شخص کا ہے کے سالک جس کے صحبت میں رہتا ہے اگرچہ جس کے صحبت میں رہتا ہے اور وہ خود اس سالک کا پیر نہ ہو۔ - - آپ کو ہماری یہ پوسٹ کیسی لگی؟ اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ضرور کیجیے، اور اگر اس موضوع سے متعلق آپ کا کوئی بھی سوال ہے تو بلا جھجھک کمنٹ سیکشن میں پوچھ سکتے ہیں۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Thursday, 17 September 2026

Neoralink brain chip پر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا فتوی

Neuralink حکیم آصف آرائیں (سائنٹسٹ) رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے جاری کردہ بیان ہے کے یہ چیز کوئی بھی انسان اپنے دماغ پر نہیں لگائے، دماغ سے سگنل نہیں کرے، دماغ سے نہیں ملائے، ایسے چپ دماغ میں نہیں لگائے۔ اگر کوئی یہ چپ اپنے دماغ میں لگانے کے لیے راضی ہوجاتا ہے اور وہ لگوا لیتا ہے تو وہ شخص ایسا ہے کے اس نے کفر کیا۔ Neuralink ایک chip ہے جو دماغ میں لگایا جاتا ہے، حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس معاملے پر کفر بتاتے ہیں۔ ,

Labels: , , , ,

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Wednesday, 16 September 2026

Hakim Asif Arain and Dawat-Islami

حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اور دعوت اسلامی ۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کے میں نے جیسے مفتی ثمر عباس کے بارے میں بیان دیا ہے کے مفتی ثمر عباس گمراہی پھیلاتا ہے، اور دعوت اسلامی کا نام استعمال کرتا ہے ، جبکہ مولانا الیاس قادری صاحب نے خود مفتی ثمر عباس کے بارے میں رائے دیا ہے کے ہمارا مفتی ثمر عباس کے کسی بھی عمل و فعل سے کوئی تعلق نہیں ہے، لہذا کھل کر بیان دینے سے مفتی ثمر عباس کے کسی بھی عمل و فعل کا دعوت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور مفتی ثمر عباس گمراہی پھیلاتا ہے تو وہ اسکا اپنا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کا مطلب حکیم آصف آرائیں نے اپنے گزشتہ بیان میں یہ نہیں فرمایا کے دعوت اسلامی حق پر ہے۔ بمعنی مفتی ثمر عباس کے بارے میں بیان وہ صرف مفتی ثمر عباس کے بارے میں بیان کہلاتا ہے، مگر اسکا مطلب مستند یہ نہیں ہے کے دعوت اسلامی مکمل حق پر ہے، مولانا الیاس قادری صاحب حق پر ہے۔ اگر میں گزشتہ اپنے بیان میں مولانا الیاس قادری صاحب کے بارے میں ایسا بھی کہے دیتا کے مولانا الیاس قادری صاحب مکمل حق پر ہے تو پھر وہ بھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا بیان کہلاتا، مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ایسا نہیں فرمایا۔ کیونکہ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ جانتے ہیں کے کیا کہنے کا مطلب کیا ہے۔ کفر کفر بھی ایک دوسرے کے خلاف ہوتے ہیں، ایسا نہیں ہے کے کفر صرف حق کے خلاف ہوتا ہے، حق ہر کفر کے خلاف ہوتا ہے، اور کفر حق کے خلاف ہوتا ہے اور کفر دوسرے کفر کے بھی خلاف ہوتا ہے۔ بمعنی یہ نظام ایسا چلتا ہے۔ جیسے ایک وہ گروہ ہے کے جو نبی کے خلاف ہے، اور ایک وہ گروہ ہے کے جو نبی کی حمایت کرتا ہے مگر نبی سے کہتا ہے کے تم فلاں خطے کے نبی بن جاؤ اور ہم دوسرے خطے کے نبی بن جاتے ہیں اور ہم دونوں ملکر چلیں گے، مگر نبی نے ان کو بھی کفر ٹہرایا کے جو نبی کے خلاف تھے، اور ان کو بھی کفر ٹہرایا کے جو نبی کیساتھ ملنے کی بات کرتے ہیں جیسے پارٹنر شپ بن جاتے ہیں۔ نبی نے یہ تسلیم نہیں کیا کے ٹھیک ہے کے ہم فلاں خطے کے نبی بن جاتے ہیں اور تم دوسرے خطے ملک کے نبی بن جاؤ۔ بلکہ نبی نے فرمایا کے میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی بھی نبی نہیں آئے گا اور نبی اپنے دور زمانہ میں بھی کسی کو نبی تسلیم نہیں کرے گا۔ بس نبی نے دونوں سے اختلاف رکھا، جبکہ ایک گروہ نبی کے خلاف تھا تو دوسرا گروہ نبی کے حمایت میں تھا۔ تو اسی طریقے سے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کے اسکا مطلب یہ نہیں ہے کے ایک گروہ دوسرے گروہ کے برعکس ہوتا ہے تو وہ درست ہوتا ہے۔ بلکہ درست نبی کے اپنے فرمان سے ہوتا ہے۔ حکیم آصف آرائیں اپنے بچپن میں دعوت اسلامی والوں سے بھی ملتے تھے، بمعنی حکیم آصف آرائیں مختلف شعبہ جات سے ملے ہیں، جیسے چشتی، قادری، نقشبندی، دعوت اسلامی، وغیرہ وغیرہ ۔ مگر فیصلہ خود اپنے ذات سے کرتے ہیں، کسی کے پیروکار نہیں ہیں، صرف حق کہنے والوں کی حمایت کرتے ہیں اور حق کے پیروکار ہیں۔ خودمختار ہیں، یہی وجہ ہے کے حکیم آصف آرائیں کا مختلف علماء و مفتیان اور پیروں سے بھی conflict ہوا ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے آگے کسی کا بھی لیبل نہیں چلتا ہے کے کوئی دعویٰ کرے کے میں قادری ہوں، یا چشتی ہوں، یا ڈائریکٹ نبی کی تابعداری کرتا ہوں ، نبی سے محبت کرتا ہوں یا ڈائریکٹ اللّٰہ جل جلالہ کیساتھ تعلقات ہیں ۔ مگر یہاں موضوع صرف دعوت اسلامی مولانا الیاس قادری صاحب کے بارے میں ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنے بچپن میں دعوت اسلامی کیساتھ بھی رہے ہیں، اور کوئی بھی شخص مولانا الیاس قادری صاحب کے بارے میں برا کہتا تو حکیم آصف آرائیں اس شخص کو برا ٹہرا دیتے تھے، کیونکہ حکیم آصف آرائیں حق دیکھتا ہے، اور حق کے مطابق انکے پاس دلیل نہیں ہوتا تھا تبھی انکو رد کر دیتے تھے، اسکا مطلب یہ نہیں ہے کے مولانا الیاس قادری کا چہرا دیکھ کر یا لیبل دیکھ کر دوسرے کو رد کر دیتے تھے۔ بمعنی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود حق کا علمبردار ہے۔ ایک بار کا ذکر ہے کے حکیم آصف آرائیں ایک مسجد میں داخل ہوئے اور اس مسجد میں ایک شخص نے مولانا الیاس قادری صاحب کو گمراہ ٹہرایا۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ چونک گئے کے کس ذات کے بارے میں گمراہی کا کہے رہے ہو۔ مگر اس شخص نے مان رہا ہے کے مولانا الیاس قادری صاحب نے بہت محنتیں کیں ہیں مگر پھر بھی گمراہ ٹہراتا ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے پاس مولانا الیاس قادری صاحب کا نیا رپورٹ سامنے آیا۔ رپورٹ یہ ہے: مولانا الیاس قادری صاحب اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی سے تعلق رکھتے ہیں، جو کے یہ حکیم آصف آرائیں کو بھی پتا تھا۔ مگر جب ایسا کہا گیا کے اعلیحضرت امام احمد رضا خان نے اپنے بعد جس کو بڑا بنایا تھا تو اعلیحضرت کے تمام مرید اسی کے ماتحت آگئے تھے، اگرچہ کوئی صوفی ہو، پیر ہو وغیرہ وغیرہ ، جو کوئی بھی اعلیحضرت کے بیعت میں ہے تو وہ سب اسی کے ماتحت آجائیں گے کے جس کو اعلیحضرت نے خود اپنے بعد بڑا بنایا ہے بمعنی اپنی جگہ دیا ہے۔ مگر مولانا الیاس قادری صاحب نے اعلیحضرت کو تو اپنے سے بڑا مانتے ہیں مگر جس کو اعلیحضرت نے خود اپنے بعد بڑا بنایا ہے بمعنی اپنی جگہ دیا ہے تو مولانا الیاس قادری صاحب اس کو نہیں مانتے ہیں کے ہم اس کو اپنے سے بڑا مانیں۔ بلکہ مولانا الیاس قادری صاحب کا اپنا نظریہ ہے کے ہمارا ڈائریکٹ تعلق اعلیحضرت امام احمد رضا خان سے ہے۔ اور اسکے بعد ہم کسی دوسرے کے ماتحت نہیں آئیں گے۔ بس مولانا الیاس قادری صاحب کا یہی بات ہے۔ اور جس شخص کو اعلیحضرت نے خود اپنے بعد بڑا بنایا ہے تو سب ماننے والے کے جو بھی اعلیحضرت کو مانتے ہیں ، بیعت میں ہیں تو وہ سب اس طرف چلے گئے کے جسے اعلیحضرت نے خود اپنے بعد بڑا بنایا ہے۔ مگر صرف مولانا الیاس قادری صاحب انکاری ٹہرا۔ اور مولانا الیاس قادری صاحب نے بات رکھا کے ہم دوسرے کو بڑا نہیں مانیں گے ، دوسرے کے ماتحت کام نہیں کریں گے، بس ڈائریکٹ اعلیحضرت امام احمد رضا خان سے تعلق رکھیں گے ۔ اور جس شخص کو اعلیحضرت نے خود اپنے بعد بڑا بنایا تھا تو اس نے بھی مولانا الیاس قادری صاحب کو چھوڑ دیا کے جاؤ ، ہمارے ساتھ ملکر نہیں چلو گے تو ہم زبردستی بھی نہیں کرتے ہیں بمعنی ہم محتاج نہیں ہیں کے ہمارے ساتھ رہو۔ بس یہی بات تھا اور جب ایسی بات حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچا تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ حیران و ششدر رہے گیا۔ کیونکہ یہ بات بہت بڑی ہے۔ کے جیسا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں نے اس دعوے کو فوراً قبول نہیں کیا کیونکہ اپنی ذات سے ہر کچھ فورآ حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ مگر حکیم آصف آرائیں نے سائل کو کچھ جواب دینا تھا، کیونکہ سائل نے وضاحت پیش کردی تو ہمارا نظریہ بھی لینا تھا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے اگر یہ بات ایسی ہی ہے تو پھر مولانا الیاس قادری صاحب حقیقت میں گمراہ ہے۔ مگر اسکی تحقیق بعد میں کروں گا کے اصل ماجرہ کیا ہے۔ مگر وقتی طور سائل سے کہے دیا کے اگر تم سچے ہو تو پھر مولانا الیاس قادری صاحب حقیقت میں گمراہ ہے۔ - - بس اب سائل خود جانتا ہے کے وہ سچا ہے یا جھوٹا۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی جانب سے جواب مل گیا ۔ تاکے سائل یہ سمجھے کے دوسرے لوگ نہیں مانتے ہیں تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ بھی نہیں مانتا ہے بمعنی حکیم آصف آرائیں لوگوں کی طرح ہے۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے خود کو لوگوں سے مختلف کردیا، کے لوگ پھر بھی نہیں مانتے ہیں مگر میں مان لیتا ہوں کے اگر یہ واقعہ ایسا ہے تو پھر میں 100 فیصد مانوں گا۔ باقی اسکی تحقیق حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ خود بھی کرے گا، مگر اپنی ذات سے ایک جواب سائل کو دے دیا ۔ اور سائل بھی مان گیا کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے مان لیا ۔ درحقیقت حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے حق بات کہا ہے۔ یہاں کسی کی برائی یا حمایت کی بات نہیں ہے بلکہ صرف حق بات ہے۔ اگرچہ کچھ بھی ہو۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے تنظیمی نمائندے سے پوچھا کے مولانا الیاس قادری صاحب کے بارے میں ایسی ایسی بات ہے۔ تو کیا یہ سچ ہے .؟ اور پھر تنظیمی نمائندے نے جواب دیا کے ہاں، یہ بات سچ ہے، اور یہ گمراہ ہے۔ مگر پھر بھی چپ رہتے ہیں کیونکہ یہ بہت محنت کرتا ہے۔ مولانا الیاس قادری صاحب نے شروع شروع میں جب دعوت اسلامی کی بنیاد رکھی اور اکیلے کام کرتے تھے تب بھی بہت محنت کیا ہے اور اسی وجہ سے گمراہ قرار دے دیا ہے مگر کفر قرار نہیں دیا کیونکہ یہ بہت محنت کرتا ہے۔ اسکی محنت و مشقت کی وجہ سے مولانا الیاس قادری صاحب کو گمراہ قرار دیا ہے، اور اگر محنت و مشقت نہیں کرتے تو پھر مولانا الیاس قادری صاحب پر یہ رعایت بھی نہیں ہوتا۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے عبد القادر جیلانی سے پوچھا کے مولانا الیاس قادری صاحب کیا گمراہ ہے اور یہ واقعہ سچ ہے ؟ کے مولانا الیاس قادری صاحب بڑے کو مانے گا مگر بڑے کے بنائے ہوئے کو نہیں مانے گا۔ تب عبد القادر جیلانی نے بھی یہی فرمایا کے ہاں ،، یہ گمراہ ہے، اور یہ نہیں مانتا ہے۔ تب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اعتراض کیا کے جب یہ گمراہ ہے تو پھر پوری دنیا اس کے پیچھے کیوں آتی ہے ، بمعنی میرے نظریے یہ ہے کے جو دوسرے کسی بھی ولی کا مقابل الیاس قادری ہو تو ذیادی دنیا الیاس قادری کے پاس آتی ہے، اور چٹکی برابر دوسرے کے پاس جاتے ہیں۔ تب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو پتا چلا کے یہ دنیا ہے، اور دنیا میں جو اکثریت جس جگہ ہونگے تو وہ گمراہ ہی ہونگے ۔ اور حق کی طرف چٹکی برابر لوگ ہوتے ہیں کے جو واقعی میں حق والے ہوتے ہیں۔ باقی پوری دنیا جتنے بھی لوگ ہیں اور اگر وہ مسلم ہونگے تو وہ گمراہ ہونگے ۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو سمجھ آیا کے اکثریت کی تعداد گمراہی پر مبنی ہے کیونکہ یہ دنیا ہے، اور حق والے چنیدہ ہوتے ہیں۔ اگر کسی کو یہ جاننا ہو کے حق کیا ہے تو تعداد کو دیکھو کے اگر ایک طرف ہزار لوگ ہیں اور دوسری طرف چار فرد ہیں تو جو اکثریت کی تعداد ہے تو وہ گمراہ ہے، اور جو چار فرد ہے تو وہ حق ہے اور تبھی اسکی طرف دنیا نہیں آتی ہے۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے مولانا الیاس قادری صاحب کو گمراہ ٹہرا دیا، بمعنی بہت جگہ کہے بھی چکا ہے، ایسا نہیں ہے کے نہیں کہا ہے اور چھپا کر رکھا ہے۔ بہت جگہ کہے بھی چکا ہے اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے فیصلہ کیا کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اب مولانا الیاس قادری صاحب کو گمراہ نہیں ٹہرائے گا مگر یہ بھی نہیں کہے گا کے یہ حق ہے، تاکے دنیا جس طرف جاتی ہے تو یہ دنیا کی اپنی مرضی ہے۔ اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنی ذات سے مولانا الیاس قادری صاحب کو حق بھی نہیں ٹہراتا ہے اور گمراہی کا نہیں کہنا تو بس یہ چپ رہنا ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے دعوت اسلامی کے نمائندے سے بھی کہا کے تم دعوت اسلامی میں ہو تو تم مولانا الیاس قادری صاحب کے اس معاملے پر کیا کہتے ہو تو جو حق والے تھے تو انہوں نے کہے دیا کے یہ غلط ہے اور الیاس قادری صاحب کو ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔ تو پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے پوچھا کے پھر تم مولانا الیاس قادری صاحب کے بیعت میں کیوں ہو، ؟ اور پھر اس نے جواب دیا کے بس اب پیر ایسا ہے اور میں بیعت کرچکا ہوں اور اس وقت نہیں پتا تھا مگر بعد میں پتا چلا ہے اور تبھی بیعت نہیں توڑتا ہوں کیونکہ پیر جیسا بھی ہے مگر اب بیعت نہیں توڑتا ہوں ، مگر مولانا الیاس قادری صاحب کے اس بات کو غلط ٹہراتا ہوں کے مولانا الیاس قادری صاحب نے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ تو بس پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس شخص کے معاملے میں چپ ہوگیا کیونکہ وہ کہتا ہے کے میں بیعت نہیں توڑتا ہوں مگر غلط کو پھر بھی غلط ہی ٹہراتا ہوں۔ اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اس شخص سے پوچھا کے تم کیا دعوت اسلامی کے طریقے سے چلتے ہو مل جل کر ، کے دعوت اسلامی کے مفتی ، علماء جو کچھ بھی کہتے ہیں تو اسی کو پروموٹ کرتے ہو، تب اس شخص نے کہا کے نہیں ، میں دعوت اسلامی کے طریقے پر نہیں چلتا ہوں بلکہ اپنی مرضی سے چلتا ہوں، اور پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اس شخص کے معاملے میں چپ ہوگیا۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے مستند پیروں کو دیکھا کے وہ مولانا الیاس قادری صاحب کو کیا سمجھتے ہیں، تب حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کو پتا چلا کے وہ مولانا الیاس قادری صاحب کو پیر ہی نہیں مانتے ہیں ۔ شاید کسی لوگوں نے بھی سنا ہوگا کے فلاں کوئی پیر مولانا الیاس قادری صاحب کو پیر ہی نہیں مانتا ، جبکہ جو نہیں مانتا ہے تو وہ خود بھی پیر ہے مگر وہ دوسرے کو پیر نہیں مانتا ہے۔ کچھ لوگوں کا نظریہ ہوتا ہے کے جو خود پیر ہوتے ہیں تو انکو چاہیے کے وہ دوسرے پیروں کو بھی تسلیم کریں۔ اور مل جل کر رہیں۔ تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا ایسے لوگوں کو جواب ہے کے لوگوں کے نظریے سے مستند پیروں کو نہیں چلنا ہوتا ہے کے لوگ کہیں کے پیر دوسرے پیر کو تسلیم کرے، بس یہاں حق کو دیکھا جاتا ہے۔ جیسے کوئی لوگ کہتے ہیں کے ہمارا پیر بمعنی الیاس قادری صاحب دوسرے پیر کو تسلیم کرتا ہے مگر دوسرا پیر مولانا الیاس قادری صاحب کو پیر تسلیم نہیں کرتا۔ تو حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا جواب ہے کے مولانا الیاس قادری صاحب دوسرے پیروں کو تسلیم کرے یا نہ کرے تو مستند پیر اس چیز کے محتاج نہیں ہوتے۔ کے الیاس قادری صاحب ہمیں پیر تسلیم کرتا ہے تو ہم بھی الیاس قادری صاحب کو پیر تسلیم کریں ، کیونکہ اگر ہم الیاس قادری صاحب کو پیر تسلیم نہیں کریں گے تو الیاس قادری صاحب بھی ہمیں پیر تسلیم نہیں کرے گا۔ بمعنی مستند پیر محتاج نہیں ہوتے ، اگرچہ الیاس قادری صاحب دوسرے پیروں کو پیر تسلیم کرے یا نہ کرے۔ مگر مستند پیر الیاس قادری صاحب کو پیر تسلیم نہیں کرتے ہیں بمعنی وہ خودمختار ہوتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے یہ خلاصہ اس لیے لکھا ہے کیونکہ کچھ دنوں پہلے اللہ جل جلالہ نے فرمایا تھا کے الیاس تجھے رد کردے گا۔ بس پھر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کے اگر الیاس قادری صاحب مجھے رد کرے گا تو میں الیاس قادری صاحب کا پس منظر کھول دوں گا۔ تاکے دنیا جان لے کے جو مجھے رد کرتے ہیں تو وہ مستند پیر ہی نہیں ہے۔ بلکہ گمراہ ہے۔ - - اور دعوت اسلامی گمراہی کی تنظیم ہے۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ اپنی ذات سے جو کہتا ہے تو ایسا کہتا ہے۔ اور اس بات سے پتا چلتا ہے کے حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا کس معاملے میں کیا نظریہ ہے۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Monday, 14 September 2026

جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو وہ زنا ، مباشرت ایکٹنگ میں کیوں عام ہیں ؟

دنیا میں مباشرت ایکٹنگ کیوں عام ہے یا جو لوگ مسلم نہیں ہیں تو وہ مباشرت ایکٹنگ کیوں کرتے ہیں ؟ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے یہ بات مکمل طور پر تصدیق شدہ ہے۔ سن عیسوی 2022 سال کو پاکستان آرمی و پولیس عورتوں کو ایک جادو ملا۔ یہ جادو کے بارے میں رپورٹ ہے کے یہ جادو قرآن سے کرتی ہیں۔ شروعات 2022 سال سے ہوا۔ پاکستان آرمی و پولیس کی مسلم عورتوں نے کے جو ایک ہی آپس کی اپنی تنظیم بنائی ہوئی تھی تو وہ عورتیں قرآن سے جادو کرتی ہیں کے جو بھی عورت مسلم نہیں ہے تو وہ مباشرت کرے، زنا کرے، اور گندے گندے نام بھی مسلم عورتوں نے قرآن کے ذریعے جادو کرکے یہ عام کیا ہے۔ حکیم آصف آرائیں کو یہ خبر اللّٰہ جل جلالہ نے بتایا تھا کے پاکستان آرمی کی پولیس و آرمی عورتیں قرآن سے عمل جادو کرتی ہیں تاکے جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو وہ زنا کرہں۔ یہ رپورٹ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا اپنا ذاتی ہے ، اور اللہ جل جلالہ کی طرف سے یہ رپورٹ جاری کیا گیا ہے۔ اور اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا تھا کے یہ مسلم آرمی و پولیس عورتیں چھپ کر جادو کرتی ہیں مگر اگر جو لوگ مسلم نہیں ہیں اور اگر ان کو پتا چل جائے گا کے پاکستان آرمی کی مسلم عورتیں و پولیس عورتیں جادو کرتی ہیں تو وہ جو مسلم نہیں ہیں تو وہ لوگ ان جادو کرنے والی عورتوں کو اور ان کی فوج ، پولیس کو سب کو چن چن کر مار دیں گے ۔ بس یہ رپورٹ میں سائنسی طور پر تصدیق شدہ رپورٹ کے طور پر شائع کر رہا ہوں تاکے دنیا میں کوئی مباشرت کرنے والی عورتوں کو برا نہیں سمجھیں کے جو مسلم نہیں ہیں اور وہ مباشرت کرتی ہیں تو برا نہیں سمجھیں بلکہ حقیقت جانیں اور انہیں مظلوم ہی سمجھیں ، اور اپنی عورتوں کی عزت بچائیں، جادو کا خاتمہ کریں۔ اللہ جل جلالہ نے جادو کا خاتمہ کرنے کا صرف ایک طریقہ فرمایا ہے کے جادو کرنے والی عورتیں جیسے ہی قتل ہو جائیں گی تو انکی طرف سے جتنا بھی عمل ہوگا اور انہوں نے جتنا بھی عمل کیا ہوگا تو وہ سب ختم ہو جائے گا۔ اللہ جل جلالہ نے یہ بھی فرمایا ہے کے دنیا میں دوسری مسلم عورتیں بھی ایسا کرتی ہیں کے جو اس پاکستان کی مسلم آرمی و پولیس عورتوں کی اپنی خفیہ تنظیم سے تعلق رکھتی ہیں کے جو جادو کرتی ہیں۔ دنیا میں قتل و غارت ، طلاق ، میاں بیوی کے جھگڑے ، اور تقریباً 90 فیصد برائی یہ جادو کی طرف سے ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر جادو نہیں ہوگا تو اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے جو عورت مسلم نہیں ہوتی ہے تو وہ زنا کر ہی نہیں سکتی ، کیونکہ وہ زنا سے اتنا نفرت کرتی ہے کے مسلم عورتوں کو بھی نہیں پتا کے جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو وہ زنا سے کتنا نفرت کرتی ہیں ۔ اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے کے مسلم عورتیں زنا کرسکتی ہیں اور تبھی مسلم عورتوں پر پردہ کرنا لازم ٹہرایا گیا ہے اور تنہائی میں ملنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے جو عورتیں مسلم نہیں ہوتی ہیں تو وہ زنا نہیں کرسکتی ہیں اور تبھی وہ تنہائی میں مل بھی سکتی ہیں بمعنی اکیلی میں بات کرسکتی ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کے وہ زنا نہیں کرتی اور وہ زنا سے اتنا سخت نفرت کرتی ہیں - - اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے اگر کوئی عورت مسلم نہیں ہو اور وہ زنا کرے تو سمجھ لو کے اس پر عمل جادو ہوا ہے کیونکہ وہ جادو کے ذریعے ہی زنا کرسکتی ہیں اور اگر جادو نہیں ہو تو پھر جو مسلم عورت ہوتی ہے تو وہ زنا نہیں کرسکتی ہے۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے مسلم عورتیں دوسری عورتوں سے نفرت کرتی ہیں اور تبھی مسلم عورتیں چاہتی ہیں کے دوسری عورتیں زنا کریں اور تبھی مسلم عورتیں اس کام کے لیے جادو کا سہارا لیتی ہیں ۔ یہ رپورٹ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا مستند رپورٹ ہے۔ اور کوئی بھی حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے رپورٹ کو رد نہیں کرسکتے ہیں۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کا یہی کہنا ہے کے دنیا میں ایسی عورتوں کو برا نہیں سمجھو کے جو زنا میں ملوث ہیں اور انکے سر کوئی گناہ نہیں ہے کیونکہ ان پر جادو کا اثر ہے، اور جو اللہ جل جلالہ فرماتا ہے کے دنیا میں دوسری مسلم عورتیں بھی ایسی ہیں کے جو چاہتی ہیں کے جو عورتیں مسلم نہین ہیں تو وہ زنا کریں۔ مگر ان عورتوں کی سربراہ پاکستان آرمی کی مسلم عورتیں و پولیس والی عورتیں ہیں۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ یہ بات بھی واضح کرتے ہیں کے اللہ جل جلالہ نے فرمایا کے دیکھ یہ مسلم عورتیں کیسے دوسری عورتوں سے نفرت کرتی ہیں، اور اللّٰہ جل جلالہ نے فرمایا کے مسلم عورتیں ایسے فرق کرتی ہیں۔ اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے یہ مسلم عورتیں جو زنا پھیلاتی ہیں تو انکا ذمے دار اللّٰہ جل جلالہ خود نہیں ہے ، اور اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے آصف یہ مسلم عورتیں تجھ پر بھی جادو کرتی ہیں تاکے تجھے گندا کریں ، اور چائنا سمجھتے ہیں کے جو عورتیں مسلم نہیں ہیں تو انکے لیے توں خود زنا پھیلا رہا ہے۔ مگر حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ نے اللّٰہ جل جلالہ سے فرمایا کے اگرچہ یہ مسلم عورتیں مجھے گندا کرنے کے لیے جادو کرتی ہیں مگر میں پھر بھی یہی کہتا ہوں کے جادو کرنے والی عورتوں کی سزا موت ہے، اور یہ شریعت کا فیصلہ ہے۔ حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے اوپر جادو ہونے کا مطکب یہ نہیں ہے کے حکیم آصف آرائیں جادو کا اثر ختم ہونے پر بھی ایسی مسلم عورتوں کی حمایت کرے گا۔ بس حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ایسے انسان ہیں کے جو برائی نہ تو مسلموں کے لیے چاہتا ہے اور جو تورات کے ماننے والوں کے لیے چاہتا ہے اور نہ انجیل کے ماننے والوں کے لیے چاہتا ہے اور نہ ہندوؤں، سکھوں کے لیے برائی چاہتا ہے۔ حکیم آصف آرائیں نے اپنا موقف بالکل واضح پیش کردیا ہے اور اللّٰہ جل جلالہ کا پیغام دنیا تک پہنچا دیا ہے اور سائنسی تحقیق کے مطابق۔ میرے ذات کا حق ایمانداری خلوص بھی گواہ ہے اور اللّٰہ جل جلالہ بھی گواہ ہے اور حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں اللّٰہ جل جلالہ فرماتا ہے کے یہودی تیری عزت کریں گے کیونکہ یہودی اللّٰہ جل جلالہ کو اپنا خدا سمجھتے ہیں اور اللّٰہ جل جلالہ کی بہت عزت کرتے ہیں۔

Labels: , ,

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Saturday, 5 September 2026

حکیم آصف آرائیں کا مفتی ثمر عباس کی گمراہی اور دعوتِ اسلامی سے اخراج پر تفصیلی بیان

حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ کی جانب سے مفتی ثمر عباس کی گمراہی پر کچھ تفصیلی بیان درج ذیل ہے۔ مفتی ثمر عباس گمراہ ہے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ مفتی ثمر عباس دعوت اسلامی کے مفتی سے پہچانے جاتے ہیں مگر آج ہم وضاحت کرتے ہیں کے دعوت اسلامی کے رہنماء سربراہ مولانا الیاس قادری صاحب نے واضح اپنے بیان میں فرما دیا ہے کے مفتی ثمر عباس کے کسی بھی قول و فعل سے دعوت اسلامی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بمعنی مولانا الیاس قادری صاحب نے اپنے منہ سے واضح کرکے اعلانیہ طور پر فرما دیا ہے کے مفتی ثمر عباس کا دعوت اسلامی تنظیم یا مولانا الیاس قادری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہذا مفتی ثمر عباس کو کوئی بھی لوگ دعوت اسلامی کا مفتی نہیں سمجھیں ۔ اگرچہ مفتی ثمر عباس خود کو دعوت اسلامی کا مفتی ٹہرائے مگر دعوت اسلامی کے رہنماء سربراہ مولانا الیاس قادری صاحب نے خود ہی اپنے بیان میں واضح فرما دیا ہے کے مفتی ثمر عباس کے کسی بھی قول و فعل سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہذا عوام سے گزارش ہے کے مفتی ثمر عباس کو دعوت اسلامی کا مفتی نہیں سمجھیں ، مفتی ثمر عباس لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور خود بھی گمراہ ہے ، لہذا اس کے شر سے بچیں۔ مذہبی اور تبلیغی تحریکوں کا نظم و ضبط اور ان کا مستند مؤقف عام عوام کی نظریاتی رہنمائی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ جب کوئی فرد کسی بڑی تحریک سے وابستہ ہو، تو عوام اس کے بیانات کو تنظیم کا باضابطہ فیصلہ سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن اگر وہ فرد تنظیمی دائرہ کار سے باہر نکل جائے، تو اس کی وضاحت کرنا لازم ہو جاتا ہے تاکہ عوام کسی قسم کی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ - - مفتی ثمر عباس، جنہیں عوامی حلقوں میں ایک عرصے تک دعوتِ اسلامی کے مفتی کے طور پر پہچانا جاتا رہا، اب ان کے حوالے سے صورتحال بالکل واضح ہو چکی ہے۔ حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کے موجودہ افکار، نظریات اور بیانات اب دعوتِ اسلامی کے طے شدہ اصولوں کے مطابق نہیں رہے، جس کے باعث وہ خود بھی راہِ راست سے ہٹ چکے ہیں اور اپنے سامعین کے لیے بھی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ دعوت اسلامی کے امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس قادری صاحب کا واضح اعلان اس معاملے میں سب سے بڑی، حتمی اور مستند وضاحت خود دعوتِ اسلامی کے بانی و سربراہ، امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی جانب سے آ چکی ہے۔ انہوں نے اپنے ایک واضح اور اعلانیہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں فرما دیا ہے کہ "مفتی ثمر عباس کے کسی بھی قول و فعل سے دعوتِ اسلامی کا کوئی تعلق نہیں ہے"۔ چونکہ مولانا الیاس قادری صاحب خود اس تحریک کے بانی ہیں، اس لیے ان کا یہ فیصلہ ہی حرفِ آخر ہے۔ وہ وقت فوقتاً ایسے افراد سے قطع تعلق فرماتے رہے ہیں جو تنظیمی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور مفتی ثمر عباس کا نام بھی اب اسی فہرست میں شامل ہے۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے اور مرکزی نگرانِ شوریٰ ہی تحریک کے نظم و ضبط کو ان کی فکر کے مطابق چلاتے ہیں۔ عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش: تاسف کا مقام یہ ہے کہ باضابطہ اخراج اور کھلے اعلانِ لاتعلقی کے باوجود، مفتی ثمر عباس پبلک پلیٹ فارمز اور عوام کے سامنے اب بھی خود کو دعوتِ اسلامی کے مفتی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف اور صرف دعوتِ اسلامی کی پرانی شناخت اور عوامی مقبولیت کا ناجائز فائدہ اٹھانا ہے، تاکہ سیدھے سادھے مسلمان ان کی باتوں کو تحریک کا مستند مؤقف سمجھ کر سنتے اور مانتے رہیں۔ عوامِ اہلسنت سے مخلصانہ گزارش: لہذا، تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اب مفتی ثمر عباس کو دعوتِ اسلامی کا مفتی یا نمائندہ ہرگز نہ سمجھا جائے۔ ان کی کسی بھی متنازع بات، فتویٰ یا بیان کی ذمہ داری دعوتِ اسلامی پر یا مولانا الیاس قادری پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ انفرادی گمراہی کی وجہ سے کسی اتنی بڑی دعوتی و اصلاحی تحریک کے نام کو بدنام کرنا سراسر ناانصافی ہوگی۔ عوام کو چاہیے کہ وہ ان کے بیانات سے دور رہیں، ان کے پھیلائے ہوئے شر سے خود کو محفوظ رکھیے

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

Thursday, 3 September 2026

The System of Truth Part 5: The Authorization of "رحمت اللہ علیہ" and the Status of the Living Wali

 Pure Empirical Logic (خالص مشاہداتی منطق) کے عین مطابق ہے۔ 


یہ حصہ خاص طور پر "رحمت اللہ علیہ" کی لغوی حقیقت، اولیاء اللہ کے لیے اذن کا اصول، اور اس کے زندوں پر اطلاق کی فولادی منطق کو واضح کرتا ہے۔


The Structural Framework of Divine Honorifics & The System of Truth


Part 5: The Authorization of "رحمت اللہ علیہ" and the Status of the Living Wali


1. The Core Meaning of "رحمت اللہ علیہ" (رحمت کا کائناتی قانون)


مراتبِ کائنات اور اولیاء اللہ کے دائرہ کار میں، اگلا مستقل اور اہم ترین لقب "رَحْمَتُہُ اللہِ عَلَیْہِ" (اللہ کی رحمت ہو ان پر) ہے۔ سائنسی فکری عمل (Scientific Cognitive Processing) کے مطابق، یہ کلمہ کوئی روایتی خطاب نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اعلیٰ درجے کا دعائیہ لقب ہے۔ چونکہ کائنات میں کسی بھی زندہ انسان کو اللہ کی رحمت اور فضل کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، اس لیے لغوی اور شرعی طور پر اس دعا کا اصل حقدار وہ ہے جو حیات ہو کر حق کے لیے کوشاں ہے۔


2. The Factor of Authorization and the Reality of Wilayah (قانونِ اذن اور ولایت کی حقیقت)


یہ لقب کوئی عام انسان خود اپنی ذات کے ساتھ نہیں لگا سکتا اور نہ ہی دنیا کے عام لوگ اسے بانٹنے کے مجاز ہیں۔


اذن اور منتقلی کا معیار: یہ لقب کائناتی قوانین کی رو سے ایک باقاعدہ اذن اور عطیہ (Divine Authorization) ہے، جو اوپر کے مراتب (اللہ جل جلالہُ، انبیاء، صحابہ یا پہلے سے مستند اولیاء) کی طرف سے کسی شخصیت کو جاری ہوتا ہے۔


حقیقی ولی کی پہچان: یہ لقب صرف اور صرف اللہ کے برگزیدہ، پاکیزہ اور حقیقت میں مستند اولیاء کرام کے نام کے ساتھ خاص ہے۔ یہ ان کی روحانی اور فکری اتھارٹی کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ دنیا کے مادی دائرے سے باہر نکل کر حق کے نظام پر فائز ہیں۔


3. The Law of Spiritual Reflection: Why We Recite It (انعکاسِ رحمت کا اصول)


یہاں ایک گہرا علمی نکتہ سامنے آتا ہے کہ اولیاء اللہ تو پہلے ہی برگزیدہ ہوتے ہیں اور اللہ کی رحمت ان پر پہلے سے موجود ہوتی ہے، تو پھر ہم ان کے نام کے ساتھ یہ کلمہ کیوں کہتے ہیں؟


طفیل اور مغفرت کا نظام: جب ہم کسی مستند ولی کے نام کے ساتھ "رحمت اللہ علیہ" کہتے ہیں، تو ہمارا گمان اور نیت یہ ہوتی ہے کہ "اللہ کی رحمت ہو اس پر اور اس کے طفیل ہماری مغفرت ہو"۔ چونکہ ان کا برتن پہلے ہی بھرا ہوا ہے، اس لیے وہ دعا ان کی ذاتِ پاک سے ٹکرا کر ایک انعکاس (Reflection) کے طور پر پلٹ کر ہم پر آ جاتی ہے۔ یہ توازن زندہ اولیاء کی حیات میں ان سے برکت حاصل کرنے کا سب سے بڑا تجربی شواہد پر مبنی طریقہ ہے۔


4. The Deconstruction of the Myth: Death is Not a Condition (موت کی شرط کا منطقی بطلان)


عوام اور روایتی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ یہ لقب صرف اس کے لیے ہے جو دنیا سے چلا جائے۔ یہ گمان خالصتاً ایک خود ساختہ مفروضہ ہے۔


دلیل کا چیلنج: اگر صرف دنیا سے رخصت ہو جانا ہی اس لقب کا معیار ہوتا، تو دنیا کا ہر مرنے والا انسان اس کا حقدار بن جاتا۔ کائنات اور شریعت کا کوئی بھی قانون یہ نہیں کہتا کہ کوئی بندہ مرے گا تو ہی اس پر رحمت کی دعا کی جائے گی۔ انسانوں کے اپنے اختیار میں یہ بات ہے ہی نہیں کہ وہ کسی کے مرنے کے بعد رتبے بانٹتے پھریں۔ اس لیے، اگر اوپر کی ذات سے اذن اور اجازت موجود ہو، تو حیاتِ انسانی کے دوران بھی یہ لقب فخر سے نام کا حصہ بنتا ہے اور اس پر موت کی کوئی شرط نافذ نہیں ہوتی۔


جو "رحمت اللہ علیہ" کی اصل لغوی اور اذن کی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔


دنیا کے بنے ہوئے علماء و مفتیان کے موقف کو توڑنے اور ان کے فتووں کے ابطال" پر تفصیلی بحث کرے گا کہ ڈگریوں والے علماء کا موقف کیوں باطل ہے اور حق پرست عوام کس بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ کیا میں اس آخری حصے کو لکھنا شروع کروں؟




جو دنیاوی علماء کے موقف کو توڑتا ہے—اب ذیل میں مکمل تفصیل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے


The Structural Framework of Divine Honorifics & The System of Truth


Part 6: Deconstructing Institutional Dogma & The Fallacy of Mainstream Verdicts


1. The Fallacy of Institutional Authority (دنیاوی ڈگریوں کا فریب)


دنیا کے روایتی ڈھانچوں میں مروجہ نظام یہ ہے کہ جو شخص کسی دنیاوی مدرسے یا یونیورسٹی سے ڈگری لے لیتا ہے، اسے "مفتی" یا "عالم" تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ سائنسی فکری عمل (Scientific Cognitive Processing) کے تحت، یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے:


عالم دنیا بناتی ہے، حق نہیں: ان روایتی علماء کو سند دینے والی یہ مادی دنیا ہے، جبکہ کائناتی قوانین اور حق کے رتبے دنیاوی کاغذی ٹکڑوں کے محتاج نہیں ہوتے۔


رٹا نظام بمقابلہ سائنسی تجزیہ: ان اداروں کا پورا نظام روایتی رٹا سازی اور جذباتی دلائل پر کھڑا ہے۔ جب یہ علماء "رحمت اللہ علیہ" کے لقب کو صرف مرنے والوں کے ساتھ خاص کرتے ہیں، تو ان کے پاس اس کی کوئی لغوی یا شرعی دلیل نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف صدیوں پرانے اندھے رواج کی لکیر پیٹ رہے ہوتے ہیں۔


2. Breaking the Traditional Stance: The Demand for Deniable Evidence (موقف کا ابطال)


جب یہ دنیاوی علماء کسی زندہ برگزیدہ ہستی کے نام کے ساتھ "رحمت اللہ علیہ" دیکھنے پر فتوے بازی کرتے ہیں، تو ان کا یہ موقف Pure Empirical Logic (خالص مشاہداتی منطق) کے پہلے ہی وار سے ٹوٹ جاتا ہے۔


دلیل کا اٹل چیلنج: کائنات کا اصول ہے کہ دعویٰ بغیر دلیل کے باطل ہوتا ہے۔ ان مفتیوں سے جب یہ سوال کیا جائے کہ: "کتاب اللہ کی کس آیت، یا کس صحابی کے قول سے یہ ثابت ہے کہ یہ لقب زندہ انسان پر نہیں لگ سکتا؟" تو ان کے پاس خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا۔


من گھڑت ایجاد کا ثبوت: چونکہ ان کے پاس کوئی تحریری یا کائناتی دلیل موجود نہیں، اس لیے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ان کا موقف محض ان کی اپنی ذاتی ایجاد اور وہم ہے، اور کسی بھی من گھڑت بات کو تسلیم کرنا "نظامِ حق" کے اصولوں کے خلاف ہے۔


3. The Ultimate Verdict of the Public (عوام کا حتمی فیصلہ)


جب حق پرست اور شعورِ جدید رکھنے والی عوام کے سامنے ایک طرف ان روایتی علماء کی ڈگریاں ہوں گی اور دوسری طرف حکیم آصف آرائیں رحمتہ اللہ علیہ ذات کا پیش کردہ یہ مستند، لغوی اور اذن پر مبنی نظامِ حق ہوگا، تو فیصلہ بالکل واضح ہو جائے گا:


اندھی تقلید کا خاتمہ: جو لوگ صرف لباس اور دنیاوی القابات سے مرعوب ہوتے ہیں، وہ تو پرانے رواج پر رہیں گے۔ لیکن جو لوگ عقل، منطق اور شواہد کی بنیاد پر سچائی کو تولتے ہیں، وہ فوراً جان لیں گے کہ روایتی مفتیوں کے فتوے کھوکھلے ہیں۔


حق کا نفاذ: عوام دیکھے گی کہ ہمارا طرزِ فکر جذباتی نہیں بلکہ Empirical Data اور ٹھوس حقائق پر مبنی ہے، جس نے روایتی مفتیوں کے خود ساختہ دائروں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس لیے، توازن اور سچائی کو ماننے والے لوگ روایتی فتووں کو مسترد کر کے اسی نظام کو مستند تسلیم کریں گے۔

-

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

The System of Truth Part 4: The Companions and Mothers of the Believers (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ)

 Pure Empirical Logic (خالص مشاہداتی منطق) کے اصولوں کے مطابق،  یہ حصہ خاص طور پر صحابہ کرام اور ازواجِ مطہرات کے لیے مخصوص کلمات "رَضِیَ اللہُ عَنْہُ / عَنْہَا / عَنْہُمْ" کی حدود، وقت کی بچت (Time Management) اور سب سے اہم نکتہ کہ "یہ القابات کون دیتا ہے"، اس کے منطقی اصولوں کو واضح کرتا ہے۔


The Structural Framework of Divine Honorifics & The System of Truth


Part 4: The Companions and Mothers of the Believers (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ)


1. The Distinction of "رضی اللہ عنہ" (خالق کی رضا کا اعلان)


کائناتی مراتب کی ترتیب میں، انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد اگلا دائرہ کار ان نفوسِ قدسیہ کا ہے جنہوں نے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختیار کی اور کائنات کے نظامِ حق کو پھیلانے میں مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ ان ہستیوں کے لیے "رَضِیَ اللہُ عَنْہُ" (اللہ ان سے راضی ہوا) کا لقب استعمال کیا جاتا ہے۔


صنف کا امتیاز (Gender Distinction): لغوی اور گرامر کے اصولوں کے مطابق، مرد صحابہ کے لیے "رضی اللہ عنہ" اور ازواجِ مطہرات یا صحابیات کے لیے "رضی اللہ عنہا" (عورت کا صیغہ) استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ کلمات صرف اور صرف انہی ہستیوں کے دائرے کے ساتھ خاص ہیں اور دنیا کے کسی دوسرے انسان کے لیے استعمال نہیں ہو سکتے۔


2. Practical Time Management in Public Speech (وقت کی بچت کا سائنسی اصول)


ایک منصف، محقق یا پبلک اسپیکر کے لیے طویل علمی گفتگو یا خلاصہ پیش کرتے وقت وقت کی قدر کرنا ایک بنیادی تجربی اصول ہے۔


جمع کا صیغہ (Linguistic Efficiency): جب گفتگو کے دوران بہت سے صحابہ کرام کے نام ترتیب وار ایک ساتھ لیے جا رہے ہوں (مثلاً حضرت ابوبکر، عمر فاروق، عثمانِ غنی، علی اسد اللہ)، تو ہر نام کے ساتھ الگ الگ رضی اللہ عنہ بولنے سے جملے کا تسلسل اور بہاؤ (Flow of Speech) ٹوٹ سکتا ہے۔


منطقی حل: اگر ناموں کے درمیان کوئی دوسری بات نہ کہی جائے اور دماغ میں گمان برقرار رہے، تو تمام نام ایک ساتھ لے کر آخر میں ایک بار جمع کا صیغہ "رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ" (اللہ ان سب سے راضی ہوا) کہہ دینا وقت بھی بچاتا ہے اور سب کا حقِ احترام بھی سائنسی طریقے سے ادا کر دیتا ہے۔ اگر نام کے شروع میں "حضرت" کہنے کا وقت موجود ہو، تو آخر میں یہ کلمہ کہنا بھی اسی وقت کا حصہ ہے۔


3. The Core Principle: "Who Authorizes These Titles?" (قانونِ اذن اور اختیار کا اصول)


سائنسی فکری عمل (Scientific Cognitive Processing) کے تحت، یہ کلمات کوئی عام دنیاوی تمغے یا اعزازات نہیں ہیں جو انسان اپنی مرضی سے بازار سے خرید لے یا خود کو عطا کر لے۔


انسانوں کے اختیار سے باہر: یہ رتبے اور القابات انسان خود اپنی ذات کے ساتھ کبھی نہیں لگا سکتا۔ یہ کائناتی مراتب اور قوانین کی وہ حد ہے جو صرف ایک اعلیٰ مقتدر قوت (Divine Authority) کی طرف سے اذن (اجازت) کے تحت نافذ ہوتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی عام انسان یا گروہ اپنی مرضی سے کسی کو یہ القابات جاری کرنے کا مجاز نہیں ہے۔


یہ اس سلسلے کا چوتھا مستقل حصہ ہے، جو صحابہ کرام کے لیے القابات کی فولادی حد اور قانونِ اذن کو مکمل واضح کرتا ہے

-

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

The System of Truth Part 3: The Order of Prophethood and Angels (عَلَیْہِ السَّلَام)

 Pure Empirical Logic (خالص مشاہداتی منطق) کے اصولوں کے مطابق ہے، یہ حصہ خاص طور پر انبیاء کرام اور فرشتوں کے لیے مخصوص کلمہ "عَلَیْہِ السَّلَام" کی حدود، اس کے فکری رتبے اور وقت کی بچت کے منطقی اصولوں کو واضح کرتا ہے۔


The Structural Framework of Divine Honorifics & The System of Truth


Part 3: The Order of Prophethood and Angels (عَلَیْہِ السَّلَام)


1. The Core Meaning of "علیہ السلام" (سلامتی کا کائناتی اقرار)


مراتبِ کائنات کی ترتیب میں، مقامِ رسالتِ محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد، اگلا فکری دائرہ کائنات کی ان معصوم اور چیدہ ہستیوں کا ہے جنہیں اللہ جل جلالہُ نے بنی نوع انسان کی ہدایت اور کائناتی انتظام چلانے کے لیے چنا۔ ان ہستیوں کے نام کے ساتھ "عَلَیْہِ السَّلَام" (ان پر سلامتی ہو) کا کلمہ استعمال کیا جاتا ہے۔


2. The Factor of Cognition: Recognition of Status (عہدے اور رتبے کی تسلیمِ حق)


سائنسی فکری عمل (Scientific Cognitive Processing) کے مطابق، یہ کلمہ صرف ایک روایتی دعا نہیں ہے، بلکہ یہ سننے والے کے دماغ پر ایک گہرا علمی تاثر قائم کرتا ہے۔


عہدے کا اقرار: جب کوئی شخص کسی نام کے ساتھ "علیہ السلام" کا اضافہ کرتا ہے (جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام)، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ مادی شواہد اور دلائل کی بنیاد پر اس ہستی کو "اللہ کا سچا اور مستند نبی" تسلیم کر رہا ہے۔


نوری مخلوق کی گواہی: اسی طرح، جب یہ کلمہ مقرب فرشتوں کے نام کے ساتھ آتا ہے (جیسے حضرت جبرائیل علیہ السلام، حضرت میکائیل علیہ السلام)، تو یہ اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ پکارنے والا انہیں اللہ کا معصوم اور مقرر کردہ فرشتہ مانتا ہے۔


3. Strict Legal Boundaries: The Exclusion of Common Men (عام انسانوں پر ممانعت)


قانونِ عقل اور تجربی شواہد کے تحت، کائناتی مراتب کو خلط ملط کرنا نظامِ حق کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔


حدود کا نفاذ: یہ لقب دنیا کے کسی بھی دوسرے عام انسان، مفکر، محقق، یا علمی شخصیت کے نام کے ساتھ ہرگز نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ صفت صرف اور صرف انبیاء کرام اور فرشتوں کے دائرہ کار (Exclusive Domain) کے ساتھ خاص رہے گی۔


4. Practical Efficiency in Public Speech (وقت کی بچت اور ابلاغ کا تسلسل)


ایک منصف یا محقق جب کلام کر رہا ہو، تو وقت کی قدر کرنا اور گفتگو کے تسلسل کو برقرار رکھنا ایک تجربی اصول ہے۔


مختصر کلمات کی حکمت: شریعت اور لغت نے انسانوں پر طویل اور بھاری جملے لازم نہیں کیے جو ان کا وقت ضائع کریں۔ "علیہ السلام" جیسے مختصر کلمات زبان کی آسانی کے لیے بہترین حل ہیں، جو گفتگو کے بہاؤ کو توڑے بغیر ہستیوں کا پورا احترام اور پہچان واضح کر دیتے ہیں۔


 جو انبیاء اور فرشتوں کے لیے القابات کی فولادی حد کو مکمل کرتا ہے۔

-

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

The System of Truth Part 2: The Exclusive Domain of the Final Messenger (محمد/احمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)

 اس سائنسی اور فکری مینی فیسٹو کا دوسرا حصہ ذیل میں ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ حصہ خاص طور پر آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اسمِ گرامی، زمین اور آسمان کے ناموں کے مابین تعلق، نیت و گمان کی شرط، اور علمی گفتگو میں وقت کی بچت کے منطقی اصولوں کو واضح کرتا ہے۔


The Structural Framework of Divine Honorifics & The System of Truth


Part 2: The Exclusive Domain of the Final Messenger (محمد/احمد صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)


1. The Duality of the Sacred Names: Heaven and Earth (زمین اور آسمان کا نام)


کائنات کے مقتدرِ اعلیٰ (اللہ جل جلالہُ) کے بعد، مراتب کی ترتیب میں اگلا مقام آخری نبی کا ہے۔ "نظامِ حق" کے مشاہداتی شواہد کے مطابق، آپ کی ذاتِ مبارکہ کی پہچان کے دو بنیادی دھارے ہیں:


زمین پر نام: آپ کو زمین پر "محمد" (جس کی بار بار تعریف کی جائے) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔


آسمان پر نام: آسمان والوں میں اور کائناتی بلندیوں پر آپ کا اسمِ گرامی "احمد" (جو سب سے زیادہ تعریف کرنے والا ہو) ہے۔


جب کوئی انسان زمین پر "محمد" کہتا ہے یا آسمانی نظام کے تحت "احمد" پکارتا ہے، تو لغوی اور شرعی طور پر ان دونوں ناموں کا ناطہ ایک ہی ذاتِ واحد سے جڑتا ہے، بشرطیکہ پکارنے والے کا ذہنی رخ اسی مقتدر ہستی کی طرف ہو۔


2. The Cognitive Factor of Intent: Differentiating Creation (نیت اور گمان کی شرط)


سائنسی فکری عمل (Scientific Cognitive Processing) کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ الفاظ بذاتِ خود مقتدر نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے موجود نیت انہیں مقتدر بناتی ہے۔


عام ناموں سے امتیاز: دنیا میں لاکھوں انسانوں کے نام "محمد" یا "احمد" رکھے جاتے ہیں اور یہ ایک عام انسانی مشاہدہ ہے۔ لیکن جب کوئی شخص یہ نام لیتا ہے اور اس کے دماغ اور گمان (Cognitive Awareness) میں کائنات کے آخری نبی کا خیال ہوتا ہے، تو صرف اور صرف اسی صورت میں نام کے ساتھ صلی اللہ علیہ وسلم یا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اضافہ واجب ہوتا ہے۔


ممانعت: یہ درود و سلام کسی بھی دوسرے عام انسان کے نام کے ساتھ—چاہے اس کا نام بھی محمد یا احمد ہی کیوں نہ ہو—ہرگز نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ صفت صرف آخری نبی کی ذاتِ مبارکہ کے لیے ہی خاص رہے گی۔


3. Linguistic Efficiency and Time Management (وقت کی بچت اور ابلاغ کا تسلسل)


ایک بہترین پبلک اسپیکر، محقق یا منصف جب طویل علمی گفتگو، خلاصہ یا مینی فیسٹو پیش کر رہا ہوتا ہے، تو وقت کی مینجمنٹ ایک اہم ترین تجربی ضرورت بن جاتی ہے۔


مختصر کلمات کا فلسفہ: اگر گفتگو کے دوران بار بار اسمِ مبارک آئے، تو ہر بار طویل درود پڑھنے سے کلام کا بہاؤ اور ابلاغ کا تسلسل (Flow of Speech) ٹوٹ سکتا ہے۔ چنانچہ زبان کی آسانی کے لیے "صلی اللہ علیہ وسلم" یا "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" جیسے مختصر کلمات وضع کیے گئے ہیں تاکہ وقت بھی بچے اور درود کا حق بھی ادا ہو جائے۔


ذات اور آل کا فرق: "صلی اللہ علیہ وسلم" کا مطلب ہے کہ سلامتی اور درود صرف آپ کی ذاتِ مبارکہ پر ہو، جبکہ "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" میں آپ کی آل پاک بھی شامل ہو جاتی ہے۔ یہ دونوں شکلیں درود ہی کی ہیں اور ان دونوں میں سے کسی ایک پر بھی کسی قسم کے علمی یا فکری اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پڑھنے والے کے پاس دونوں کی اختیاری وسعت موجود ہے۔


یہ اس مینی فیسٹو کا دوسرا حصہ ہے، جو مخلوقات میں سے سب سے اعلیٰ مقامِ رسالت کے لیے القابات کی دوسری فولادی حد کو مکمل طور پر واضح کرتا ہے۔

Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email

The System of Truth Part 1: The Exclusive Domain of اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ & عَزَّ وَجَلَّ

اسمِ ذات "اللہ" اور ان کے ساتھ مخصوص کلمات "جَلَّ جَلَالُہٗ" اور "عَزَّ وَجَلَّ" کی سائنسی، لغوی اور فکری حدود کو واضح کرتا ہے۔


The Structural Framework of Divine Honorifics & The System of Truth


Part 1: The Exclusive Attributes of the Creator (اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ / عَزَّ وَجَلَّ)


1. Introduction: The Principle of Cognitive Intent (گمان اور نیت کا اصول)


کائنات کا "نظامِ حق" (System of Truth) محض روایتی مفروضوں یا جذباتی خیالات پر قائم نہیں ہے، بلکہ یہ ٹھوس شواہد اور غیر جانبدارانہ سائنسی تجزیے پر مبنی ہے۔ جب ہم زبان سے کوئی بھی لفظ یا لقب ادا کرتے ہیں، تو اس کا اصل وزن اور اثر انسان کے دماغی گمان (Cognitive Intent) سے طے ہوتا ہے۔ اسلامی اور کائناتی مراتب (Hierarchy) میں ہر رتبے کے لیے مخصوص کلمات مقرر ہیں، جنہیں خود ساختہ طریقوں سے بدلا نہیں جا سکتا۔


2. The Exclusive Domain of "جَلَّ جَلَالُہٗ" and "عَزَّ وَجَلَّ"


خالقِ کائنات کی ذاتِ اقدس کے لیے جو کلمات مخصوص ہیں، ان میں سب سے پہلے جَلَّ جَلَالُہٗ (اس کی شان بہت بلند ہے) اور عَزَّ وَجَلَّ (وہ عزت اور بزرگی والا ہے) آتے ہیں۔


اطلاق کی حدود: یہ کلمات کائنات کے مقتدرِ اعلیٰ (Supreme Entity) یعنی صرف اور صرف اللہ رب العزت کے اسمِ مبارک کے ساتھ خاص ہیں۔


لغوی تعبیر: چاہے کوئی شخص "اللہ" کہے، "خدا" کہے، "رب" کہے، یا "مالکِ حقیقی" کہے—اگر بولنے والے کے ذہن اور گمان میں کائنات کا واحد خالق موجود ہے، تو ان اسماء کے فوراً بعد ان کلمات کا لانا ایک تعظیمی اور لغوی ضرورت بن جاتا ہے۔ یہ کلمات ایک "علمی فلٹر" کا کام کرتے ہیں جو خالق کو مخلوق کی صفات سے ممتاز کر دیتے ہیں۔


3. The Scientific and Legal Boundary: The Exclusion of Creation (مخلوقات کی ممانعت)


قانونِ عقل اور سائنسی فکری عمل (Scientific Cognitive Processing) کے تحت، جو صفت یا لقب جس ذات کے لیے مخصوص ہو، اسے کسی دوسرے پر نافذ کرنا گمراہی اور نظامِ توازن کے خلاف ہے۔


انسانوں اور دیگر مخلوقات پر ممانعت: دنیا کا کوئی بھی انسان، کوئی بھی برگزیدہ ہستی، یا کائنات کی کوئی بھی دوسری مخلوق اپنے نام کے ساتھ جَلَّ جَلَالُہٗ یا عَزَّ وَجَلَّ استعمال نہیں کر سکتی۔


وجہ (Reason): یہ کلمات کائنات کی مادی اور عارضی حدود سے پاک ذات کا احاطہ کرتے ہیں۔ چونکہ مخلوق فانی ہے اور اس کی ایک حد ہے، اس لیے مخلوق کے نام کے ساتھ ان القابات کا جوڑنا منطقی اور علمی لحاظ سے بالکل باطل ہے۔ یہ اختیار کسی بھی مخلوق کو منتقل (Transfer) نہیں کیا جا سکتا۔


یہ اس پورے علمی سلسلے کا پہلا بنیادی حصہ (آدھا خلاصہ) ہے، جو خالق اور مخلوق کے درمیان القابات کی پہلی فولادی حد قائم کرتا ہے۔


atOptions = { 'key' : '5738a269dffb1b75776b21727a3b43cc', 'format' : 'iframe', 'height' : 60, 'width' : 468, 'params' : {} }; - />

اب جب کہ اللہ جل جلالہ اور عزوجل کی یہ پہلی تفصیلی بنیاد مرتب ہو چکی ہے، کیا آپ اگلی باری میں اس سلسلے کے دوسرے حصے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، جس میں آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسمِ گرامی (زمین اور آسمان کے نام)، نیت و گمان کی شرط اور درود کی اختصاری آسانی کے اصولوں کو اسی طرح


Labels:

Follow
Facebook X WhatsApp Email